PDA

View Full Version : الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی



بےباک
09-08-2015, 07:35 AM
لاہور ہائیکورٹ نے الطاف کی تقاریر‘ سرگرمیاں‘ تصاویر شائع اور نشر کرنے پر پابندی لگا دی (http://www.nawaiwaqt.com.pk/national/08-Sep-2015/412827)



http://www.nawaiwaqt.com.pk/print_images/400/2015-09-08/news-1441673501-8489.jpg
لاہور+ کراچی (وقائع نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے الطاف حسین کی تقاریر‘ ویڈیوز‘ تصاویر‘ بیان اور سرگرمیاں نشر اور شائع کرنے پر تاحکم ثانی پابندی عائد کردی۔ عدالت نے چئیرمین پیمرا کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے میڈیا کے تمام اداروں کو فوراً عدالتی فیصلے سے آگاہ کرنے کا حکم دے دیا۔ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ الطاف حسین سمیت متحدہ کے دیگر مرکزی رہنما میڈیا پر پاک فوج، رینجرز اور ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف مسلسل بیانات نشر کر رہے ہیں مگر حکومت ایم کیو ایم کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ معاملہ سنجیدہ اور حساس نوعیت کا ہے حکومت اور وزیراعظم عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ حکومت ملک دشمنوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے حق میں ہے اور کسی ملک دشمن کو کوئی تحفظ نہیں دے رہی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عدالتی نوٹس کے بارے میں اطلاع دیئے جانے کے باوجود الطاف حسین کی شہریت کے بارے میں رپورٹ نہیں آئی آئندہ تاریخ تک عدالت رپورٹ پیش کئے جانے کی مہلت دے۔ پیمرا کی طرف سے عدالت کے رو برو 1مئی 2015ء کو جاری نوٹیفکیشن پیش کیا گیا جس میں میڈیا کو پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 27 کے تحت تمام ٹی وی چینلز کو ہر طرح کی نفرت انگیز تقریریں روکنے اور نشر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ نوٹیفکیشن ایک جنرل دستاویز ہے جو خاص مدعا علیہ کیلئے جاری نہیں کیا گیا یہ نوٹیفکیشن عدالتی فیصلے کی روح کے مطابق نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ پیمرا نے عمومی نوٹیفکیشن کیوں بھجوایا عدالتی فیصلے سے میڈیا کو آگاہ کیوں نہیں کیا گیا۔ الطاف حسین پاک فوج، حساس اداروں اور ملکی اداروں کے خلاف کس حیثیت میں بیان بازی کر رہا ہے۔ اگر الطاف حسین پاکستانی شہری ہے تو وزارت داخلہ نے ابھی تک کارروائی کیوں نہیں کی۔ عدالت نے سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے الطاف کی شہریت کا ریکارڈ بھی دوبارہ طلب کر لیا۔ پیمرا نے ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ الطاف حسین کی تقریر نشر نہ کی جائے۔ دوسری جانب ایم کیو ایم نے لاہور ہائی کورٹ کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے وکیل اور رہنما فروغ نسیم نے کہا ہے کہ متحدہ اور الطاف حسین لاہور ہائی کورٹ کا احترام کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کو عدالت کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ غیرمنصفانہ ہے۔ حکومت نے بھی اب تک عدالت میں پوزیشن واضح نہیں کی۔