PDA

View Full Version : مضائقہ نہیں کوئی جو پھل ہی کاٹ دیا



گلاب خان
12-21-2010, 04:07 PM
مضائقہ نہیں کوئی جو پھل ہی کاٹ دیا

شجر تمام مگر بے محل ہی کاٹ دیا

ملا تھا وقت ہمیں ’ وقفۂ صفر‘ کی طرح *

جھجک جھجک کے یہ انمول پل ہی کاٹ دیا

اڑ ان بھر نے کا موقع نہیں دیا اس نے

جوازِ شہپری پہلے پہل ہی کاٹ دیا

معلقات کو دیمک تمام چاٹ گئی

سخن کا دعویِ ضرب المثل ہی کاٹ دیا

چلو سنبھال لیا خاکسار کو اس نے

انا پرست سے روزِ ازل ہی کاٹ دیا

ہم اپنی شرط پہ رد و قبول کرتے ہیں

جو کاٹنا تھا ببا نگِ دہل ہی کاٹ دیا

غزل تو خیرؔ جنابِ مدیر نے چھاپی

ملال یہ ہے کہ بیت الغزل ہی کاٹ دیا

تانیہ
12-21-2010, 04:14 PM
واہ....

این اے ناصر
03-31-2012, 01:35 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