PDA

View Full Version : ’صارف حیوان‘نہیں ’انسان ‘بنائیے



گلاب خان
12-21-2010, 03:52 PM
علوم دوطرح کے ہوتے ہیں علوم قیادت اور علوم خدمت۔علوم قیادت کے ماہر،خدمت توکر سکتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیںہے کہ علوم خدمت کے ماہرین،قیادت کے فرائض بھی انجام دے سکیں۔میڈیکل سائنسیز ،انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے تمام شعبے علوم خدمت میں شامل ہیں۔ڈاکٹر انصاری،ڈاکٹر فریدی،مہندس بازرگان اور نجم الدین اربکان وغیرہ کی مثالیں استثناءمیں سے ہیں۔البتہ تہذیب ،تمدن ،تعلیم اور تاریخ،فلسفہ اور قانون ،میڈیا اور سیاست ،معاشرتی علوم اور اقتصادیات ....یہ سب کے سب قیادت کے علوم ہیں۔ان میں سے تعلیم وتدریس اور میڈیا تو خدمت اور قیادت دونوں شعبوں پرمحیط ہے۔ان علوم کے ماہرین کی ذمہ داری دوسروں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے ۔اس روشنی میں اب آپ خود ہی فیصلہ کیجئے کہ بعض خود ساختہ ماہرین تعلیم اوربعض برخود غلط صحافی اورایسے اخبار جومحض پیسہ کمانے کی مشینیں ہیں یہ سب مل کر ملت کے تمام ہونہاروں کو ،بس ڈاکٹر،انجینئر،آئی اے ایس یا ایم بی اے بنا دینے کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔آخر یہ سب رہنمائی کے کون سے درجے پرفائز ہیں؟یہ رہنما ہیںیارہزن؟یہ ملت کی خدمت کر رہے ہیںیا....؟کہیںیہ لوگ ایسے عناصر کے ہاتھوں میں کھیل تونہیں رہے ہیں جو ملت کو اچھی اوربے لوث قیادت سے محروم ہی رکھنا چاہتے ہیں؟
ہم کسی مسلم نوجوان کے ڈاکٹر انجینئریا آئی اے ایس وغیرہ بننے کے خلاف نہیںہیںاگر کوئی شخص واقعی اور حقیقی جذبہ خدمت ، کے ساتھ اور’بے لوث خدمت کی لگن‘کے ساتھ ان شعبوں میں جانا چاہتا ہے توضرورجائے۔لیکن مشکل تو یہی ہے کہ آج درس وتدریس کا شعبہ تک کمرشیلائزڈہوچکا ہے اور تجارتی ذہنیت اس پرپوری طرح غالب آچکی ہے۔ایسی حالت میں ڈاکٹر اورانجینئرزکوہم کیا کہیں کہ جن کی اکثریت اب پیسہ کمانے اوربہت جلدی ڈھیروں پیسہ کمالینے کی مشین ہو کر رہ گئی ہے۔ٹیچرزاسکولوں اورکالجوں میںپڑھانے اوراپنے طلباءپرقرار واقعی محنت کرنے کے بجائے”کوچنگ“کا دھندہ کر رہے ہیں۔سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹرز،مریضوں کو دیکھنے اور پوری دیانت داری کے ساتھ انہیں اسی جگہ ہرممکن سہولت بہم پہنچانے کے بجائے،پرائیویٹ پریکٹس نرسنگ ہومز کاکاروبار اور....پیتھالوجی لیباریٹریزکاریکٹ چلا رہے ہیں۔جہاں ٹیسٹ ،ایکسرے اور سونوگرافی وغیرہ وغیرہ کے لئے مریضوں کو بھیجنے والے ڈاکٹروںکو۲۰سے ۶۰ فیصدتک کمیشن ملتاہے۔وہ انجینئرزتواپنے کو خوش قسمت ہی سمجھتے ہیں جنہیں پی ڈبلیوڈی جیسی ’دست غیب‘والی سرکاری نوکریاں مل جاتی ہیں یاپھر وہ جوپرائیویٹ سیکٹریاملٹی نیشنل کمپنیوں سے منسلک ہوجاتے ہیں۔