PDA

View Full Version : غزل



گلاب خان
12-21-2010, 03:59 PM
کتنے رنگین نقابوں میں دبا رکھا ہے

زندگی نے ہمیں خوابوں میں دبا رکھا ہے

خواہشیں چین سے جینے نہیں دیتیں لیکن

ہم نے اُن سب کو شرابوں میں دبا رکھا ہے

اِس تبسم کی نزاکت یہ گماں ہو تا ہے

جیسے ہو نٹوں کو گلابوں میں دبا رکھا ہے

ہم نے بانٹا ہے خزانوں کی طرح یاروں میں

علم کو تم نے کتابوں میں دبا رکھا ہے

تانیہ
12-21-2010, 04:15 PM
بہت خوب شیئرنگ ہے

این اے ناصر
03-31-2012, 01:34 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