PDA

View Full Version : مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی!



گلاب خان
12-21-2010, 03:50 PM
جنوری ۲۰۰۶ءکا وہ فلسطینی انتخاب‘جس نے حماس کو ایک مزاحمتی تحریک کے بجائے منتخبہ عوامی نمائندوں کا درجہ دے دیاتھا۔آج اسے ۵سال مکمل ہونے کو ہیں۔مخالفین سمجھتے ہونگے مسلسل آزمائشوں سے گذرنے کے بعدحماس عوام میں اپنی مقبولیت کھودے گی۔بالکل اسی طرح جیسے امریکی وصہیونی حکمران اقتدار میں آنے کے بعدکھودیتے ہیں اوران کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے کی طرف گرتا چلا جاتاہے۔حالانکہ حماس کو حکمرانی کا موقع بہت کم دیاگیا مگر اس کی عوامی مقبولیت میں اضافہ کا جو حال ہے وہ اس کے ۳۳ویں یوم تاسیس کے موقع پرعوامی جوش وخروش سے ظاہر ہے۔جس وقت حماس نے فلسطینی اتھاریٹی کی زمام کار اپنے ہاتھوں میں لی تھی اس وقت بھی اس کا انداز جداگانہ تھا۔وہ اپنے سیاسی حریف الفتح کو اقتدار میں شرکت کی دعوت دے رہی تھی‘اُس نے اس حقیقت کو فراموش کبھی نہیں کیا کہ الفتح ہویا حماس اصل دشمن اسرائیل کے خلاف انہیں متحد رہنا ہوگا۔اور یہ اتحاد ہی ایک خواب بن گیا۔جس کی تعبیر برعکس ہی نہیں بھیانک بھی ثابت ہوئی۔الفتح کے سابق وزراءجاتے جاتے دفتروں سے فرنیچر اوراسٹیشنری کا سامان ہی نہیں چائے کے برتن تک اپنے ساتھ لے گئے۔امریکہ واسرائیل نے فلسطینی اتھاریٹی کو اس ٹیکس سے محروم کردیا جو فلسطینی عوام سے حاصل کیا جاتاتھا۔دنیا بھر سے فلسطینیوں کے لئے امداد کے دروازے بند کر دئے گئے۔جب کہ محمودعباس کی سیکوریٹی ۶۰لاکھ ملین ڈالرخرچ کئے جارہے تھے۔حماس کے بالمقابل محمد دحلان کی سربراہی میں باقاعدہ ایک سیکوریٹی قائم کی گئی۔اب حماس بالمقابل اسرائیل کی بجائے ۔حماس بالمقابل الفتح کا منظرنامہ تیارکردیاگیا۔دحلان کے سیکوریٹی اہلکار اپنے ہی عوام کے خلاف سرگرم رہے۔رفاہی اداروں،اسکولوں،مسجدوں اوریتیم خانوں کو نشانہ بنایاجاتارہا۔اسرائیل نے اس نام نہاد سیکوریٹی کو جو ہٹ لسٹ تیارکر کے دی ‘اُس میں نمائندہ وزیراعظم اسماعیل اورحماس کے سیاسی سربراہ خالد مشعل کے نام سرفہرست تھے۔حماس نے بھی اپنا دفاع کیا مگر اُس کے حملوں کا رخ یہودی بستیوں کی جانب ہی رہا۔وہ فلسطینی عوام کو یاد دلاتی رہی کہ اُن کا اصل دشمن کون ہے!۱۵جون تک سلام فیاض کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پربٹھا دیاگیا اور حماس کی منتخبہ حکومت کو برطرف کردیاگیا۔دیکھا جائے تو۱۹۴۸ءمیں اسرائیل کے ناجائز قیام اور۱۹۶۷ءکی عرب اسرائیل جنگ کے بعد یہ فلسطین کی تاریخ میں سب سے بڑا سانحہ تھا۔پھر بھی حماس کا موقف یہی رہا کہ ہم کسی سے بدلہ نہیں لیںگے!