ویسے ہم نے آٹوموبائیل انجینئروں کوٹیکسیاں چلاتے دیکھاہے۔کشمیراورکرناٹک دوایسی ریاستیں ہیںجہاں بے روزگار انجینئروں کی تعدادسب سے زیادہ ہے۔کشمیر میںتوخیر ڈاکٹرزبھی مارے مارے گھومتے ہیں۔البتہ وہاں تعلیم یافتہ نوجوانوں ڈاکٹروں اورانجینئروں وغیرہ کی بے روزگاری کے ا سباب دوسری ریاستوں سے کچھ مختلف بھی ہیں لیکن مشترکہ اسباب میں سے ایک خاص سبب یہی ہے کہ خدمت کاجذبہ سرے سے ناپیدہے۔اب ہر ڈاکٹرکوبڑے شہر کے اسپتالوں میں اورہرانجینئرکو’ملائی والی‘سرکاری نوکری تومل نہیں سکتی پھر اب تو ایک اوررجحان بھی ہے۔’ملائی والی ‘سرکاری نوکریوں کے ’ریٹ‘بندھے ہوئے ہیں۔’کمانا‘ہے توپہلے ’خرچ‘کیجئے۔ورنہ اگررشوت لینے کے لئے رشوت دے کے نہ پڑھا ہو اورخدمت کا جذبہ ہوتوڈاکٹروں اورانجینئروں کے لئے
زمین اوربھی آسمان اور بھی ہیں
یہاں تو ساری مشکل یہی ہے کہ جس نے ہزاروں (اوربعض معاملات میں بلاخوف ترویدلاکھوں)روپئے خرچ کر کے ایڈمیشن لیاہے اورلاکھوں خرچ کر کے پانچ سال پڑھا ہے وہ ”خدمت“میں سرکیوںکھپائے۔اسے تواپنی پوری رقم مع سود کے واپس چاہیے اور وہ بھی جلد ازجلدبدقسمتی سے مسلمان بھی خودغرضی،رشوی خوری اورجلدازجلددولت مندبن جانے کی خواہش رکھنے والے اسی قومی دھارے کاایک حصہ ہی توہیں۔حالانکہ انہیں اس قومی دھارے میںقطعاً نہیں ہونا چاہئے مگرہیں۔اور سول سروسیزتوہمارے نزدیک موجود سیاسی ڈھانچے اوراس کے مقررہ کردہ تربیتی نظام کے تحت مسلمانوں کے لئے قطعاًنامطلوب چیز ہے وہا ںتوپہلا سبق یہ سکھایاجاتا ہے کہ ”اچھاافسربننے کے لئے ضروری ہے کہ عوام کے ساتھ پورا پورا فاصلہ برقرار رکھا جائے“اوراپنے نوکروں،اردلیوںاورچپراسیوں کوان کا نام لینے کاگناہ کرنے کے بجائے”کوئی ہے “کی صدالگا کر بلایا جائے۔صرف ہائی سوسائٹی سے کام رکھا جائے،مڈل کلاس اورلور،مڈل کلاس سے رابطے یا دوستی کوہمیشہ گناہ عظیم سمجھا جائے۔اور دوسرا سبق یہ ہے کہ کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ برابرہوتے ہیں۔
Some People are more equal than others.
۶دسمبر۱۹۹۲ءکودہرہ دون کی آئی اے ایس افسروں کی تربیت گاہ میں مٹھائیاں بانٹی گئی تھیں اور ایک دوسرے کو مبارک باددی گئی تھی۔ویسے بھی یہ سروس(یعنی آزادی سے قبل والی آئی سی ایس)برٹش امپائر کے مفادات کی نگرانی بلکہ ان کا تحفظ کے لیے سفیدفام افسرمہیاکرنے کی غرض سے بنائی گئی تھی۔یہی گورا صاحب بعد میں”کالا صاحب‘بن گیا لیکن رہا وہ’صاحب‘ہی۔کالوں پرحقارت کے ساتھ حکمرانی کرنے والا گورا صاحب تاج برطانیہ اور وائسرائے کا خادم بلکہ غلام ہواکرتاتھا۔یہ آئی اے ایس والا”کالا صاحب“سیاسی حکمرانوں کے تلوے چاٹنے،ان کی جوتیاں سیدھی کرنے اوران کے چشم وابروکے اشاروں پرنظررکھنے والے افسرکا رول ادا کرتا ہے اوراب تو سیاسی حکمرانوں کی جگہ جاہل اورجرائم پیشہ افراد نے لے لی ہے۔ لیکن افسر اسی طرح ان کے پیچھے دم ہلاتا گھومتارہتاہے۔آئی اے ایس کاپیشہ تو ڈاکٹروں اور انجینئروں سے بھی گیاگزراہے۔اگر ڈاکٹراب’مسیحا‘کے بجائے ’مہاجن‘بن چکے ہیں اور انجینئرمحض پیسہ کمانے والی ایک مشین (جہاں جائز یا ناجائز کی کوئی تفریق نہیں ہوتی)لیکن ڈاکٹر،نئے کمرشیل اصولوں ہی کے تحت صحیح،عزت نفس کے ساتھ ایک’آزاد زندگی‘توجیتا ہے۔آئی اے ایس بے چارہ تومنافقت والی دوہری زندگی جینے پرمجبورہے۔یعنی....غریب جنتاپرحکمرانی لیکن سیاسی آقاو¿ں کی غلامی والی شرمناک زندگی!اب استثنائی مثالیں توڈھونڈڈھانڈ کے ہر جگہ تلاش کی جا سکتی ہیں،یہاں بھی ہیں اور ہمیں بھی معلوم ہیں۔ہم ایسے لائق دیانت دارمنصف مزاج اورخدمت کاجذبہ رکھنے والی آئی اے ایس اورآئی پی ایس افسروں کوجانتے ہیں جن کا پوراسروس کیرئیر محض تبادلوں سے عبارت ہے۔وہ ہر سال چھ مہینے بعدایک محکمے سے دوسرے محکمے اورایک شہر سے دوسرے شہرمارے مارے پھرتے رہتے ہیں۔کچھ مستثنیات یہاں بھی ہیں۔لیکن اتنی کم کہ انہیں انگلیوں پرگنا جا سکتا ہے۔ظاہر ہے کہ کسی نظام کی مشین کاپرزہ بنی ہوئی یہ استثنائی مثالیں اس سڑے گلے نظام کوبدل تھوڑی سکتی ہیں۔
ویسے ہم آپ کو بتادیں کہ گذشتہ ۲۵سال کی اپنی عملی زندگی کے دوران جتنے مسلمان آئی اے ایس افسروں سے ہمیں سابقہ پڑایا جنہیں ہم نے قریب سے دیکھا ہے ان میں ہمیں ایک بھی استثناءنہیں ملا۔سب کے سب اپنے سفیدفام پیش روو¿ں کی ’پیروڈی‘ہی تھے۔
آئی اے ایس کیڈرکے افسران بدعنوانی کے گندے تالاب میںغوطے لگانے میں بھی اپنے سیاسی آقاو¿ں سے پیچھے نہیںہیں۔صرف اترپردیش میں مٹھی بھرنوجوان آئی اے ایس افسروں کی ایک ایسوسی ایشن نے بدعنوان آئی اے ایس افسروں کی اکثریت کے خلاف کئی سال سے مہم چھیڑرکھی ہے۔اگرچہ اپنی سینئرز کی بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والے سبھی جونیئرافسروں کی نیت ایک سی نہیں ہے ان میں سے کئی توصرف اس لئے اس تنظیم میں شامل ہیں کہ سینئرافسر ساری ملائی خوکھاجاتے ہیں۔ظاہر ہے کہ پوری ملک میںپھیلے ہوئے آئی اے ایس کیڈر میں ایسے دیانت دارافسروں کی تعدادشاید دال میںنمک سے بھی کم ہے۔
آئی اے ایس افسروں کے شیر ہونے کا ایک سبب جواب دہی اورسزا کے صحیح نظام کافقدان بھی ہے۔تربیت کے دوران ہی افسروں کوسکھادیاجاتا ہے کہ وہ مطمئن رہیں۔سیاسی حاکم توآتے جاتے رہتے ہیں،اصلی حاکم تو وہی ہوتے ہیں اور یہ کہ”تبادلے سے بڑا ہتھیار ان کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتا۔“(اس جگہ بھی کچھ استثنائی مثالیں۵۰سال کی تاریخ میں بے شک مل جائیں گی لیکن ان سے اس کلئیے پرکوئی اثر نہیںپڑتا)۔
