PDA

View Full Version : پاکستان قومی زبان تحریک



بےباک
11-10-2015, 09:27 AM
جناب عزیز ظفر آزاد کے زیر صدارت ’’قومی زبان کے نفاذمیں میڈیا کا کردار کانفرنس
http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=UX3J

بےباک
11-10-2015, 09:37 AM
کل پاکستان نفاذ اردو میڈیا کانفرنس
کل پاکستان نفاذ اردو میڈیا کانفرنس
رپورٹ: محمد اکرم فضل
یکم نومبر کو ایوان اقبال ، لاہور میں پاکستان قومی زبان تحریک کے زیر اہتمام عزیز ظفر آزاد کے زیر صدارت ’’قومی زبان کے نفاذ میں میڈیا کا کردار‘‘ کے عنوان سے کانفرنس منعقد ہوئی جس کے مہمانان خصوصی وزیر اطلاعات جناب سینیٹر پرویز رشید اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق تھے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض پروفیسر محمد سلیم ہاشمی نے سرانجام دئیے۔ پروگرام کا آغاز حافظ احمد ہاشمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ نعت رسول مقبول ؐ امجد چشتی نے پیش کی۔ تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبولؐ کے بعد قومی ترانہ سنایا گیا۔ صدر پاکستان قومی زبان تحریک عزیز ظفر آزادنے اپنے خطاب کے ذریعے مہمانان گرامی، شرکاء اور میڈیا کے نمائندوں کو خوش آمدید کہا کہ وہ اس اہم ترین قومی کانفرنس میں تشریف لائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وطن عزیز میں قومی زبان کا نفاذ ہمارے وقار اور اقدار کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اللہ تعالی نے جو انبیاء بھیجے انہوں نے اپنی اپنی زبان میں اپنی قوم سے خطاب اور راہنمائی کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج قائد اعظم ؒ کا نام اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے والی جماعت ’’مسلم لیگ‘‘ برسر اقتدار ہے اس لئے ہم امید کرتے ہیں کہ یہ جماعت قائد اعظم ؒ کے مشن اور آئینی تقاضے کو پورا کرتے ہوئے ملک بھر میں قومی زبان’’ اردو‘‘ کا مکمل نفاذ جلد از جلد کرے گی۔ ہم یہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ ملک بھر میں مقابلے کے امتحانات اردو زبان میں منعقد کئے جائیں کیونکہ جو لوگ ان امتحانات میں کامیاب ہو کر آتے ہیں وہ پاکستان کے دور و نزدیک کے علاقوں میں عوامی خدمات انجام دیتے ہیں لہذا انہیں اپنی قومی زبان سے مکمل طور پر آگاہ ہونا چاہئیے۔ البتہ جو افسران بیرون پاکستان تعینات ہوں وہ جس جس ملک میں تعینات ہوں اس ملک کی زبان سیکھ سکتے ہیں۔
پاکستان قومی زبان تحریک کی شعبہ خواتین کی صدر محترمہ فاطمہ قمر نے اپنے خطبہء استقبالیہ میں تمام مہمانان اور شرکاء کو خوش آمدید کہا اور پاکستان قومی زبان تحریک کے اس اہم مطالبے کو دہرایا کہ پاکستان میں ہر شعبہء زندگی میں قومی زبان کا فی الفور نفاذ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا راز ہر شعبہ زندگی میں قومی زبان کا مکمل طور پر نفاذ ہے۔ انہوں نے دنیا کے دیگر ممالک میں ان کی قومی زبانوں کے نفاذ کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قومی زبان کو ہر شعبہ زندگی میں مکمل طور پر نافذ کرنا اشد ضروری ہے۔ انہوں نے وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید کے توسط سے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس قومی اور آئینی مطالبے اور تقاضے کو پورا کرتے ہوئے قومی زبان کو نافذ کرنے کا فوری طور پر اعلان کرے اور اس پر عملدرآمد بھی کرے۔آخر میں انہوں نے میڈیا کے نمائندوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔
پاکستان قومی تحریک صوبہ سندھ کے راہنما سید عارف مصطفی نے کہا کہ پاکستان قومی زبان تحریک کی کارکن فاطمہ قمر قومی زبان کی فاطمہ جناح ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم پاکستان کی قومی زبان سے متعلق عدالت عظمی کے تاریخی فیصلے کے برعکس تقاریر کررہے ہیں جبکہ انہیں اور ان کے علاوہ وفاقی اور صوبائی وزراء کو اب صرف اپنی قومی زبان میں ہی تقاریر کرنا چاہئیں۔ہماری قوم کی تشکیل اس کی قومی زبان میں تعلیم، راہنمائی اور علم و عمل کے ذریعے ہی ہو سکتی ہے۔حکومت نے اس سلسلے میں جو کام کرنا ہے وہ نہیں کرے گی تو پاکستان قومی زبان تحریک اس سلسلے میں اپنا دباؤ جاری رکھے گی۔
معروف دانشور اور کالم نگار اوریا مقبول جان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ دنیامیں جہاں جہاں ترقی ہوئی ہے وہ اس قوم کی اپنی زبان میں ہی ہوئی ہے۔ انہوں نے عرب دنیا کے علاوہ دیگر ممالک کی مثالیں دیں اور بتایا کہ جس قوم نے بھی ترقی کی انہوں نے اپنی زبان اپناتے ہوئے ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ اقوام نے دیگر زبانوں کے لٹریچر اور اہم کتب کو اپنی زبانوں میں ترجمہ کیا اور اس طرح سے وہ قومیں ترقی کرتی گئیں۔ یہ طے اصول ہے کہ آپ اپنی زبان اپنانے میں ہی ترقی حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وطن عزیز میں قومی زبان کے علاوہ دیگر زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے سے ہم ترقی نہیں حاصل کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اور علاقائی زبانوں کے علاوہ قومی زبان کا رائج کرنا انتہائی ضروری ہے۔
جامعہ پنجاب کے شعبہ صحافت سے منسلک ڈاکٹر یحیی مسعود نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر پاکستانی قائد اعظم کے فرامین پر عمل کرنا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں عدالت عظمی نے اپنے تاریخی فیصلے کے ذریعے سے قومی زبان کے نفاذ کا حکم جاری کر دیا ہے اوراس پر قومی سطح پر عمل کرنے کے عمل کو آئینی ضرورت قرار دیا ہے۔ اب اس ملک کے مقتدر طبقوں پر لازم ہے کہ وہ قومی زبان کو تحاریر و تقاریر اور عملی طور پر ہر سطح پر نافذ کریں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، حکومت کے دونوں نمائندے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ لہذا ہم امید کرتے ہیں کہ وہ حکومت کو عوامی مطالبے پرفوری عملدرآمد کے لئے حکومت کو اس کی آئینی ذمہ داری کا احساس دلائیں گے اور عوامی جدو جہد کے نتیجے میں آئینی اور قانونی طور پر عملدرآمد کروائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر یہ ذمہ داری ادا نہیں کرتی تو عوام عدالت عظمی اور دوسری عدالتوں میں جانا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ وہ اپنا آئینی حق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لہذا حکومت بالخصوص دونوں وزراء کرام کم از کم اپنی اپنی وزارتوں کی ویب سائٹس اور دیگر معاملات اردو زبان میں فی الفور منتقل کریں۔ ڈاکٹر صغری صدف نے کہا کہ اس وقت اسٹیج پر جو شخصیات براجمان ہیں وہ حکومت کی نمائندہ بھی ہیں۔امید ہے کہ اس طرح سے ہماری گزارشات حکومت تک بآسانی پہنچ سکیں گی اور ہمارے مطالبات کی پذیرائی بھی ہو گی۔ اگر ہم اپنے لوگوں کو اپنی قومی زبان سے جوڑیں تو یہ قوم پر احسان عظیم ہو گا۔
خواجہ سعد رفیق وزیر ریلوے نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اگر ہم عوام کے احساسات کی ترجمانی نہ کرتے تو ہم کبھی بھی سیاست میں کامیابی حاصل نہ کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان کے نفاذ کی کوششیں کی جا رہی ہیں، ہم اس سلسلے میں اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں اور اس سلسلے میں تمام معاملات کو مد نظر رکھا جا رہا ہے۔ عدالت عظمی کا حکم ہمارے سر آنکھوں پر ہے اور اگر ایسا نہ بھی ہو تب بھی ہم اپنا مافی الضمیر اپنی ہی زبان میں مکمل طور پر ادا کر سکتے ہیں۔ اردونہ صرف رابطے کی زبان ہے بلکہ یہ ایک آئینی اور قانونی ضرورت بھی ہے۔ اس سلسلے میں ایک پارلیمانی کمیٹی بھی تشکیل دی جا سکتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ کچھ تجاویز پر فوری طور عمل کیا جا سکتا ہے۔ اردو بڑی شائستہ اور شستہ زبان ہے۔ یہ اپنی زبان ہی ہے جو ابلاغ کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ چونکہ ہم صدیوں تک غلام رہے ہیں تو یہ اسی ذہنیت کا اثر ہے کہ ہم اپنی قومی زبان کو فوری اور مکمل طور پر نافذ نہیں کر پا رہے ہیں۔یہ ہمارا قومی اور مشترکہ مسئلہ ہے اور اس کا حل نکالنے کی کوشش کر سکتے ہیں اور مایوسی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا، سیاسی اور عوامی نمائندوں کو بھی اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں اردو زبان کو نافذ کرنا ہے اور علاقائی اور مقامی زبانوں کو بھی پس پشت نہ ڈالا جائے بلکہ ان زبانوں کو بھی ان کا جائز حق دینا چاہیے۔اس سلسلے میں ہم سب کو اپنی اپنی کاوش جاری رکھنی چاہیے۔

(جاری ہے)

بےباک
11-10-2015, 09:48 AM
http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=O1QV


http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=49JS


http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=5UEF


http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=CR82


http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=RT92


http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=Z82E


http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=VHA3


http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=IIK3

بےباک
11-10-2015, 09:49 AM
http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=7QHW


http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=S1RI


http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=HJG3


http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=LNMJ


http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=C3YR


http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=9LQ9


http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=2R1N


http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=TGBA


http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=9NGK

بےباک
11-10-2015, 09:59 AM
(بقایا رپورٹ)

سرگودھا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے عدالت عظمی کے فیصلے کی پیروی میں اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی یونیورسٹی کے تمام شعبوں میں اردو کو فی الفور اور لازمی طور پر اختیار کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا اوراب اس پر مکمل عمل ہو رہا ہے۔ انہوں نے مختلف بین الاقوامی مثالوں سے واضح کیا کہ ہر قوم کے لئے اس کی اپنی قومی زبان اختیار کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے لوگ قومی زبان کا مذاق اڑانے سے اجتناب کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے ایٹمی دھماکوں کا تاریخی حکم دیا تھااور اب ان سے یہ گزارش ہے کہ وہ اردو کو مکمل طور پر ہر سطح پر نفاذ کرنے کا حکم جاری فرمائیں۔
حفیظ اللہ نیازی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دونوں حکومتی نمائندے یعنی وزیر اطلاعات اور وزیر ریلوے ہماری اس کانفرنس میں موجود ہیں اس لئے ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری عرضداشت پر عملدارآمد کے لئے حکومت دیر نہیں کرے گی۔ آئین پاکستان کے تقاضے کے مطابق 1988ء سے اردو زبان کو ہر سطح پر نافذ کیا جانا ضروری تھا اور یہی آئین کا تقاضا ہے اور اس پر عملدرآمد کے بغیر چارہ نہیں ہے۔مملکت پاکستان کی نظریاتی اور آئینی ضرورت بھی یہی ہے کہ قومی زبان کو فوری طور پر اس کا حق دیا جائے۔ آئین کی پاسداری کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ آئین کے تقاضے پر عمل کرے اور اردو کو ملکی سطح پر فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ انہوں نے روس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پر کئی علاقائی زبانیں ہیں مگر وہاں پر روسی زبان کو قومی زبان قرار دیا گیا اور اس پر مکمل عملدارآمد ہوا۔ انہوں نے حکومت کو ایک گھوڑے اور عوام کو سواریوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اردو نافذ کرے اور تمام عوام اس کی پابندی کرے گی۔ آپ اگر ایسا نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے تمام قوم کو گونگا بنا کررکھ دیا ہے۔ اردو زبان ہمارے بانیء پاکستان قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ اپنی قوم کو دے چکے ہیں لہذا ہم اورآپ اس سے بھاگ نہیں سکتے کیونکہ یہ آئین کا تقاضا بھی ہے۔ اگر آپ آئین کے تقاضے پورے نہیں کر سکتے تو آپ کسی جنرل سے کیوں امید یا شکوہ کرتے ہیں کہ وہ آئین سے غداری کے مرتکب کیوں ہو ئے ہیں۔

حامد انوار خان نے ملک بھر میں اردو زبان کے فی الفور نفاذ کے لئے قرار داد پیش کی اور پاکستان قومی زبان تحریک کی جانب سے درج ذیل مطالبات پیش کئے جنہیں شرکائے کانفرنس کی اکثریت نے متفقہ طور پر منظور کیا۔

(۱) یہ اجلاس حکومت پاکستان سے اپیل کرتا ہے کہ وہ قائد اعظم ؒ کے فرمودات اور احکامات،پاکستان کے عوام کی غالب اکثریت کی خواہش اور آئین پاکستان کی شق نمبر 251 کی روح پر عمل کرتے ہوئے قومی زبان اردو کو فوری طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سرکاری زبان کا درجہ دیتے ہوئے ہر شعبہء زندگی میں ہر سطح پر نافذ کرنے کا اعلان کرے نیز آئین کی شق کو ملحوظرکھتے ہوئے یہ اجتماع حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں سے اپیل کرتا ہے کہ اردو کو ہر سطح پر دفتری، عدالتی، تعلیمی اور کاروبار مملکت کی زبان قرار دیا جائے۔
(۲) اردو کو مقابلے کے امتحانات کی زبان کے طور پر نافذ کیا جائے نیز انگریزی کو لازمی مضمون کی بجائے اختیاری مضامین تدریس میں شامل کیا جائے۔ یقیناًاس عمل سے نہ صرف پاکستان کی شرح خواندگی میں اضافہ ہو گا بلکہ ان شاء اللہ ملک بھی ترقی کی منازل تیز رفتاری سے طے کرے گا۔
(۳) یہ اجتماع حکومت پاکستان سے یہ اپیل کرتا ہے کہ تمام بین الاقوامی اور ملکی تجارتی، صنعتی، ادویہ سازی اور دیگر مصنوعات بنانے اور
درآمد و برآمد کرنے والی کمپنیوں کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ آئندہ اپنا تمام تجارتی مواد اردو میں بھی تحریر کرنے کی پابند ہوں گی۔
(۴) یہ اجتماع قومی، صوبائی اور ضلعی حکومتوں سے اس بات کا بھی مطالبہ کرتا ہے کہ تمام اشتہاری بورڈ، بل بورڈ، راہنمائی کے بورڈ اور دکانوں کے بورڈ اردو یا وطن عزیز کی علاقائی زبانوں میں تحریر کئے جائیں اور اس مقصد کے لئے مناسب قانون سازی کی جائے۔ نیز اردو یا علاقائی زبانوں کے علاوہ تحریر کئے گئے تمام بورڈ ختم یا تبدیل کر دئے جائیں۔ یہی اپیل حکومت کے علاوہ عوام الناس کے لئے بھی ہے کہ وہ اپنے بورڈز کو قومی یا علاقائی زبان میں تبدیل کر لیں۔
(۵) پاکستان کے برقی اور پرنٹ میڈیا سے بھی مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے تمام اشتہارات آئندہ صرف اور صرف اردو یا دیگر علاقائی زبانوں میں بنائیں۔
(۶) یہ اجتماع حکومت پاکستان، صوبائی حکومتوں اور دیگر تمام اداروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنے ہاں تمام عہد نامے یا حلف نامے اردو میں تبدیل کریں اور ہر عہدے اور منصب کا حلف اردو زبان میں ہی لیا جائے۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ حلف اٹھانے والا فرد حلف کی روح کو سمجھ سکے اور اس کو توڑنے یا پامال کرنے سے گریز کرے۔
(۷) یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ تمام حکومتی عمال اور حکام کو پابند کیا جائے کہ وہ ہر قومی اور بین الاقوامی اجلاس میں قومی زبان میں گفتگو اور خطاب کریں کیونکہ جب وہ ایسے جتماعات میں قومی زبان میں گفتگو یاخطاب کریں گے تو یقیناًاس سے ان کی حب الوطنی اور عزت و تکریم میں اضافہ ہو گا اور دیگر اقوام عالم کو اس امر کا حساس ہو گاکہ من حیث القو م ہماری ایک الگ شناخت ہے۔ ہم ایک ایسی زبان کے حامل ہیں جو ہرلحاظ سے ترقی یافتہ اور زرخیز ہے اور اس زبان میں ہر طرح کے خیالات اور تصورات کو خوبصورت اور دلکش انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

