PDA

View Full Version : احمد فراز



  1. یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
  2. یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے
  3. سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
  4. سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
  5. سکوتِ شامِ خزاں ہے قریب آ جاؤ
  6. سکوت بن کے جو نغمے دلوں میں پلتے ہیں
  7. رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لئے آ
  8. دوست بھی ملتے ہیں محفل بھی جمی رہتی ہے
  9. دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
  10. چلی ہے شہر میں کیسی ہوا اداسی کی
  11. چلو وہ عشق نہیں چاہنے کی عادت ہے
  12. جو سادہ دل ہوں بڑی مشکلوں میں ہوتے ہیں
  13. جو بھی قاصد تھا وہ غیروں کے گھروں تک پہنچا
  14. جُز تیرے کوئی بھی دِن رات نہ جانے میرے
  15. جب ملاقات بے ارادہ تھی
  16. تیرا غم اپنی جگہ دنیا کے غم اپنی جگہ
  17. تو پاس بھی ہو تو دل بے قرار اپنا ہے
  18. تم بھی خفا ہو لوگ بھی برہم ہیں دوستو
  19. تپتے صحراؤں پہ گرجا، سرِ دریا برسا
  20. برسوں کے بعد دیکھا اک شخص دلربا سا
  21. بدن میں آگ سی چہرہ گلاب جیسا ہے
  22. اے خدا جو بھی مجھے پندِ شکیبائی دے
  23. اُس کی نوازشوں نے تو حیران کر دیا
  24. اِس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
  25. اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
  26. اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو
  27. اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں
  28. اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون
  29. اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں اِمکاں جاناں
  30. اب تو اس طرح مری آنکھوں میں خواب آتے ہیں
  31. اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم
  32. آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
  33. تمہاری پوروں کا لمس اب تک
  34. وہ شام کیا تھی جب اس نے بڑی محبت سے
  35. فقیرانہ روش رکھتے تھے
  36. میں نے اکثر تمہارے قصیدے لکھے
  37. اے دل ان آنکھوں پر نہ جا
  38. میری بستی سے پرے بھی میرے دشمن ہوں گے
  39. اب کس کا جشن مناتے ہو
  40. کیوں طبیعت کہیں ٹھہرتی نہیں
  41. شعلہ سا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو
  42. تیرا غم اپنی جگہ دنیا کے غم اپنی جگہ
  43. تیری باتیں ہی سنانے آئے
  44. کس طرح ياد کروں کيسے بھلاؤں تجھ کو
  45. دل بھی بُجھا ہو شام کی پر چھائیاں بھی ہوں
  46. میری روح نکلنے والی ھو گی
  47. کتاب دل میں جو نفرت کا باب رکھتا تھا
  48. خود کو پڑھتا ہوں چھوڑ دیتا ہوں
  49. اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
  50. ایک صنم تراش جس نے برسوں
  51. تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
  52. وہ جو آ جاتے تھے آنکھوں میں ستارے لے کر
  53. دل ٹھہرنے دے تو آنکھیں بھی جھپکتے جاویں
  54. کیا ایسے کم سُخن سے کوئی گفتگو کرے
  55. جو غیر تھے وہ اسی بات پہ ہمارے ہوئے
  56. میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
  57. نہ منزلوں کو نہ ہم رہ گزر کو دیکھتے ہیں
  58. آج پھر مجھکو اسکی یاد دلا دی بارش نے
  59. کٹھن ہے راہگذر تھوڑی دور ساتھ چلو
  60. کل رات ہم سخن کوئی بُت تھا خدا کہ میں
  61. يہ عالم شوق کا ديکھا نہ جائے
  62. قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے
  63. اک سنگ تراش جس نے برسوں
  64. زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
  65. دل منافق تھا شب ِہجر میں سویا کیسا
  66. اِس کا سوچا بھی نہ تھا اب کے جو تنہا گزری
  67. ملول کر ہمیں اتنا ملول کر جاناں
  68. کچھ نہ کسی سے بولیں گے
  69. میں مرمٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
  70. دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
  71. سلسلے توڑ گیا وہ سبھی آتے جاتے
  72. اب نہ فرصت ہے نہ احساس ہے غم سے اپنے
  73. ہم سنائیں توکہانی اور ہے
  74. یہ جو سر گشتہ سے پھرتےھیں کتابوں والے
  75. فقیرانہ روش رکھتے تھے
  76. یہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت
  77. سنگدل ہے وہ تو کیوں اس کا گلہ میں نے کیا
  78. تیرے قریب آکے بڑی الجھنوں میں ہوں
  79. ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے
  80. جہاں بھی جانا ہو تو آنکھوں میں خواب بھر لانا
  81. اِن چراغوں کو تو جلنا ہے ہوا جیسی ہو
  82. سناہے۔۔۔۔۔۔
  83. محاصرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  84. دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
  85. ہر دوا، درد کو بڑھا ہی دے
  86. یہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت
  87. احمد فراز کی کتاب دردِ آشوب سے انتخاب
  88. ساقیا ایک نظر جام سے
  89. دشت نا مرادی میں ساتھ کون تھا کس کے
  90. جس طرح کوئ کہے
  91. لفظوں میں فسانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ
  92. شگفت گل کی صدا میں رنگ چمن میں آؤ
  93. اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے
  94. اُ س سے ملنے کو کبھی ہم جو مچل جاتے ہیں
  95. جلا وطنی
  96. آ گلے تجھ کو لگا لوں میرے پیارے دشمن
  97. اب تو وہ بات بھی کرتے نہیں غمخوار کے ساتھ
  98. سائے کی طرح نہ خود سے رم کر
  99. وہ شہر جو ہم سے چھوٹا ہے، وہ شہر ہمارا کیسا ہے
  100. سفید چھڑیاں
  101. طاہرہ کے لئے ایک نظم
  102. نا سپاس
  103. جاؤ!