اس لئے ضروری یہ ہے کہ بھیڑچال چلنے سے پرہیز کیجئے۔اوراپنے بچوں کو کچھ بھی بنانے سے پہلے انہیں ایک اچھا انسان بنائیے۔ان میںبے لوثی،بے غرضی ،ایثار اورقربانی کی صفات پیدا کیجئے۔انہیں’خدمت کی عظمت ‘بتائیے۔اور خدمت کرنا سکھائیے۔لیکن حرام کی کمائی سے ہزاروں یالاکھوںروپئے ڈونیشن دے کر ایڈمیشن نہ کرائیے ورنہ آپ جیسابوئیںگے ویسا ہی کاٹےں گے۔ رشوت کے بیج سے رشوت ہی کاپھل برآمد ہوگا۔
اپنے بچوںکو مقابلے کی اس دنیا میں مقابلہ کرکے زندہ رہنے کاگُرسکھائیے،انہیں ایسا بنائیے کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے بل پرمیڈیکل یا انجینئرنگ یامینجمنٹ کے شعبوں میں داخلہ حاصل کرسکیںتوکریں۔انہیں بہرحال ایسابنائیے کہ وہ کامیابی کے بعدمحض پیسہ کمانے کی مشین بن کے نہ رہ جائیں اور سماجی طور پر بے حس وبیمار اور اخلاقی طور پرمریض۔’اپرکلاس‘کہے جانے والے آلوگی زدہ طبقے کا سڑا ہوا انگ نہ بن جائیں۔
اورسب سے بڑھ کر ان کے اندردین کی جڑیں شروع ہی سے مضبوط رکھئے۔دین کے بغیر حکومت اوردین کے بغیر سیاست اور دین کے بغیر اقتصادیات والے تصورکا ....اسلام سے کوئی واسطہ نہیںہے۔دین کی ڈھال فراہم کئے بغیرہم اپنے بچوں کو دنیا کے میدان میں اتارکران کی آخرت کوتوخراب کرہی رہے ہیں۔ان کی دنیا بھی برباد کیے دے رہے ہیں۔
سوامی اگنی ویش نے لکھنو¿ کے ایک مسلم تعلیمی ادارے کے سالانہ جلسے میںمہمان خصوصی کی حیثیت سے تقریرکرتے ہوئے چندسال قبل کہاتھا کہ”میںنے اپنے پیش رو مقررین سے گیان اورشکشا کی بہت باتیں سنیں لیکن جو باتیں میںآپ سے یہاں سننے آیاتھا۔مجھے افسوس ہے کہ وہ مجھی کوآپ سے کہنی پڑرہی ہیں۔ہمارے پردھان منتری شری نرسنگھ راو¿ جی(اس وقت وہی وزیر اعظم تھے اب ان کا بھی انتقال ہوچکاہے)بہت بڑے عالم ہیں۔کہا جاتا ہے کہ وہ سترہ بھاشاو¿ں کے گیانی ہیں۔لیکن یہ گیان انہیں اچھا انسان اور اچھاحکمراں نہ بنا سکا۔اس لئے آپ سے میری ونتی ہے کہ اپنے بچوں کواُچ شکشا(اعلیٰ تعلیم )ضروردیجئے لیکن اس سے پہلے انہیں ایک اچھا اورایماندار انسان بنائیے ورنہ کیول،اُچّ شکشا ان کے کسی کام نہ آئے گی۔“
بس یہی بات ہم بھی آپ سے کہناچاہتے ہیں۔آپ صرف علوم خدمت کے پیچھے نہ بھاگئے علوم قیادت کی طرف بھی آئیے۔میڈیابلاشبہ علوم قیادت میں سے ایک طاقتورعلم ہے جسے اچھے اورمخلص لوگوں کی سخت ضرورت ہے۔اس وقت میڈیا پربھی سیاست کی طرح بدعنوان اورپڑھے لکھے جاہلوں کاقبضہ ہے اس لئے آئیے....سب سے پہلے اپنے بچوں کو اچھا انسان اوراچھا شہری بنائیے۔جو خدمت کے لائق ہوں انہیں علوم خدمت ضرور سکھائیے۔لیکن اپنے بہترین دماغوں اور اعلیٰ کرداروالے نوجوانوں کو علوم قیادت کی طرف مائل کیجئے۔دولت کی ہوس اپنے دلوں سے بھی نکالئے اوراپنے بچوں کو بھی اس مادی دنیا میں محض ایک صارف حیوان“Consumerist Animalنہ بنائیے۔

ساجد تاج
12-16-2012, 10:31 PM
جزاک اللہ خیرا
شیئرنگ کے لیے شکریہ