PDA

View Full Version : صحابی رسول حضرت سخی صاحب رضی اللہ عنہ کے مزار تک کا سفر :قسط نمبر 1



نجم الحسن
06-07-2015, 10:52 PM
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شکار پور سے ۔۔۔۔۔صحابی رسول حضرت سخی صاحب رضی اللہ عنہ کے مزار تک کا سفر
یہ زندگی ایک سفر ہے اور گذرے ہوئے لمحات سفر نامے بنتے جارہے ہیں ،اور کئی سفر تاریخی ہوتے ہیں جو یادگار انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں ،گھر سے یہ ارادہ کرکے نکلا تھا کہ شام کو اپنے آشیانہ پر واپس لوٹ ہی آونگا ،لیکن اس سفر میں مفتی ارشاد احمد حقانی صاحب کی محبتوں نے اسیر سا بنا دیا ،اور میں مفتی ارشاد صاحب کی محبت میں قید سا ہوگیا ،
صبح صبح علمی گلشن "عبداللہ ابن عمر "کے سر سبز وشاداب چمن میں ٹھنڈی ہواوں کے جھونکوں کے مزے لے رہا تھا ،کہ سورج نے آنکھیں دیکھانا شروع کی ،اور اپنی گرم اور روشن بھری کرنوں کے ذریعہ قدرت خداوندی کی وحدت کا پیغام دیا ،اللہ تعالی کی تسبیح وتحمید کے بعد مفتی صاحب کے ساتھ ناشتہ کیا ،ٹھنڈی لسی ،اور مکھن لگی ہوئی روٹیو ں نے مزہ دوبالا کردیا ،
اورمفتی ارشاد احمد حقانی صاحب کی ہمراہی میں ایک قدیمی اور تاریخی شہر "شکار پور"{تحصیل راجن پور} میں ایک تقریب سعید میں شرکت کی سعادت ملی ،جو کہ قرآن پڑھتی بچیوں کی حوصلہ افزائی ،اور ان کی دوپٹہ پوشی کے لیے منعقد کی گئی تھی ،مفتی صاحب کے علمی بیان سماعت کرنے کے بعد کھانا کی محفل سجی ،اور پھر شہر کی تاریخی مقامات کا وزٹ کیا ،اور ایک خوبصورت قدیمی تاریخی مسجد دیکھنے چلے گئے ، سفید خوبصورت گنبد اور حنبدوں میں خوبصورت نقش ونگار ، مسجد کے میناراور مسجد کا خوبصورت فرنٹ کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کیا ،تاریخی آشار قدیمہ کو دیکھ کے دل نے ایک طوفان ساکھڑا کردیا ،ذہن کے دریچوں نے سوالات جنم لینے شروع کیے،مفتی صاحب سے ان کے علاقہ کی تاریخی ،ثقافتی ،سیاحتی مقامات کے بارے میں معلومات لینے لگا ،
مفتی صاحب نے اپنے شہر کی جغرافیائی تاریخی اور سیاحتی معلومات دیں کہ اس طرف دریائے سندھ اور دوسری جانب بلند وبالا کوہ سلیمان کا پہاڑی سلسلہ ، اور اس میں بہتے گرم وٹھنڈے چشمے ،اور کجھور کے درخت ،قدیمی بزرگ شخصیات کے نقوش ومزارات اور ٹوٹے پھوٹے قلعے کے کھنڈرات ،اور ایک پہاڑ کے دامن میں ایک صحابی رسول کا مزار ،
سلسلہ سفر نمبر : 2
ماڑی کے پہاڑوں کی طرف سفر
صحابی رسول کے مزار کے تذکرے کے بعد تھمے طوفان نے ٹھاٹھیں مارنا شروع کردیا ،آنکھیں ان صحابی رسول کے مزار کی زیارت کے لیے ترسنے لگی ،دلی جذبات بے قابو سے ہونے لگے ،آثار قدیمہ کے کھوج کی جستجو بڑھنے لگی ،زبان حال نے مفتی صاحب سے بے ساختہ درخواست کردی ،کہ بندہ کو ان مقامات کی زیارت کرائی جائے ،دریا دل مفتی صاحب اپنی گونا گوں مصروفیات کے باوجود کمال شفقت کرتے ہوئے تیار ہوگئے ،اور دوروزہ سفر کا پروگرام ترتیب دیا
