PDA

View Full Version : کراچی سانحہ: چھالیس افراد جاں بحق



سید انور محمود
05-15-2015, 10:04 AM
تاریخ:15 مئی، 2015

1773
کراچی سانحہ: چھالیس افراد جاں بحق
تحریر: سید انور محمود


دنیا کا کوئی بھی مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ حالت جنگ میں بھی عورتوں، بچوں اور مریضوں پر حملہ کیا جائے، دہشتگردی اور من مانی شریعت کا اسلام سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ سفاک دہشتگردوں نے 16 دسمبر 2014ء کو پشاور میں معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلی اور اب 13 مئی 2015ء کو کراچی میں اسماعیلی برادری کے بے گناہ لوگوں کو قتل کیا۔کراچی میں صفورہ چورنگی کے قریب ہونے والی دہشتگردی بلوچستان میں ہونے والی دہشتگردیوں کے انداز میں کی گئی ہے۔ اس دہشت گردی میں شقی القلب شارپ شوٹرز نے صرف چند منٹ میں اسماعیلی برادری کے معصوم اور بے ضرر لوگوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا ، ابتک کی اطلات کے مطابق بیس سے ستر برس تک کی عمر کے 46 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق دہشتگردوں نےتمام افراد کو قریب سے گولیاں ماریں اور تمام جاں بحق ہونے والوں کےسراور سینے میں گولیاں لگیں، جاں بحق ہونے والوں میں سے 25 افراد کو ایک سے زائد گولیاں ماریں گیں۔ اسکے علاوہ اس سانحہ میں جاں بحق افراد کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق دو مردوں اور ایک خاتون کےسراور چہرے پر گہرے کٹ لگے ہوئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشتگردوں نے اپنی کارروائی کے دوران تیز دھار آلے کا بھی استعمال کیا۔

پاکستان کا قیام اور برصغیر میں مسلم قومیت کے تشخص کی بازیافت میں بھی ہمارۓ ان اسماعیلی بھائیوں کا ہم پر احسان ہے۔ سر آغا خان جن کا تعلق اسماعیلی مسلک سے تھا، ان کے تذکرۓ کے بغیر ہمارۓ ملی تشخص کی بقا اور قیام پاکستان کا تصور ایسے ہی ہے جیسے نیوٹن کے بغیر طبیعاتی حرکیات کے نظریات۔ 13 مئی سےپہلے بھی کئی مرتبہ اسماعیلی برادری پر دہشتگرد حملے ہوچکے ہیں اور 13 مئی کو ایک بار پھر ان لوگوں نے دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں اپنے لہو کا خراج دے کر اپنے جذبہ حب الوطنی اور پرامن تعارف کا عملی ثبوت دیا ہے۔ ساؤتھ ایشیاء ٹیررازم پورٹل کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں گذشتہ دس سال کے دوران دہشتگردی اموات میں 748 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔2015ء میں کراچی سانحہ سے قبل 3 مئی تک 225افراد جن میں عام اور سیکوریٹی ادارئے کے لوگ شامل ہیں جاں بحق ہوئے، جبکہ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے 980 دہشتگرد مارئے گئے ہیں۔ اس رپورٹ میں کراچی میں بس پر فائرنگ واقعہ میں46افراد کی ہلاکتوں کے تناظر میں لکھا ہوا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی سے متعلق واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی۔

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق گذشتہ 13سالوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر 30کھرب سے زائد رقم خرچ کرنے کے باوجود صوبائی دارالحکومت کراچی سمیت سندھ بھر میں امن و امان کی بدترین صورتحال ہے۔ صوبہ میں پیپلزپارٹی کے سات سال سے زائد کے دور اقتدار میں سندھ میں امن و امان کے قیام کیلئے22کھرب20ارب روپےمختص اور خرچ کیے جاچکے ہیں تاہم امن و امان کا قیام عمل میں نہ آسکا۔ رواں مالی سال 2014-15میں امن و امان کے قیام کیلئے 50ارب روپے سے زائد رقم صوبائی حکومت کی جانب سے مختص کی گئی تھی جبکہ گزشتہ مالی سال میں اس مد میں 45ارب روپے سے زائد رقم مختص کی گئی تھی ۔ صوبہ میں امن و امان کیلئے قومی خزانے سے اتنی زیادہ رقوم خرچ کیے جانے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے ناکام رہے ہیں ۔کراچی میں دہشتگردی کی ایک سے زیادہ وجوہات ہیں جن سے نمٹنا پولیس کے بس کی بات نہیں رہی کیونکہ اہلکار اور افسروں کی شناخت کارکردگی سے زیادہ سیاسی ہوکر رہ گئی ہے اور جبتک پولیس کو غیر سیاسی نہیں کیا جاتا صوبہ اور خاص طور پر کراچی میں امن کا قیام ناممکن ہے، اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ سندھ پولیس سیاسی ریشہ دوانیوں کا شکار، جدید تربیت سے نابلد، وسائل کی کمی اور کرپشن کے باعث ایک ناکارہ ادارہ بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ رینجرز کو کراچی میں امن عامہ برقرار رکھنے کی ذمہ داریاں دی گیں لیکن رینجرز بھی اب تک دہشتگردی پر قابو نہ پاسکی ہےشاید اسکی وجہ یہ ہو کہ رینجرز اور سول انتظامیہ بظاہر ایک دوسرئے کے ساتھ نظر نہیں آتے۔ کراچی کےعوام دہشتگردی، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور اسٹریٹ کرائم سے تنگ آچکے ہیں، ایسے حالات میں صفورہ چورنگی پر ہونے والے سانحہ نے پورئے کراچی کو مزیدخوف زدہ کردیا ہے۔

