PDA

View Full Version : آبدیدہ لردینے والا واقعہ



نجم الحسن
05-25-2015, 12:54 AM
ایک ایسی تحریر جو آپ کو رونے پر مجبور کر دے گی
ایک صاحب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے باپ کی شکایت کی
کہ
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ مجھ سے پوچھتا نیہں اور میرا سارا مال خرچ کر دیتا ھے_
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
بلاؤ ان کے پاپ کو
جب ان کے والد کو پتا چلا کہ میرے بیٹے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری شکایت کی ھے_ تو دل میں رنجیدہ ھوئے
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے لئے چلے
چونکہ عرب کی گھٹی میں شاعری تھی
تو راستے میں کچھ اشعار ذہن میں ہوا کے جھونکے کی طرح آئے اور چلے گئے_
ادھر بارگاہ رسالت میں پہنچنے سے پہلے
حضرت جبرائل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوئے اور فرمایا
کہ
اللہ سبحانہ و تعالہ نے فرمایا ھے_ کہ ان کا کیس بعد میں سنئیے گا پہلے وہ اشعار سنیں جو وہ سوچتے ہوئے آ رہے ھیں_
جب وہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
کہ
آپ کا مسئلہ بعد مین سنا جائے گا پہلے وہ اشعار سنائیے جو آپ سوچتے ھوئے آئے ھیں
وہ مخلص صحابی تھے
یہ سن کر وہ رونے لگے
کہ
جو اشعار ابھی میری زبان سے ادا نہیں ھوئے میرے کانوں نے نہیں سنے
آپ کہ رب نے وہ بھی سن لیئے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کیا اشعار تھے ہمیں سنائیں
ان صحابی نے اشعار پڑھنا شروع کیے_
)میں آپ کو ان کا ترجمہ بتاتا ہوں(
اے میرے بیٹے ! جس دن تو پیدا ھوا
ہماری کمبختی کے دن تبھی سے شروع ھو گئے تھے_
تو روتا تھا ، ہم سو نہیں سکتے تھے_
تو نہیں کھاتا تو ہم کھا نہیں سکتے تھے_
تو بیمار ھو جاتا تو تجھے لیئے لیئے کبھی کسی طبیب کے پاس ،
کبھی کسی دم درود والے کے پاس بھاگتا_
کہ کہیں مر نہ جائے_
کہیں مر نہ جائے_
حلانکہ موت الگ چیز ھے اور بیماری الگ چیز ھے_
پھر تجھے گرمی سے بچانے کے لئے میں دن رات کام کرتا رہا
کہ
میرے بیٹے کو ٹھنڈی چھاؤں مل جائے_
ٹھنڈ سے بچانے کے لئے میں نے پتھر توڑے_
تغاریاں اٹھائیں کہ میرے بچے کو گرمائی مل جائے_
جو کمایا تیرے لیئے_
جو بچایا تیرے لیئے_
تیری جوانی کے خواب دیکھنے کے لیئے میں نے دن رات اتنی محنت کی کہ میری ہڈیاں بھی سوختہ ہو گیئں_
پھر
مجھ پر خزاں نے ڈیرے دال لئے
تجھ پر بہار آگئی_
میں جھک گیا_
تو سیدھا ہو گیا_
اب مجھے امید ھوئی_
کہ اب تو ہرا بھرا ھو گیا ھے_
چل
اب زندگی کی آخری سانسیں تیری چھاؤں میں بیٹھ کر گزاروں گا
مگر
یہ کیا کہ جوانی آتے ھی
تیرے تیور بدل گئے_
تیری آنکھیں ماتھے پر چڑھ گئیں_
تو ایسے بات کرتا کہ میرا سینہ پھاڑ کر رکھ دیتا ھے_
تو ایسے بات کرتا کہ کوئی نوکر سے بھی ایسے نہیں بولتا
پھر
میں نے اپنی 30 سالہ محنت کو جھٹلا دیا
کہ
میں تیرا باپ نہیں نوکر ھوں_
نوکر کو بھی کوئی ایک وقت کی روٹی دے ہی دیتا ھے_
تو نوکر سمجھ کر ہی مجھے روٹی دے دیا کر
یہ اشعار سناتے سناتے ان کی نظر اللہ کے رسول پر پڑ گئی_
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا روئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک تر ہو گئی_
آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں اپنی جگہ سے اٹھے
اور
بیٹے سے فرمایا کہ
آئیندہ میری نظروں کے سامنے مت آنا
اور سن لو
تو اور تیرا سب کچھ تیرے باپ کا ہے
تو اور تیرا سب کچھ تیرے باپ کا ہے
تو اور تیرا سب کچھ تیرے باپ کا ہے
اللہ اکبر —

Baab-Ul-Islam
05-25-2015, 08:21 PM
شکریہ بہت سبق اموز تحریر کا اشتراک کیا ہے۔جزاک اللہ