اسکے باوجودمغربی کنارہ میں حماس کے کارکنان کو نشانہ بنایا جاتارہا۔سلام فیاض کو ۳۰دن کے اندراعتماد کا ووٹ حاصل کرنا دستوری تقاضہ تھا مگر سب کچھ بالائے طاق رکھ اُنہیں حکمرانی کا موقع حاصل رہا۔اوردستوری‘قانونی اور جمہوری انداز سے منصفانہ طریقہ پر اقتدار حاصل کرنے والوں کی برطرفی کو برقرار رکھاگیا۔اوراسرائیلی سربراہ محمودعباس کو اپنے مہرے کے طور پر جس طرح چاہے استعمال کرتے رہے۔حالانکہ خوداسرائیلی فوجی انٹلی جنس کے سربراہ (شلوموگازیٹ)عرصہ پہلے کہہ چکے ہیں کہ الفتح اورابومازن(محمودعباس)تاریخ کے کوڑے دان کاحصہ بن چکے ہیں۔ہمیں کسی ایسی فلسطینی قیادت پربھروسہ نہیں کرنا چاہیے جسے مستقبل بہت پیچھے چھوڑآیاہو۔“ہو سکتا ہے صہیونی قیادت اس سے بہترکوئی مہرہ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی ہو۔اورابومازن کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ وقت بے وقت صہیونی ڈرامہ بازیوںکا حصہ بنتے رہیں اورمختلف بیانات کے ذریعہ خود کو فلسطینی صدرثابت کرتے رہیں۔حماس نے اپنی پہچان انتفاضہ کے ذریعہ بنائی تھی۔جس نے فلسطینی بچے بچے کو ابابیل صفت بنا کر رکھ دیاہے۔اُن ابابیلوں کی طرح جوابرہہ کے لشکر کو نیست ونابود کرنے آئی تھیں۔اب تک حماس نہ صرف انتفاضہ کے مزیددوادوار سے گذرچکی ہے بلکہ دنیا کے بدترین محاصرہ بلکہ مقاطعہ کی خلیج بھی پار کر آئی ہے۔دیوار برلن کی لمبائی ۱۵۵کلومیٹر تھی اور یہ صرف ۱۱فٹ بلند تھی جب کہ غزہ کے باشندوں کو۶۵۰کلومیٹر طویل اور۲۵فٹ بلنددیوار پرمشتمل جیل میںقید کردیاگیا ہے ۔دوسال قبل وہ اسرائیلی جارحیت وسفاکی کے ایک اورمرحلہ سے گذرچکے ہیں۔جس نے ۱۳سو سے زیادہ معصوم‘فلسطینیوں کی جانیں لے لی تھیں۔غزہ کو دنیا سے ملانے والے کل ۶راستے ہیں جن میں سے ۵براہ راست اسرائیل کے قبضہ میں ہیں اورچھٹا یعنی رفح کراسنگ جواسے مصر سے جوڑتا اس کے دونوں جانب اہل ایمان ہیں۔ایک ہی عقیدہ اورنسل سے تعلق رکھنے والے۔مگرامریکی صہیونی دہشت گردی کی وجہ سے ایک طرف ۱۵لاکھ کی آبادی جو دنیا کے بدترین قیدخانے میں محبوس ہے بنیادی ضروریات بھی اپنے بھائیوں سے حاصل نہیں کر سکتی۔آبادی کے اعتبار سے غزہ کا شماردنیا کے گنجان ترین علاقوں میں ہوتا ہے مگراس کے باشندے کسی جیل کے اندر موجود ملزموں سے بھی بدترسلوک جھیل رہے ہیں۔مگر ان تمام اذیتوں میں ان کی قیادت ان کے ساتھ شریک ہے۔اُس وقت جب اس قیادت کے پاس صفائی کے عملہ کو دینے کے لئے تنخواہیں نہیں تھیں تو وزیر اعظم ھانیہ صفائی کے لئے خود سڑکوں پراترآئے تھے۔اورمشرق وسطیٰ سربراہ کانفرنس میں جب دیگر عرب حکمران یومیہ ایک ہزار امریکی ڈالر والے ہوٹلوں میں قیام فرما رہے تھے فلسطینی رہنما یومیہ ۷۰ڈالر کرائے کے ہوٹلوں میں مقیم تھے۔