تفتیشی اداروں کاماننا ہے کہ لشکر جھنگوی اور تحریک طالبان کراچی سانحہ کے مرکزی مشتبہ عناصر میں شامل ہیں۔ اس خونیں واقعہ میں بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کا نام سرفہرست ہے اسکے علاوہ جن دو جہادی گروپوں کے ملوث ہونے کا شبہ کیا جارہا ہے وہ داعش اور جند اللہ ہیں، جائے وقوعہ سے مبینہ طور پر داعش کے پمفلٹ برآمد ہوئے ہیں جو شاید تفتیشی اداروں کو گمراہ کرنے کےلیےبھی ہوسکتے ہیں۔ جند اللہ کے ترجمان احمد مروت نے بھی حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، عام طور پر جند اللہ کا ترجمان تقریبا ہر دہشتگرد حملے کی فوری ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے مشہور ہے لیکن اُسکے باوجود تفتیش میں جند اللہ کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ ان جہادی گروپوں کے علاوہ تفتیشی اہلکار یہ پتہ چلانے کی بھی کوشش کررہے ہیں کہ اس وحشیانہ کارروائی کا این اے 246 کراچی میں حال ہی میں ہونے والے ضمنی الیکشن سے کوئی تعلق تو نہیں جس میں پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ میں اسماعیلی برادری کے ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کیلئے سخت مقابلہ ہوا تھا۔ تجزیہ کار این اے 246 کے ضمنی الیکشن کیلئے اسماعیلی برادری کے ووٹ کو گیم چینجر قرار دے رہے تھے جو غلط ثابت ہوا۔

سانحہ کراچی کے فورا بعد سیاسی اور فوجی قیادت نے موثر ردعمل کا اظہار کیا ہے وزیراعظم نواز شریف کراچی پہنچے، اُن سے قبل آرمی چیف جنرل را حیل شریف کراچی پہنچ چکے تھے جہاں انہوں نے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور رینجرز کے سربراہ میجر جنرل بلال اکبر کے ہمراہ تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔صوبائی انتظامیہ بھی گورنر ہاوس میں منعقدہ اجلاس میں شریک تھی لیکن وہ اپنا کوئی تاثر قائم کرنے میں ناکام تھی۔ سینئر تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا تھاکہ بدھ کو پورے دن میں جواصل میٹنگ ہوئی وہ کور ہیڈکوارٹر میں ہوئی،جس میں آرمی چیف کو بریفنگ دی گئی، گورنر ہاوس میں جو میٹنگ ہوئی اس میں سیاسی مصلحتیں آئیں گی،قائم علی شاہ کراچی آپریشن کے کپتان ہیں، اگر ان کی ٹیم ناکام ہورہی ہے تو کپتان تبدیل کردینا چاہئے۔

ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی رکھنے والا یہ شہر کراچی جو لاوارث لگتا ہے کب تک کمر توڑ حملے برداشت کرتارہے گا، ملک کی معیشت کا ایک بڑا بوجھ اٹھاکرملک کے طول و عرض میں مسکراہٹیں بانٹے والا یہ شہر کراچی جس کی دو کروڑ کے قریب آبادی ہے کب تک اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتا رہے گا۔ سانحہ کراچی میں ایک ایسی کمیونٹی پر ظلم ہوا ہے جو پاکستان کی معمار رہی ہے، پاکستان کی ترقی میں اسماعیلی کمیوٹنی کا بہت بڑا کردار ہے۔ اسماعیلی برادری کا پاکستان کی معیشت میں بھی بہت بڑا کردار ہے اور پاکستان کے دشمن یہ بات جانتے ہیں، یہ ہی وجہ ہے کہ اسماعیلی برادری پر بار بار حملے کیے جاتے ہیں۔ صوبائی حکومت سے کسی قسم کی امید نہیں کیونکہ قائم علی شاہ اور اُن کی ٹیم کو کرپشن سے فرصت نہیں، مرکز میں بیٹھے نواز شریف شاید کچھ کریں لیکن وہ بھی سیاسی مصلحتوں کا شکار ہونے میں دیر نہیں لگاتے، کراچی کی 85 فیصد کی نمائندگی کا دعوی کرنے والی ایم کیو ایم سے بھی کوئی امید رکھنا فضول ہے جو جماعت 25 سال میں کچھ نہیں کرپائی وہ اب کیا کرئے گی۔ ملک میں اس وقت فوج ہی ایک ایسا ادارا ہے جس سے کچھ امید کی جاسکتی ہے، جنرل راحیل شریف کراچی میں امن لانے کےلیے مخلص ہیں، اُنکو چاہیے کہ آپریشن ضرب عضب کا دائرہ کراچی تک بڑھاکر اس شہر میں ایک بے رحم آپریشن کرکے اس شہر کی روشنیاں بحال کردیں۔ کراچی میں امن ہوگا تو نہ صرف کراچی بلکہ پورئے پاکستان میں ترقی ہوگی۔

آیئے دعا کریں کہ کراچی میں 13 مئی کو دہشتگرد کارروائی میں شہید ہونے والے اسماعیلی برادری کےتمام معصوم لوگوں کی اللہ تعالی مغفرت فرمائے، ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ ہم سب پاکستانی اپنے غمزدہ بہن بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالی اُن درندوں اور اُن کے ساتھیوں کو عبرتناک انجام سے دو چار کرے جو معصوم انسانوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔ آمین