PDA

View Full Version : مدارس کی رجسٹریشن اور بیرونی امداد



بےباک
09-08-2015, 07:34 AM
مدارس کی 3 ماہ کی رجسٹریشن‘ بیرونی امداد کی جانچ پڑتال پر اتفاق (http://www.nawaiwaqt.com.pk/national/08-Sep-2015/412838)
اسلام آباد ( وقائع نگار خصوصی + خبر نگار خصوصی) وفاقی حکومت اور مدارس کے درمیان تین ماہ کے اندر رجسٹریشن، مدارس کا آڈٹ کرانے، بیرون ملک سے ملنے والی امداد کی جانچ پڑتال کرانے، دینی مدارس کو بنک اکائونٹس کھولنے اور تنظیمات مدارس کی مشاورت سے قانون سازی پر اتفاق رائے ہو گیا ہے، مدارس کی رجسٹریشن کا طریقہ کار آسان بنانے کے لئے وزارت داخلہ کے سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو نیا اور آسان فارم تیار کرے گی۔ وفاقی حکومت اور دینی مدارس کی قیادت کے درمیان مذاکرات میں کہا گیا ہے کہ اسلام دہشت گری کے خلاف ہے اس میں بے گناہوں کے قتل عام کی گنجائش نہیں، اسلام امن کا مذہب ہے پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا جائے گا اس بارے میں تمام ادارے متفق ہیں۔ اس بات کا اعلان وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے مدارس کی قیادت سے وزیر اعظم محمد نواز شریف اور ان سے الگ الگ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ’’کیا دینی مداس کے ملزمان کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے تو انہوں نے کہا کہ ہر جرم کی اپنی اپنی نوعیت ہے اس کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ مدارس کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں، ان کا دہشت گردی سے تعلق نہ قائم کیا جائے، مدارس نے دہشت گردی کے خاتمہ میں حکومت سے تعاون کیا ہے، مدارس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے معاون ہیں۔ اس وقت مدارس میں 30لاکھ طالبعلم زیر تعلیم ہیں، مدارس کی قیادت نے خود کش حملوں کے خلاف فتوے جاری کئے ہیں، دہشتگردی کا تعلق کسی مدرسے یا مذہب سے جوڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، مدارس خود دہشتگرد ی کا شکار ہوئے ہیں، مدارس کا تعلق دہشت گردی سے جوڑ کر اسلام کو بدنام کرنے والوں اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی، کوئی مدرسہ دہشت گردی میں ملوث پایا گیا تو خود کارروائی کرونگا، دہشتگردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی جاری رکھی جائیگی، ایک دوسر ے کے خلاف کو منافرت پھیلانے، کافر اور واجب القتل قرار دینے والوں کے خلاف بھی ریاست کارروائی کرے گی، فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ بنے گا، دشمن کا ہر محاذ پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 10ستمبر کو تمام وزرائے اعلیٰ کا اجلاس بلایا گیا ہے، جس میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے نمائندے بھی شامل ہوں گے، اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس کے دو ادوار ہوئے پہلے دور میں میں نے 2گھنٹے میٹنگ کی، دوسرے دور کی صدارت وزیراعظم نے کی، جس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی شریک تھے۔ اجلاس کا مقصد نیشنل ایکشن پلان میں تیزی اور وسعت لانا ہے۔ تمام شرکاء نے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے شانہ بشانہ ہیں، ملک کے خلاف کام کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی، مدارس کی رجسٹریشن کے عمل پر اتفاق کیا گیا۔ نئے فارم میں تمام کوائف ایک ہی وقت میں مکمل کئے جا سکیں گے، مدارس اپنی آڈٹ رپورٹ دیں گے، بیرونی فنڈنگ کیلئے حکومت باقاعدہ طریقہ کار واضح کرے گی۔ بیرونی فنڈنگ کے طریقہ کار طے کرنے کیلئے گورنر سٹیٹ بینک سے مدارس کے وفد کی میٹنگز ہوں گی علمائے کرام نے زور دیا کہ مدارس کے بارے میں قانون سازی مدارس کی مشاورت سے کی جائے، جس پر اتفاق کیا گیا۔ مدارس کو رقوم اور بیرونی فنڈنگ بینکوں کے ذریعے کی جائے گی، مدارس نے امداد کیلئے بینک اکائونٹس کھلوانے پر اتفاق کیا ہے، دہشت گردنظریات ختم کرنے کیلئے علماء کرام کی خدمات حاصل کی جائیں گی، اسلام کے نام پر دہشت گردی کرنے والے مذہب اور ملک سے مخلص نہیں۔ مدارس میں نصاب کی بہتری کیلئے اصلاحات کی جائیں گی، یہ اصلاحات صرف مدارس نہیں تمام تعلیمی اداروں میں کی جائیں گی، اس کیلئے وزارت تعلیم، مذہبی امور اور مدارس کی کمیٹی بنائی جائے گی۔ سانحہ صفورا چورنگی میں ملوث تمام لوگ اچھی یونیورسٹیوں کے پڑھے لکھے تھے ، مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں، ان پر دہشت گردی کا الزام نہ لگایا جائے، ثبوت ہوں تو سامنے لائے جائیں، اجلاس میں طے پایا ہے کہ حکومت اور مدارس کے درمیان مستقل رابطے کیلئے اداراتی نظام وضع کیا جائے گا۔ کچھ فیصلے میری وزارت سے متعلق ہوئے ان پر 10ستمبر کی میٹنگ کے بعد محض گفتگو ہو گی، مدارس پر چھاپے مارے جائیں گے نہ مارنے چاہئیں، اقلیتوں کے تحفظ کیلئے سب کی مشاورت سے پالیسی بنائیں گے، ان سے ناروا سلوک ملکی تشخص خراب کرنے کا باعث ہے۔ این جی اوز کے حوالے سے پالیسی وضع کر رہے ہیں، انہیں قانون کے دائرے میں لائیں گے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا۔ حکومت مدرسوں کو ملنے والی بیرونی امداد کا طریقہ کار وضع کرے گی جس سے مدارس کو اتفاق ہوگا۔ مدارس کا نصاب طے کرنے کے لئے تنظیمات المدارس کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے گی۔ مدارس کا اندراج کیا جائے گا۔ مساجد میں خطبہ کے دوران فرقہ واریت کو ہوا دینے اور نفرت انگیز تقاریر پر پابندی عائد کی جائے گی۔ اس کیلئے دو کمیٹیاں بنیں گی۔ کئی مدارس میں چھاپے پڑ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ مل کر پالیسی بنائیں گے۔ مدارس پر بلاوجہ عدم ثبوت پر چھاپے نہیں مارے جائیں گے۔ وزیر داخلہ کے مطابق اجلاس کے دوران مدارس میں اے اور او لیولز تک کی تعلیم نافذ کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ تمام علمائے کرام نے دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑنے پر اتفاق کیا ہے۔ مدارس سے متعلق حتمی اجلاس کی صدارت وزیراعظم کریں گے۔ مدارس دہشت گردی کے نظریات ختم کرنے کیلئے کردار ادا کریں۔ مدارس کو استعمال کر کے مقاصد حاصل کرنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔ امریکہ میں کہا تھا کہ علما دہشت گردی کے خلاف اسلام کا مؤقف پیش کر رہے ہیں۔ اسلام میں معافی اور درگزر کا درجہ بہت بلند ہے۔ مدارس نے دہشت گردی کے خلاف فتوے جاری کئے ہیں۔ دہشت گردی کے ثبوت ملنے پر مدارس کے خلاف کارروائی مشاورت سے کی جائے گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ علمائے کرام نے مدد کی۔ این جی اوز کو قانون کے تحت کام کرنے کی پوری آزادی ہو گی۔ دشمنوں کی قیادت ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ہمارے کئی دشمن سرحد پار بیٹھے ہیں۔ جید علما کی میٹنگ بلا کر ان کی زبان سے اقلیتوں کیلئے پیغامات دلائیں گے۔ تین ماہ میں تمام مدارس کے کوائف حاصل کئے جائیں گے۔ کوآرڈینیشن کی بنیاد پر 5 ہزار آپریشن کئے ہیں۔ فرقہ واریت کے خلاف آپریشن کئی ہفتوں سے جاری ہے‘ جاری رہے گا۔ صرف فوجی آپریشن سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ مدارس کی رجسٹریشن کا نیا فارم بنایا جائے گا، سابقہ فارم کے تحت رجسٹریشن انتہائی مشکل ہے۔ سٹیٹ بنک کو رجسٹرڈ مدارس کے بینک اکائونٹ کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ علماء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطبات میں اسلام کی اصل روح اجاگر کی جائے گی، فرقہ واریت اور نفرت انگیز تقاریر پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، دوسرے مسلک کو کافر کہنا اور واجب القتل قرار دینے کی اسلام میں گنجائش نہیں۔
اسلام آباد (نیٹ نیوز+ نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) حکومت نے کہا ہے کہ اس نے دینی مدارس کی ازسرنو رجسٹریشن کرنے انہیں بیرون ملک سے ملنے والی مالی امداد کی نگرانی کا طریقہ کار وضع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اتحاد تنظیمات المدارس کے علماء نے وزیراعظم کو قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے غیرمشروط حمایت کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے حکومت اور مدراس نے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ مدارس کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کے لئے تیار ہیں۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک سے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کر رکھا ہے، علمائے کرام دہشتگردی اور انتہا پسندانہ ذہنیت کو تبدیل کرنے کیلئے کردار ادا کریں، قومی ایکشن پلان کے تحت مدارس میں اصلاحات کیلئے بھی علمائے کرام سے تعاون کی درخواست ہے، حکومت اس حوالے سے ان کے تمام خدشات دور کریگی۔ مل جل کر امن قائم کرنا، دہشت گردی اور فرقہ واریت کا زہر ختم کرنا ہو گا۔ وہ یہاں مدارس کی تنظیمات کے قائدین سے ملاقات کے دوران بات چیت کررہے تھے۔ اجلاس میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، وزیر مملکت برائے تعلیم و تربیت انجینئر بلیغ الرحمن، آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ قومی ایکشن پلان کے ایجنڈا کی سیاست سے بالاتر ہوکر تکمیل چاہتے ہیں۔ آج پاکستان مشکل دور سے گزر رہا ہے ہمیں دہشتگردی اور انتہا پسندی کے چیلنجوں کا سامنا ہے جنہوں نے پاکستان کو طویل عرصہ سے مفلوج کر رکھا ہے۔ حکومت اور فوجی قیادت نے ملکر ملک کو اس لعنت سے چھٹکارا دلانے کا تہیہ کر رکھا ہے اس مقصد کیلئے قومی ایکشن پلان تیار کیا گیا جس پر عملدرآمد جاری ہے اور ہم ملک میں امن، ترقی اور استحکام کے ایجنڈے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے۔ قبل ازیں وزیر داخلہ کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان کے تحت مدارس سے متعلقہ ایشوز پر اہم اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور وزیر مملکت برائے تعلیم اور تمام تنظیمات مدارس کے اعلی عہدیداروں نے شرکت کی جن میں نائب صدر وفاق المدارس پاکستان مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، سیکرٹری جنرل وفاق المدارس مولانا محمد حنیف جالندھری، وفاق المدارس شیعہ کے ڈاکٹر سید محمد نجفی اور مولانا سید نیاز حسین نقوی، ناظم اعلیٰ رابطہ المدارس اسلامیہ پاکستان ڈاکٹر مولانا عطاء الرحمن، جنرل سیکرٹری وفاق المدارس السلفیہ پاکستان مولانا یاسین ظفر، ناظم اعلیٰ تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان صاحبزادہ عبد المصطفیٰ ہزاروی، صدر رابطہ المدارس اسلامیہ پاکستان مولانا عبد المالک، صدر وفاق المدارس السلفیہ پروفیسر ساجد میر، صدر تنظیم المدارس اہلسنت مفتی منیب الرحمن شامل تھے ۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے ابتدائی خطاب میں کہاکہ اس ملاقات کا مقصد ایسا مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہے جس سے آپس کے تعاون کو مزید فروغ دیا جائے ایسے ایشوز جن پر کسی کو خدشات ہیں انہیں باہمی مشاورت سے حل کیا جاسکے۔ جب سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد شروع ہوا ہے علمائے کرام نے بے حد معاونت کی ہے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں علمائے کرام اور مدارس کا کر دار و تعاون قابل تحسین اور حوصلہ افزا ء رہا ہے۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ اسلام ٗعلمائے کرام ٗ مدارس کے اصل تشخص اور خدمات کو ہر سطح پر اُجاگر کیاجائے میں نے امریکہ اور برطانیہ کے دورے میں بھی بار ہا کہا کہ کسی داڑھی والے مرد اور حجاب والی خاتون کو ممکنہ دہشتگرد سمجھنے کی روش ترک کر نا ہوگا اسی طرح اسلام کا نام بھی دہشتگردی کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہئے، ملک بے شمار مسائل میں گھرا ہوا ہے کچھ ہمارے دشمن اور کچھ دوست نما دشمن ہیں، علماء کرام نے عالمی برادری اور انٹرنیشنل فورمز پر دہشتگردی اور اسلام کے حوالے سے جرأت مندانہ موقف اختیار کر نے پر وزیر داخلہ کے کر دار کو سراہا۔ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعظم نے کہاکہ ملک میں امن ہماری ترجیح ہے۔ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑی جا رہی ہے۔ ہمارے باہمی تعاون سے ملک خرابیوں سے پاک ہوگا۔ اجلاس میں مدارس کی رجسٹریشن اور بینک اکائونٹس سے متعلق دینی مدارس اور حکومت کے درمیان معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع چودھری نثار علی خان نے بتایا کہ ملک میں 177 مدارس کو غیر ملکی فنڈنگ ملتی ہے ، ملک میں 3 درجن سے زائد مدارس بند کئے گئے ، یہ مدارس غیرقانونی جگہوں پر تعمیر تھے ، 47 مدارس پنجاب جبکہ 30 سے زائد سندھ میں ہیں ، تمام مدارس دہشت گردی میں ملوث نہیں ، حکومت مدارس کو اپنی تحویل میں نہیں لینا چاہتی۔ اس موقع پر علما نے کہا کہ مدارس کی توہین اور چھاپے قبول نہیں۔ حکومت سے ہر طرح کا تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں۔ 20 نکاتی نیشنل ایکشن پروگرام میں مدارس کی اصلاحات، فنڈنگ، رجسٹریشن کے حوالے سے اہم نکتہ شامل تھا۔وزارت داخلہ نے اجلاس میں پلان پیش کیا کہ اصلاحات سے مدارس کی کارگردگی میں بہتری آئے گی۔ فنڈنگ کے ذرائع کیلئے باقاعدہ میکانزم بنانے پر بات کی گئی۔ اجلاس میں حکومت اور مدارس کی تنظیموں کے درمیان رابطہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چودھری نثار علی خان کو مدارس امور کا نگران بنا دیا گیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے اجلاس میں بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ قومی لائحہ عمل ہمارا ایجنڈا ہے، قومی لائحہ عمل کے ایجنڈا پر آپ سے مشاورت چاہتے ہیں ہم سب مل کر ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان دہشت گردوں کیخلاف جنگ کامیابی سے لڑی جا رہی ہے، آپریشن ضرب عضب سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے، امیدوں سے بڑھ کر کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔ آئندہ نسلوں کیلئے ملک کو محفوظ بنانے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا ہو گا، ہمارے باہمی تعاون سے ملک خرابیوں سے پاک ہو گا، ملک میں قیام امن ہماری اولین ترجیح ہے۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ مدارس اصلاحات نہیں بلکہ ملک میں تعلیمی اصلاحات لائی جائیں، تجویز کی سب نے حمایت کی۔ مدارس کے نصاب کی بجائے ملک بھر میں تعلیمی اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہاکہ دہشت گردی اور کرپشن کیخلاف جنگ جاری رہے گی۔ مدارس کے خلاف کسی قسم کی بلاجواز کارروائی نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