PDA

View Full Version : شریف برادران کے دو اہم کام



سید انور محمود
10-25-2015, 02:51 PM
تاریخ:25 اکتوبر، 2015


http://oi62.tinypic.com/9jisgm.jpg
شریف برادران کے دو اہم کام
تحریر: سید انور محمود​


تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد نواز شریف اور اُن کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف دو کام بہت اہم سمجھ کربہت ہی شوق سے کررہے ہیں، پہلا کام جگہ جگہ میٹرو شروع کرنا اور دوسرا کام یہ ہے کہ ہر تھوڑے دن کے بعد کسی نہ کسی پاور پراجیکٹ کا افتتاح کرنا، فارغ وقت میں میاں صاحبان اورنج ٹرین کا شوق بھی پورا کررہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے کوٹلی آزاد کشمیر میں100میگاواٹ کے گل پور ہائیڈرو پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد فرمایا کہ پاکستان کو بجلی کی قلت کا سامنا ہے جبکہ یہاں 60 ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زیادہ مقدار میں سستی بجلی بنانا اُن کا مقصد ہے۔ بات تھوڑی سی کڑوی مگر سچ ہے کہ یہ جو آئے دن وزیراعظم صاحب کسی نہ کسی پاور پراجیکٹ کاافتتاح کرتے ہیں اس سے عوم کو اب تک ایک دھیلے کا بھی فائدہ نہیں ہوا، آج تک عوام کو بجلی کاایک یونٹ نصیب نہیں ہوا ہے۔

نندی پور کا پراجیکٹ 22 ارب روپےسے 81 ارب روپےپر چلاگیا جبکہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں گیارہ ارب 54کروڑ روپے سے زائد مالیت کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔عوام کو بجلی نہیں مل رہی ہے لیکن حکومت بجلی کی پیداوار بڑھانے کے نام پر عوام کو بیوقوف بنارہی ہے۔ انتخابات کے دوران شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومت نے توانائی بحران کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا لیکن وہ حکومت میں آکر بجلی کی لوڈشیڈنگ صرف دو برس میں ہی ختم کر دیں گے،اب کہا جارہا ہے کہ لوڈشیڈنگ2018ء میں ختم ہوگی۔ لوڈشیڈنگ تو ختم نہیں ہوئی لیکن نواز شریف حکومت کے دو سال پورے ہونے پر بجلی کی قیمتوں میں 121 فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔اس اضافے نے عام آدمی کو زندہ در گور کردیا ہے۔

روز مرہ کی کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافے، حکومت کی طرف سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ، غربت، بےروزگاری اورمہنگائی میں کئی سو گنا اضافہ، حکمرانوں کے شاہانہ انداز نے ملک کے غریب اور متوسط طبقات کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ لوگ اخراجات پورے نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی مریض بن گئے ہیں۔ فیصل آباد کی ثمینہ بی بی کو مرنے کی بہت جلدی تھی حالانکہ اس حاملہ خاتون نے جن وجوہ کی وجہ سے تیزاب پی کر خودکشی کی وہ پاکستان میں بہت عام ہیں۔اُس کا شوہرگزشتہ چھ ماہ سے بے روزگار تھا جس کی وجہ سے اُس کے مالی حالات بہت خراب تھے ایسے میں شاید اُسے صحیح خوراک بھی نہ ملتی ہو جو ایک حاملہ خاتون کو ملنی چاہیے، اُوپر سے پانچ ہزار روپے بجلی کا بل آگیا جسے درست کروانے میں ناکامی کے بعدمیاں بیوی کا آپس میں جھگڑا ہوگیا۔ اپنے شوہر سے جھگڑے کے بعد ثمینہ بی بی نے دل برداشتہ ہوکر تیزاب پی لیا اور مرنے سے قبل ایک بچے کو جنم دیا، ثمینہ بی بی نے موت کو آسان راستہ سمجھ کر اپنا لیا۔ ثمینہ بی بی اور اُس کے شوہر کو یہ نہیں معلوم ہوگا کہ پاکستان کی 20کروڑکی آبادی میں 30لاکھ 58 ہزار لوگ بے روزگار ہیں اور بجلی کے وزیربڑی فرعونیت سے فرماتے ہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں جو اضافہ ہوا ہے عوام کو یہ کڑوی گولی تو نگلنی پڑے گی، ثمینہ بی بی اسی کڑوی گولی کا شکار ہوگئی، کیا ثمینہ بی بی کی اس موت پر خواجہ آصف کو کچھ حیا یا شرم آئے گی؟