دُنیا بھر میں غزہ کے محاصرہ کو توڑنے کےلئے احتجاج جاری ہے۔اس ضمن میں کشتیوں کے ذریعہ امداد کا سلسلہ بھی نیا نہیں تاہم ترکی نے فریڈم فلوٹیلا بھیج کرسرکاری سطح پر ایک جرا¿ت مندانہ اقدام کی مثال قائم کی ہے۔جس کے اثرات بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔آپ کو یا دہوگا کہ موریطانیہ میں غزہ کے محاصرہ کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسی خاتون بھی سڑک پراترآئی تھی جس کے بچہ کی ولادت کو صرف تین دن ہوئے تھے۔اس دوران حماس کوالقاعدہ سے جوڑنے کی مذموم کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں۔البتہ صہیونی جنونیوںکو بار بار اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ فلسطین میں اسلامی بیداری کی لہر دن بہ دن مضبوط ہو رہی ہے۔حماس کے سربراہ آج بھی یہی کہتے ہیںکہ ہم اپنے عوام سے یہ سوال نہیں کریں گے کہ اُنہیں روٹی چاہیے یا نہیں بلکہ یہی پوچھیں گے کہ ”اسرائیل کا ناجائز وجود تسلیم کیا جائے یا نہیں؟“اوراس بنیادی سوال پر اہل غزہ ہی نہیں سارے عالم اسلام کا ایک ہی جواب اور وہ نفی میں ہے !محمود عباس صرف ارشاد فرماتے رہیں کہ اگر مسجد اقصیٰ منہدم ہوجاتی ہے تو اس کی ذمہ داری اسرائیل پرہوگی۔اُن کے ساتھ وہ سارے عرب حکمران بھی شامل ہیں۔جب کہ عرب عوام کا نعرہ :وَلاَ یَھ±مک فلسطین۔کُلّنَاصلاح الدین (غم نہ کرواہل فلسطین ہم میں سے ہر ایک صلاح الدین ہے)کہتے ہیں صلاح الدین ایوبیؒ سے کسی نے سوال کیا تھا کہ ”آپ مسکراتے کیوں نہیں؟“اُنہوں نے کہا ”میں کس طرح مسکرا سکتا ہوں جب کہ القدس صلیبیوں کے قبضہ میںہے۔“اورآج عرب حکمران نہ صرف مسکراتے اورہنستے ،بلکہ صہیونیوں کے ساتھ مل کر قہقہے لگاتے نظرآتے ہیں۔وہی حکمراں جن کے آباءواجداد میں ایک زہیر بن اُمیہ بھی تھا جو اپنی تمام ترمخالفت کے باوجودشعب ابی طالب میں اہل ایمان کے محاصرہ سے تڑپ اٹھاتھا۔اُس نے قریش سے خطاب کرتے ہوئے کہاتھا ”یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم تو انواع واقسام کے کھانے کھائیں‘طرح طرح کے کپڑے پہنیںاور بنی ہاشم ہلاک ہوتے رہیں۔“آج کے عرب حکمرانوں میں کوئی صلاح الدین ایوبیؒ توخیرزہیر بن اُمیہ تک نہیںہے۔مگرہمیں یقین ہے کہ منہدم ہوتی مسجد اقصیٰ کودیکھ کر قہقہے لگانے والے تاریخ کے لئے قہقہوں کا موضوع بن کر رہ جائیںگے۔صہیونی دانشورتسلیم کر چکے ہیں کہ ”مشرق وسطیٰ اب وہ مشرق وسطیٰ نہیں رہا“اورحماس کے بانی شیخ احمد یاسینؒ کے یہ الفاظ بھی صداقت کی جانب بڑھتے نظر آنے لگے ہیں۔کہ ”۲۱ویں صدی کی پہلی چوتھائی میں ہمارا جہادی سفر نصرتِ الٰہی کی منزل کوپالے گا!‘