PDA

View Full Version : اخلاصِ نیت



روشن خیال
08-04-2015, 03:58 PM
از صباملک
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے


قبیلہ اسلم کے حضرت ابو فر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ ، ایمان کیا ہے ؟ آپ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، ایمان تو اخلاص ہے
( بہیقی )

سارے اعمال کا درارو مدار نیت پر ہی ہے
( بخاری )

جس نے اپنا چہرہ اللہ کے حضور جھکا دیا اور وہ مخلص بھی ہو تو ایسے شخص کو اسکا اجر اللہ تعالیٰ سے ملتا ہے ایسے لوگوں پر نہ کوئی خوف ہوگا نہ وہ غمگین ہونگے ۔
( البقرہ 2 ۔ 112 )

اللہ کی رضا مندی کے لیے خرچ کیا کرو

( البقرہ 2 ۔ 282 )


تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں
سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے،
( 3:92 )

اگر تم خیرات ظاہر کر کے دو تو یہ بھی اچھا ہے (اس سے دوسروں کو ترغیب ہوگی)، اور اگر تم انہیں مخفی رکھو اور وہ محتاجوں کو پہنچا دو تو یہ تمہارے لئے (اور) بہتر ہے، اور اﷲ (اس خیرات کی وجہ سے) تمہارے کچھ گناہوں کو تم سے دور فرما دے گا، اور اﷲ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔
(البقرہ 2 ۔ 271)

شیطان تمہیں (اﷲ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکنے کے لئے) تنگدستی کا خوف دلاتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے، اور اﷲ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے، اور اﷲ بہت وسعت والا خوب جاننے والا ہے۔
(البقرہ ۔ 2 ۔268)

جو شخص دنیا میں اپنے عمل کا بدلہ چاہے گا اسے دنیا میں ہی دے دیں گے( اور آخرت میں اسکے لیے کوئی حصہ نہیں ہوگا ) اور جو شخص اخرت کا بدلہ چاہے گا ہم اسے آخرت کا ثواب عطا فرمائیں گے ( اور دنیا میں بھی دیں گے ) اور ہم بہت جلد شکر گزاروں کو بدلہ دیں گے یعنی ان لوگوں کو بہت جلد بدلہ دیں گے جو آخرت کے ثواب کی نیت سے عمل کرتے ہیں ۔
ال عمران ( 3 ۔ 145 )

( حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا)
اور میں تم سے اس (تبلیغِ حق) پر کچھ معاوضہ طلب نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف رب العالمین کے ذمہ ہے۔
( الشعراء 26 ۔145 )