ملک کی اکثریت کو پینے کا صاف پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں کے بستر اُن مریضوں سے بھرے رہتے ہیں جو مضر صحت پانی استعمال کرتے ہیں۔ کراچی اور لاہور میں گٹرکے پانی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ وزیراعظم کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اپریل میں لاہور کے ایک مرکزی پمپنگ اسٹیشن جبکہ کراچی کے علاقوں گڈاپ اور گلشن اقبال سے حاصل کردہ ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا۔ایک ہلکی سی بارش کے بعد لاہور کے گٹر ابلنے لگتے ہیں، پنجاب حکومت کی ناقص پالیسیوں اور صحت کے متعلقہ امور کو نظر انداز کرنے سے برسات کے دنوں میں ہر سال لاہور میں تباہی آجاتی ہے۔ لاہور کا سیوریج سسٹم کئی دہائیاں پرانا ہے۔ اس سیوریج نظام کی ٹوٹ پھوٹ سے اہلیان لاہور گٹروں کا گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ لاہور میں سیوریج سسٹم تباہ ہونے کے باعث لوگ یرقان، دل اور جگر کے امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ اورنج ٹرین کے نام پرصرف 27کلومیٹر پر 165 ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں اور ہر اسٹیشن کا خرچہ تقریباً 6ارب روپے سے زیادہ ہے۔ مقامی انجینیئرز کا کہنا ہے کہ اگرسیوریج سسٹم کے بدلنے کے لیے اورنج ٹرین کے لیے مختص کی گئی رقم کا کچھ حصہ بھی خرچ کیا جائے تو پورے لاہور کا سیوریج سسٹم نیا ہوجائے گا۔ اب انجینیئرز کو کون سمجھائے کہ اورنج ٹرین زمین کے اوپر چلتی ہے جو سب کو نظر آتی ہے جبکہ سیوریج سسٹم زمین کے اندر ہوتا ہے جو نظر نہیں آتا۔

ایک عام آدمی جوشاید پانچ یا سات سال پہلے دس ہزارروپے میں گزارا کرلیتا تھا آج اُس کا گزاراہ پچیس ہزارروپے میں بھی مشکل سے ہورہا ہے۔ پاکستان کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی غربت کا شکار ہے، جن کی روزانہ کی آمدنی دو سو روپے یا اُس سے کم ہے۔ فیصل آباد کے محلے نواباں والا مین روڈ کے نزدیک کرائے کے ایک کمرے کے مکان میں رہائش پذیر پندرہ سالہ لڑکی کائنات دختر جاوید صبح سے بھوکی تھی اور اُس کا والد محنت مزدوری کی تلاش میں گھر سے باہر گیا ہوا تھا۔ کائنات نے مکان کے دوسرے حصے میں رہائش پذیرخاندان کو اپنی بھوک کا حوالہ دے کر روٹی یا اس کےلیے کچھ پیسے مانگے تو جواب ملا کہ تم تو تین مہینے کا کرایہ تک نہیں دے سکے۔ اس پر مایوس اور پریشان بھوک کی ماری پندرہ سالہ کائنات مزید دل برداشتہ ہو گئی اور گھر میں موجود زہریلا کالا پتھر کھاکر ابدی نیند سو گئی۔ بیروزگاری اورمہنگائی غریب عوام کے منہ سے نوالہ چھینے کے مترادف ہے، پاکستان مسلم لیگ(ن) عوام کے مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کرکے حکومت میں آئی تھی لیکن عوام کے مسائل بڑھتے ہی جارہے ہیں۔عوام نے جن کو منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھیجا تھا آج انہی حکمرانوں کو کسی کی بھی پروا نہیں۔ حکمران غریب عوام کو سہولیات کے نام پر نرم شرائط پر قرضے اور غریب عوام کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم دے رہے ہیں۔