مفتی صا حب نے کار نکالی ، راقم سوار ہوا اور ایک طالب علم کو اپنے ہمراہ لیااور رواستہ میں " قاسمی صاحب اور عثمانی صاحب کو شریک کارواں کرتے ہوئے پہاٰڑوں کی طرف رواں دواں ہونے لگے ،ٹوٹیں پھوٹیں سڑکیں ،گرمی کی شدت ،آگ برساتی دھوپ ،گرم گرم ہواوں کی جھلسن ،سہتے ہوئے ،کار فراٹے بھرتی جارہی تھی ،کہ لنڈی سیڈان میں پہنچ گئے اس سے آگے پہاڑ شروع ہونے والے تھے ،پانی کا کولر بھرا اور برف لی ،اور پیٹ کی لگی آگ کو بادام والے بے مزا سے گھوٹے سے ٹھنڈا اور مسمارکیا
طاہر القاسمی صاحب زندہ دل ایک عالم دین ہیں ،چہرے پر مسکراہٹ سجا کر خندہ پیشانی سے ملنے والے اور عبدالحق عثمانی صاحب نوجوان عالم دین اور مولانا فیض الحق عثمانی مرحوم کے فرزند تھے مرحوم رحمہ اللہ کی دینی خدمات قابل تحسین ہیں اور ایک طالب علم غلام رسول صاحب بھی ہمارے ساتھ شریک سفر تھے ،دوران سفر قاسمی صاحب کے مزاح بھرے چٹکلے سفر کی مشقتوں کے احساس کو کم کردیتے تھے
سفر اور توکل کی دعا پڑھتے ہوئے پہاڑوں کی طرف روانہ ہوئے ،دور دور سے بلند دیو ہیکل نظر آتے پہاڑوں کے نظارے کرنے لگے ،ذہن کی بند کھڑکیاں کھلنے لگی ،قدرت کی نشانیوں کا مشاہدہ کرنے لگے ،زمین پہ بلند وبالا گھاڑے ہوئے پہاڑ ،بڑے چھوڑے ،رنگ برنگی پتھر ،ان پتھروں سے نکلتا ہوئے شفاف پانی کے چشمے ،پہاڑوں پر ہریالی کا خوبصورت دلکش سا منظر ،اور اور جلے کالے پتھروں کے بلند پہاڑ ،تو کہیں مٹیالے رنگ کے پہاڑ ،گہرائیوں اور گھائیوںکا دیدنی منظر ، سر چکرادینے والے نظارے ،پہاڑ کی بلندیوں کو عبور کرتی ہوئی کار فل زور لگارہی تھی اور تیاری موت کا پیغام دیتی ہوئی مفتی صاحب کی تیز ڈرائیونگ اونچائی اور گہرائی پر دل کی دھڑکنیں تیز ہوجایا کرتی تھیں ،اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتی زبان جاری ہوجاتی تھی ،اور کان آف ہوجاتے تھے ، پہاڑ اپنی طرف کھینچے کی کوشش کرتے ،پہاڑ کی بلندیوں سے معرکے کرتے ہوئےساڑھے پانچ ہزار اونچائی پر واقع ماڑی پہاڑ پر پہنچ گئی ،
ٹھنڈے بادلوں نے استقبال کیا ،میٹھی سلادینے والی ہواوں نے ہمارے وجود کے لمس کے مزے لیتے ہوئے قدم بوسی کی ،ماڑی پہاڑ پر ایک مسجد میں نماز قصر ادا کی ،آرام کے لیے تھوڑا سا سستانے لگے ،توبھوک نے خطرے کا آلارم دینا شروع کردیا ،ایک ہوٹل پر پہنچے ،اور دیسی مرغی تیار کرنے کا آرڈر دیا ،وقت کو غنیمت جانتے ہوئے زیارت کا پروگرام بنالیا
سلسلہ سفر نمبر3
"زیارت " کی زیارت کرنے
اورماڑی پہاڑ سے کچھ فاصلہ پر "زیارت " نامی جگہ کی زیارت کے لیے چل پڑے ،اور ایک مقام پر بغیر کسی کے سہارے ونگرانی کے اکیلی کار کو کھڑا کیا ،وہاں کے امن وامان کو دیکھ کے حیران سا رہ گیا ،خوانخوار قومیں ،بلوچ اور سردار ی نظام کے باوجود وہاں کا امن دیدنی تھا ،سیاح بے خوف وخطر اپنی سواری اکیلی کھڑی کرکے گھومنے پھرنے چلے جاتے اور واپسی پر بحفاظت اپنی سواری وسامان کو محفوظ پاتے،دکانیں کھلی چھوڑ کے نماز پڑھنے چلے جاتے اورہم نے اکیلی کار کھڑی کی چونکہ اس سے آگے کار نہیں جاسکتی تھی ،تو پیدل چل پڑے ،پہاڑوں کا نظارے کرتے ہوئے ،پرخطر راستے اوراونچائی تو کبھی گہرائی ،تو چھوٹے پتھروں سے پھسلتے قدم کا خیال کرتے ہوئے تقریبا چالیس منٹ کے پیدل سفر کے بعد زیارت جا پہنچے
پرسکون سی جگہ ،کجھور کے خوبصورت درخت ،بہتے ہوئے پانی کی چھوٹی سی نالی ،اور دوسری جانب ،کچی پتھروں سے بنی مسجد ،اور مسجد کے ساتھ پانی کے بھرے ہوئے مٹکے ،اور مسجد کی پتھریلی دیوار پر رکھی ہوئی پُرانے زمانہ کی ڈھال ، دیکھ کر کتابوں میں پڑھا ہوا پرانا زمانہ ذہن میں گھومنے لگا ، اور مسجد کے قریب ایک مزار جس میں دو قبور تھیں ،وہاں فاتحہ پڑھی

اس جگہ کی زیارت سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہاں پر اسلامی لشکروں نے پڑاو اور بسیرا کیاہوگا ،کیونکہ اس جگہ کجھور کے درختوں اور عرب میں کجھور کے درختوں میں مماثلت سی پائی جاتی تھی اور مزے کی بات کہ کہیں اور پہاڑ پرکجھور کے درخت نظر نہیں آئے ، سوائے اس جگہ کے اور ممکن ہے وہ مزار بھی ان مقدس شخصیات کےہوں ، جو دوران پڑاو ان کے سفر کی یہی آخر منزل ہو ،اسی اثنا میں وہاں کا ایک بوڑھا باشندہ آگیا ،اس سے پوچھنے لگے تو بوڑھے بابا نے بتایا کہ یہ مزار بہت پرانا ہے ،اور اس کی صحیح تفصیل کا علم نہیں ،مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد واپس چل پڑے ،پیدل چلتے قدم ، ،قدرت کی نشانیوں کا نظارے کرتی آنکھیں ،اور بھوکے پیٹ ،اور پیاس کو برداشت کرتے ہوئے کار تک آپہنچی ،کار کی ڈگیں سے پانی نکالا ،پانی پیا ،اور پھر واپس ماڑی پہاڑ پر آپہنچے
،اور نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد دیسی مرغی سے شام کا کھانا کھایا ،اور میزبان غلام مصطفےجوکہ مسجد میں امامت کرواتے تھے انہوں نے قریبی گھر میں چار پایوں اور بستروں کا بندوبست کر کے وہاں رات سونے کا انتظام کیا ،رات ٹھر چکی تھی ہلکی سی سردی اوررات کو زیادہ ٹھنڈک محسوس ہونے لگی،بستر پر کمبل اوڑھ کر لیٹ گیا ،پہاڑ کے دامن میں نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا ،خواب خر گوش کے خوب مزے لیتے ہوئے صبح نماز کے لیے بیدار ہوئے نماز ادا کی ،
نئے چشمے کی دریافت
اور میزبان ہمیں ایک پانی کے نئے چشمے پر لے گیا ،پتھر سے پھوٹتے ہوئے چشمے کا نظارہ کیا ،چُلوں میں پانی پیا ،تو بہت مزا آیا ،وہاں سے اجازت چاہی اور واپس لنڈی سیڈان پہنچے ،
سلسلہ سفر نمبر:4
قلعہ ہرنڈ اور نوشابہ شہزادی
یہاں کے میزبان مولانا محمد مدنی صاحب تھے ، مدنی صاحب کمال کی علمی شخصیت تھے ،سادگی وعاجزی اور مہمان نوازی کی صفات سے متصف تھے ،ہلکا پھلکا سا ناشتہ کیا ،اور مدنی صاحب اپنے علاقائی صورتحال سے بخوبی واقف تھے ،حالات کی نزاکت کو سجھتے ہوئے دو موٹر سائیکل پر سوار چار مقامی افراد کا بطور محافظ بندوبست کیا ،اورمحترم سیف اللہ چانک بارعب بلوچ شخصیت تھے ،ان کے پاس ایک گن تھی موٹر سائیکل پر سوار ہماری کار کے آگے آگے جارہے تھے اور ان کے پیچھے گن کو پکڑے ہدایت اللہ تھے ،،مدنی صاحب ہرنڈ کی قدیمی تاریخی جگہ قلعہ ہرنڈ لے گئے ،قلعہ ہرنڈ ملبے کی شکل اختیار کرچکا تھا،بہت وسیع وعریض رقبے پر مشتمل قلعہ ہرنڈ دیکھااور تقریبا دس منٹ کے پیدل سفر پر قلعہ کی دوسری جانب ٹوٹا پھوٹا دوسرا قلعہ کا دروازہ دیکھا ،مدنی صاحب نے بتایا کہ یہ بہت ہی قدیمی تاریخی قلعہ تھا ،لیکن اس کی حفاظت کی طرف توجہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے ،اور مدنی صاحب نے بتایا کہ یہاں کے لوگوں کی زبان فارسی تھی ،اور اب بھی اس علاقہ میں فارسی بولنے والی قوم موجود ہے اور ایران کی" نوشابہ شہزادی "اس قلعہ میں آیا کرتی تھی ،سیر سپاٹے اور کچھ دن رہ کے ایران چلی جاتی تھی ،اور پھر انگریز نے اس قلعہ پر قبضہ کرلیا ،قلعہ کے قدیمی آثار کا مشاہدہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا تھا کہ یہ بہت ہی قدیمی قلعہ ہے ،اور قلعہ کے کھنڈرات سے پُرانے زمانہ کی کرنسی کے سکے بھی ملے،اور فارسی زبان میں لکھے ہوئے اوراق اور کتابیں بھی بر آمد ہوئی،
سلسلہ سفر نمبر:5
صحابی رسول کے مزار کے پر حاضری
قلعہ دیکھنے کے بعد صحابی رسول کے مزار کادیدار کرنے لیے چل پڑے ،پہاڑی علاقہ ،یہ گرم پہاڑ تھا ،سخت گرم ہوا چل رہی تھے علاقہ خطرناک تھا ،لوٹ مار عام تھی ،خوانخوار انسان نما درندے اجنبی مسافر شکار کی تلاش میں رہتے تھے ،پہاڑ پر دوبین نصب کی ہوتی تھی ،اور دور سے دیکھ کے باہر سے اجنبی مہمان ان کے خاص شکار ہوتے تھے ،ان کی سواری اور نقدی سامان وغیرہ چھین لیتے تھے ، لیکن ہمارے ساتھ چونکہ مقامی افراد اسلحہ سے مسلح تھے ،تو ہمیں شکار کرنے کی ان کو جرات نہیں ہوئی ،ہرنڈ سے ہوتے ہوئے ہم درہ کاہاں سلطان جا پہنچے
درہ کاہاں سلطان
،درہ کاہاں سلطان کے سامنے بلند پہاڑ ،پتھروں میں پانی بہہ رہا تھا ، درہ کاہاں سلطان پر کار کھڑی کی ، اور ایک مقامی میزبان محترم عارف صاحب کو کار کی حفاظت کے لیے بٹھادیا ،چونکہ اس سے آگے پہاڑ تھے کار کا راستہ نہیں تھا ،پہاڑ کو عبور کرکے دامن میں صحابی رسول کے مزار تک پہنچنا تھا ،ہمارا یہ قافلہ پیدل چل پڑا پتھروں اور پہاڑوں پر چڑھائی اور اور کبھی ڈھلوان اور پاوں پھسلنے کا خوف، گرمی اور پیاس کی شدت نے نڈھال، اور تھکاوٹ بے حال کردیا تھا ،اور جسم چکنا چور ہوچکا تھا، پاوں درد کرنے لگے تھے ،چلتے چلاتے تقریبا ایک گھنٹہ کے مسلسل پیدل سفر کرکے "حضرت سخی صاحب رضی اللہ عنہ کے مزار پر پہنچ گئے ،وہاں ایک چھوٹی سی بنی ہوئی مسجد میں پہنچے ، سخت دھوپ جھلسا رہی تھی ،مسجد میں بیٹھے ،قریب ایک گھر تھا ،پانی مانگا ،تو کہا پانی تو نہیں ہے لیکن سیف اللہ صاحب نے جب اپنی بلوچگی زبان میں بات کی تو لڑکا پانی لے آیا اور پانی پینے کے بعد۔۔۔۔۔
جاری ہے ،،،،،،،،،
نجم الحسن