PDA

View Full Version : اسلامی جہاد کے احکام اور عدل و رحم کا مظاہرہ۔۔۔۔



aliimran
07-03-2015, 06:33 PM
جو دشمن مسلمانوں سے لڑنے آئیں یا ان پر حملہ آور ہوں۔ مسلمانوں پر ظلم و ستم کرتے ہوں ان سے بھی لڑنے میں اسلام نے عدل و رحم اور حریت کو ملحوظ رکھا ہے چنانچہ ایسے جہاد کی شرائط شریعت اسلام میں حسبِ ذیل ہیں۔
اول:۔ جنگ کی پہل و ابتداء دشمن کی طرف سے ہو۔ پہلے دشمن کی طرف سے وار ہو تو مسلمان وار کریں یعنی حفاظت خود اختیاری کی بناء پر دفاع کریں مگر جنگ میں سبقت نہ کریں۔
دوم:۔ دشمن کی عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کیا جائے۔ اگر دشمن اپنے بچاؤ کے لئے عورتوں اور بچوں کو آگے کر دے تب بھی عورتوں اور بچوں کے قتل سے اجتناب کیا جائے اگرچہ عورتیں اپنے مردوں کی مدد بھی کرتی ہوں۔
سوم:۔ اگر کوئی دشمن مبارز طلبی کرے اور مقابلہ کے لئے کسی ایک مسلمان کو بلائے تو ایک ہی جائے سب مل کر اس پر حملہ نہ کریں۔
چہارم:۔ لڑائی بعد ظہر شروع کی جائے تاکہ جلد ختم ہو اور جلدی شب ہو جائے تاکہ پردہ شب میں صلح پر غور و فکر کا موقع ملے۔
پنجم:۔ دشمن کا سر کاٹ کر میدانِ جنگ سے باہر نہ لے جائے۔
ششم:۔ اگر مقتول دشمن کسی قبیلہ کا سردار ہو تو زرہ وغیرہ نہ اتاریں اور اگر دشمن سردار و بزرگ قبیلہ نہ ہو تو زرہ اتار سکتے ہیں لیکن لباس جسم سے نہ اتاریں۔
ہفتم:۔ ناک، کان وغیرہ کاٹ کر دشمن کو مثلہ نہ کریں۔
ہشتم:۔ دشمن کی عورتوں کا احترام کریں اور اگر وہ اسیر ہو جائیں تو ان کو ان کے وارثوں کے لاشے کے پاس سے نہ گزاریں۔
نہم:۔ دشمن سے جنگ ماہ رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم الحرام میں نہ کی جائے۔
دہم:۔ کوئی دشمن دھوکے اور عذر سے نہ قتل کیا جائے۔
یازدہم:۔ کوئی دشمن پیاسا رکھ کر نہ مارا جائے اور نہ ان پر شب خون کیا جائے نہ زہر وغیرہ سے مارا جائے۔
یہ جہاد اسلامی کے اصول و احکام ہیں جن کے ہر حکم سے مروت و انسانیت و رحم و عدل و شرافت کی بو آ رہی ہے۔ دنیا کا کوئی مذہب ان اصولوں کا پابند نہیں۔ ان احکام کے ہوتے ہوئے کوئی زبان پر یہ الفاظ لا سکتا ہے کہ بانی اسلام نے حریت انسانی کو سلب کیا اور ظلم و تشدد سے کافروں کو مسلمان بنایا؟۔ہرگز نہیں۔ لا اکراہ فی الدین پر عمل رہا۔
ان رحم و عدل پر مبنی احکام میں یہ کہیں نہیں ہے کہ دشمنوں کے شہر خوامخواہ پھونک دئیے جائیں اور لنکا کی طرح آگ سے فنا کر دیا جائے۔ ان کے عبادت خانوں کو منہدم کر دیا جائے۔اسلام نے یہ حکم نہیں دیا کہ دشمنوں کے عبادت خانوں کو برباد کر دو بلکہ ان کی حفاظت کا حکم دیا۔ خانہ کعبہ بت خانہ ہی بنا ہوا تھا مگر چونکہ اصل عبادت خانہ تھا اس کو بعد فتح مسلمانوں نے منہدم نہیں کیا۔ ہاں بت بے شک الوہیت کے ابطال کی غرض سے توڑے۔