گیارہ مئ 2013ء کے عام انتخابات میں عوام نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کو اس لیے منتخب کیا تھا کہ نواز شریف عوام کوبھیک کی بجائے باعزت روزگار دیں گے لیکن اُن کے وعدے اور دعوے دونوں ہی جھوٹے نکلے۔ ماضی کی طرح انہوں نے ہنرمندنوجوانوں کو نرم شرائط پر قرضے دیئے ہیں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں ملنے والی بھیک 1000سے بڑھا کر 1200روپے کردی۔ ماضی میں بھی لوگوں نے پیلی ٹیکسیاں لے کر کیا کرلیا تھا سوائے اس کے کہ اُن گاڑیوں کواپنے ذاتی استعمال میں لانا شروع کردیا جس سے بےروزگاری پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ نرم شرائط پر قرضے کی اسکیم تو ناکام ہوگئی اور اگر کسی نے قرض لیا بھی ہوگا تو زیادہ سے زیادہ رکشہ یا ٹیکسی خرید لی ہوگی یا پھر کوئی دکان کھول کر بیٹھ گئے ہوں گے لیکن یہ مسائل کا حل نہیں۔ اگر عوام کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی صورت میں بھیک پر ہی گزارا کرنا ہوتا تو پیپلز پارٹی میں کیا بُرائی تھی؟ پیپلزپارٹی نے تو اعلان کیا تھا کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آئی تو بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم ایک ہزار سے بڑھا کر دو ہزار کردے گی۔ لیکن عوام نے پیپلز پارٹی کو مسترد کرکے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا کیونکہ عوام امید کررہے تھے کہ مسلم لیگ (ن) بےروزگاری کو ختم کرکے عوام کو باعزت روزگار فراہم کرے گی ۔ لیکن افسوس نواز شریف کی حکومت نے عام آدمی کو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں دیا۔

کوٹلی آزاد کشمیر میں ہی وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ گیارہ اکتوبر کے انتخابات شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تھے جس میں دوبارہ مسلم لیگ (ن) کا امیدوار کامیاب ہوا لیکن نتائج کو اب بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے اور اڑتالیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ نتیجہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتیجہ تسلیم نہیں کیا جارہا تو قوم ہی بتائے کہ کس طریقے سے یہ نتیجہ تسلیم کرایا جائے؟ وزیراعظم کے اس سوال کا بالکل سادہ سا جواب ہے کہ آپ نے 2013ء کےانتخابات میں عوام سے جو وعدے کیے تھے اگر وہ پورے کردیئے ہوتے یا کررہے ہوتے تو عوام خود ہی نتیجہ تسلیم کروالیتے۔ وزیراعظم صاحب جمہوری حکومتوں کے عوام تو خوشحال اور علاقے سرسبز و شاداب دکھائی دیتے ہیں، حکومت لوگوں کو ہر طرح کی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بناتی ہے، جمہوری حکومتیں اپنے عوام کی فلاح و بہبود کےلیے نت نئے منصوبے اور پروگرام ترتیب دیتی ہیں جہاں عوام کو زیادہ سے زیادہ اجتماعی ثمرات میسر آتے ہیں اور جب ایسا ہوتا ہے تو جمہوری وزیراعظم کو عوام سے یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ کس طریقے سے نتیجہ تسلیم کرایا جائے؟ آخر میں وزیراعظم نواز شریف اور وزیر بجلی و پانی خواجہ آصف سے ایک سوال کہ فیصل آباد کی ثمینہ بی بی اور کائنات کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