PDA

View Full Version : ایاز صادق سپیکر نہیں رھے



بےباک
08-23-2015, 08:11 AM
ایاز صادق کا انتخاب کالعدم، این اے 122 میں دوبارہ الیکشن کا حکم
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قائم الیکشن ٹربیونل نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حلقہ این اے 122 میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دیا ہے
مئی 2013 میں ہونے والے انتخابات میں اس حلقے میں حکمران جماعت مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے ایاز صادق نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو شکست دی تھی
تاہم عمران خان نے الیکشن ٹربیونل میں اس نتیجے کے خلاف انتخابی عذرداری دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حلقہ این اے 122 میں انتخابات کے دوران دھاندلی ہوئی ہے لہذا سردار ایاز صادق کو نااہل قرار دیا جائے
الیکشن ٹربیونل کی جانب سے انتخابی عذرداری پر سماعت دو سال تک جاری رہی تھی جس کے بعد سنیچر کو مختصر فیصلے میں ٹربیونل نے این اے 122 اور اس کے ذیلی صوبائی حلقے پی پی 147 میں انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا۔
پی پی 147 سے بھی مسلم لیگ نواز کے ہی امیدوار شجاع صدیقی الیکشن میں کامیاب ہوئے تھے۔
فیصلہ سنانے کے موقع پر پنجاب الیکشن کمیشن کے دفتر کی حدود میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاہم جب پاکستان تحریک انصاف اور حکمراں جماعت مسلم لیگ نون کے حامیوں کی بڑی تعداد وہاں جمع ہو کر رکاوٹیں عبور کر کے اندر پہنچ گئی تو حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے پولیس کی اضافی نفری طلب کرنی پڑی۔
اس فیصلے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان کے وکیل انیس ہاشمی کا کہنا تھا مختصر فیصلے میں ان کے موکل کے موقف کی تائید ہوئی ہے اور الیکشن ٹربیونل نے ایاز صادق کو ڈی سیٹ کردیا ہے جس کے بعد وہ اب ایوانِ زیریں کے سپیکر نہیں رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے بعد ایاز صادق کی جانب سے بطور سپیکر گذشتہ دو برس کے دوران دی جانے والی رولنگز پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
اس موقع پر ایاز صادق کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایاز صادق کی رکنیت کالعدم قرار دیے جانے کی وجہ الیکشن کمیشن کے حکام کی بے ضابطگیوں کو قرار دیا گیا ہے اور عمران خان کا یہ دعویٰ کہ نتائج میں ردوبدل کیا گیا ہے ثابت نہیں ہو سکا۔