PDA

View Full Version : احمد ندیم قاسمی



  1. اگر نہ درد میری رُوح میں اُتر جاتا
  2. اک محبت کے عوض ارض و سما دے دوں گا
  3. کسے معلوم تھا اس شے کی تجھ میں بھی کمی ہوگی
  4. اپنے ماحول سے بھی قیس کے رشتے کیا کیا
  5. اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی
  6. طور سے کوئی علاقہ ہے نہ ربط ایمن سے
  7. دشت میں ساتھ چلے تو ہزاروں، جو بھی چلا بیگانہ چلا
  8. مَیں تجھ کو دیکھنے کی تمنا میں چوُر تھا
  9. میری نظر کو حوصلئہ امتحاں نہ تھا
  10. میں دوستوں سے تھکا، دشمنوں میں جا بیٹھا
  11. ہم اندھیروں سے بچ کر چلتے ہیں
  12. جانے یہ محّبت کیا شے ہے، تڑپا بھی گئی، ٹپکا بھی گئی
  13. بگڑ کے مجھ سے وہ میرے لئے اُداس بھی ہے
  14. بھلا کیا پڑھ لیا اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں
  15. ایک پھر سے ہم کو حکمِ انتظار آئے
  16. سخن شناس
  17. تضاد
  18. روح و بدن کے خم و پیچ
  19. داورِ حشر ! مجھے تیری قسم
  20. لّبوں پہ نرم تبّسم رچا کہ دُھل جائیں
  21. شام کو صُبحِ چمن یاد آئی
  22. تاریخ
  23. جب تیرا حکم ملا ، ترک محبت کردی
  24. مجھے کل میرا ایک ساتھی مِلا
  25. ٹوٹتے جاتے ہیں سب آئنہ خانے میرے
  26. قریہِ محّبت
  27. کون کہتا ہے کہ تجھ سی کوئی صُورت نہ ملی
  28. طوفان ہے ہمرکاب میرا
  29. خواب
  30. فشار
  31. فاتحیں
  32. دردِ وطن
  33. چاند
  34. برف کا خوف
  35. ابدیت
  36. میرا اپنا
  37. پتھر
  38. گھبرا کے شبِ ہجر کی بے کیف سحر میں
  39. جب تیرا ظہوُر دیکھتا ہوُں
  40. ہوا لپکتی رہے، میرا کارواں تو چلے
  41. جب چرخ پہ تارے مجھے کرتے ہیں اشارے
  42. رُک گئی عقل و فکر کی پرواز
  43. نہ جانے خال و خد کیوں چھِن گئے ہیں خوش جمالوں کے
  44. مچلتی ہے میری آغوش میں خوشبوئے یار اب تک
  45. صرف اس شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں
  46. اگر نہ درد میری رُوح میں اُتر جاتا
  47. انداز ہو بہو تیری آوازِ پا کا تھا
  48. اندھیروں سے بچ کر چلتے ہیں
  49. بگڑ کے مجھ سے وہ میرے لئے اُداس بھی ہے
  50. خون رسنے لگتا ہے، ان کے دامنوں سے بھی
  51. آئے، کوئی انقلاب آئے
  52. سراہوں گا تیرے مَن مَن کے روُٹھ جانے کو
  53. مروں تو مَیں کسی چہرے میں رنگ بھر جاؤں
  54. میری طرح، کسی کو تو اپنا بنا کے دیکھ
  55. آج کی شب تم نہ آ پائے، مگر اچھا ہوُا
  56. جو اپنی جڑوں کو کاٹتا ہے
  57. میں کہاں ھوُں مِری تنہائیوں! میرے خوابوں!
  58. آپ ہی اپنا تماشائی ہوں
  59. اب تک تو نور و نکہت و رنگ و صدا کہوں
  60. کون کہتا ہے کہ موت آئ تو مر جاؤں گا
  61. کوئی ظالم جو چھُپ کر گا رہا ہے
  62. اے داورِ محشر مُجھے تیری قسم
  63. ہم اندھیروں سے بچ کے چلتے ہیں
  64. تجھ کھو کر بھی تجھے پاؤں جہاں تک دیکھوں
  65. وہ زود رنج تو ہے، وہ وفا شناس بھی ہے
  66. اک لمحہ کو ٹھہر میں تجھے پتھر لادوں
  67. ایک درخواست
  68. کتنے کوسوں پہ جا بسی ہے تو
  69. کبھی جھانکا تری آنکھوں میں تو ہم ہی ہم تھے