ہرگز نہ (تو) اﷲ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقوٰی پہنچتا ہے( اللہ تعالی تو بندے کی اخلاص ِنیت کو دیکھتا ہے )
( الحج ۔ 22 ۔ 37)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( بنی اسرائیل کے ) ایک آدمی نے ( اپنے دل میں کہا ) میں ( اج رات چپکے سے) صدقہ کرونگا۔ اور رات کو چپکے سے صدقے کا مال لے نکلا ( بے خبری میں ) ایک چور کے ہاتھ میں دے دیا صبح لوگوں کو پتا چل گیا کہ رات کو چور کو صدقہ دیا گیا صدقہ دینے والے نے کہا، " تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ۔ برے آدمی کو صدقہ دیا گیا تو میں کیا کرسکتا تھا " پھر اسنے عزم کیا کہ اج رات بھی ضرور صدقہ کرونگا کیونکہ پہلا تو صدقہ ضائع ہوگیا ، اور پھروہ دوسری رات صدقے کا مال لے کر نکلا اور بے خبری میں صدقہ ایک بدکار عورت کو دے دیا ، صبح پھر مشہور ہو گیا کہ اج رات بدکار عورت کو صدقہ دیا گیا ۔ اس نے کہا " اے اللہ بدکار عورت کو صدقے دینے میں بھی اپکے لیے ہی تعریف ہے کہ میرا مال تو اس قابل نہ تھا ۔ تیسری بار پھر رات کو صدقہ کیا اور مال ایک مالدار کے ہاتھ دےدیا۔ صبح یہ بات پھر لوگوں میں پھیل گئ کہ صدقہ انجانے میں امیر آدمی کو دے دیا گیا ، مال دینے والے نے پھر رب العزت کو پکاراکہ ، "میرا مال تو ایسے لوگوں کو دینے کے قابل نہ تھا۔ " یا اللہ ، چور ، بدکار اور مالدار کو صدقہ دینے پر بھی اپ کی ہی تعریف ہے ۔ کہ تمام تریفیں اللہ کے لیے ہیں
اس شخص کو خواب میں بتایا گیا کہ تیرا صدقہ قبول ہوگیا تیرا صدقہ چور کو اسلیے دلایا گیا کہ ممکن ہے کہ وہ اپنی چوری سے توبہ کر لے ۔ اور بدکار عورت کو صدقہ اسلیے دلایا گیا کہ۔ جب وہ دیکھے گی کہ بدکاری کے بغیر بھی اللہ تعالی عطا کرتے ہیں تو باعث ندامت توبہ کر لے ۔ اور مال دارکو اسلیے دلایا گیا کہ اسے نصیحت ہو کہ اللہ کے نیک لوگ کسطرح چھپ کر صدقہ دیتے ہیں اور ممکن ہو کہ وہ مال جو اللہ نے اسے عطا کیا ہے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے لگے ( اللہ تعالی مال دینے والوں کی اخلاص ِنیت کو دیکھتے ہیں ۔
( بخاری )

حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
اگر کوئی بندہ نیکی کا ارادہ کرلیتا ہے اور کسی وجہ سےوہ نیکی پوری نہیں کرسکا تو اللہ تعالی اس ارادے کے بدلہ میں ایک نیکی لکھ دیتے ہیں اگر وہ ارادے کے بعد نیکی کرلیتا تو اللہ تعالی اسکا ثواب دس نیکیوں سے لیکر سات سو نیکیوں تک لکھ دیتے ہیں بالکہ اس سے بھی زیادہ کئ گناہ تک لکھ دیتے ہیں اگر کوئی برائی کرنے کا ارادہ کرے اور پھر اللہ کے ڈر سے رک جاے تو اللہ تعالی اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتے ہیں اگر ارادے کے بعد بھی وہ گناہ کر بیٹھے تو اللہ تعالی صرف ایک ہی گناہ لکھ دیتے ہیں ۔
( بخاری )

وما علینا الالبلاغ
اللہ نگہبان

روشن خیال
08-04-2015, 03:59 PM
جزاک اللہ خیر

بےباک
08-04-2015, 09:32 PM
حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
اگر کوئی بندہ نیکی کا ارادہ کرلیتا ہے اور کسی وجہ سےوہ نیکی پوری نہیں کرسکا تو اللہ تعالی اس ارادے کے بدلہ میں ایک نیکی لکھ دیتے ہیں اگر وہ ارادے کے بعد نیکی کرلیتا تو اللہ تعالی اسکا ثواب دس نیکیوں سے لیکر سات سو نیکیوں تک لکھ دیتے ہیں بالکہ اس سے بھی زیادہ کئ گناہ تک لکھ دیتے ہیں اگر کوئی برائی کرنے کا ارادہ کرے اور پھر اللہ کے ڈر سے رک جاے تو اللہ تعالی اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتے ہیں اگر ارادے کے بعد بھی وہ گناہ کر بیٹھے تو اللہ تعالی صرف ایک ہی گناہ لکھ دیتے ہیں ۔
( بخاری )

جزاک اللہ ، نیکی کا پختہ ارادہ ہی اصل نیکی کی ابتدا ہے
سچ فرمایا ،، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ،