PDA

View Full Version : دلدل تھی زندگی کی سو دھنستا چلا گیا



گلاب خان
12-21-2010, 04:08 PM
دلدل تھی زندگی کی سو دھنستا چلا گیا

اور اپنی بے بسی پہ میں ہنستا چلا گیا

اک نو بہارِ حُسن کی آمد سے دل کا شہر

اُجڑا ہوا دیار تھا، بستا چلا گیا

پہلے دکھا رہا تھا مجھے منزلوں کے خواب

پھر میرے سامنے سے وہ رستہ چلا گیا

میں رو پڑا تھا جس کی جدائی کو سوچ کر

وہ شخص میرے حال پہ ہنستا چلا گیا

میں خود لپٹ گیا تھا جسے دوست جان کر

وہ سانپ کی طرح مجھے ڈستا چلا گیا

٭٭٭

کہاں جھکائی ہے ہم نے جبیں خدا جانے

خیالِ محض ہے یا ہے یقیں خدا جانے

دلوں کے بیچ جو دوری روا سمجھتا ہو

کہیں ہے ایسا خدا، یا نہیں خدا جانے

یہ کس کا سنگ جڑا ہے مِری انگوٹھی میں

ہے کس کے ہاتھ میں میرا نگیں خدا جانے

خدائے عرش نشیں سے مجھے نہیں مطلب

مرا مزاج مرا دلنشیں خدا جانے

قدم قدم پہ مجھے سانپ مل رہے ہیں ترابؔ

کہا ں کہاں ہے حدِ آستیں خدا جانے

٭٭٭

تانیہ
12-21-2010, 04:13 PM
بہت خوب

این اے ناصر
03-31-2012, 01:35 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ

سیما
05-02-2012, 04:07 AM
شکریہ اپکا اچھا لکھا اپ نے

نگار
08-24-2012, 11:16 PM
پہلے دکھا رہا تھا مجھے منزلوں کے خواب
پھر میرے سامنے سے وہ رستہ چلا گیا

میں خود لپٹ گیا تھا جسے دوست جان کر
وہ سانپ کی طرح مجھے ڈستا چلا گیا

خدائے عرش نشیں سے مجھے نہیں مطلب
مرا مزاج مرا دلنشیں خدا جانے


بہت ہی خوبصورت اور لاجواب
بہت بہت شکریہ بہترین شاعری ارسال کرنے پہ