محترمہ سمیحہ راحیل قاضی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس جماعت اور خاندان سے تعلق رکھتی ہیں کہ جنہوں نے اردو زبان کے لئے بہت کام کیا ہے۔ انہوں نے بانیء جماعت اسلامی مولانا سید ابو الاعلی مودودی ؒ کے اس ارشاد کا ذکر کیا کہ اگر کسی قوم سے اس کی اپنی زبان ہی چھین لی جائے تو اس سے زیادہ قوم کا نقصان اور کیا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کی جانب سے اردو زبان کے نفاذ کے لئے جاری کوششوں کو سراہا اور اس سلسلے میں اپنی خدمات بھی پیش کیں۔
پروفیسر زاہد محمود نے اپنے خطاب میں پاکستان قومی زبان تحریک کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کرنے پر میڈیا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیر اطلاعات سینیٹرپرویز رشید کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر غلط ہے کہ اردو کو قومی زبان اختیار کرنے سے پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مختلف مثالیں دے کر واضح کیا کہ اردو کو قومی زبان کی حیثیت دیں اور کسی بین الاقوامی زبان کو اس کی حقیقی ضرورت کے مطابق اختیار کیا جائے۔ ابصار عبدالعلی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں تمام شرکاء نے اس امر پر زور دیا ہے کہ حکومت اردو کو ہی اختیار کرے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ قوانین در قوانین بنانے کے عمل کو اختیار کرنے کی بجائے موجود قوانین پر کماحقہ عملدرآمد کیا جائے تو بہتر ہو گا۔ آپ اپنے ملاقاتی کارڈ اور دیگر دعوت نامے یا بورڈ وغیرہ کو اردو میں منتقل کر دیں یا اگر انگریزی میں لکھنا ضروری ہوں تو ان کے بالائی حصہ میں اردو بھی لازمی درج ہو۔ علاوہ ازیں آپ حکومت یا سرکاری اداروں کو جو مراسلات تحریر کریں وہ اردو زبان میں ہوں اور ان کے آخر میں یہ مطالبہ بھی کریں کہ ایسی درخواست یا مراسلہ کا جواب بھی اردو ہی میں دیا جائے۔
مہمان خصوصی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم جس کام میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو اس کی خوشی مناتے ہیں جسے ہم اظہار تشکر کہتے ہیں اور جب کوئی مطالبہ کرنا ہو تو احتجاج کرتے ہیں اور اس کے لئے ہر جائز راستہ اور ہتھیار اختیار کرتے ہیں مثلاً سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں، احتجاج اور جلسے و جلوس وغیرہ اور اسے جمہوری راستہ اختیار کرنا کہا جاتا ہے۔ جمہوری معاشرے کے ہتھیار کو احسن انداز میں دیکھا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس دیگر راستے اختیار کرنا ۔ آپ نے اردو کے نفاذ کے لئے ایک آلہ یعنی آزاد عدلیہ کاراستہ اختیار کیا تو آپ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے آزاد عدلیہ کی بحالی کے لئے احتجاج کیا اور کہا کہ اپنے مطالبات کے لئے جائز جمہوری طریقے اور راستے اختیار کئے جائیں۔لہذا تبدیلی کے عمل کے لئے صبر کی اشد ضرورت ہے۔ اپنی زبان میں علوم حاصل کرنا اور اپنی زبان میں مافی الضمیر ادا کرنا بین الاقوامی طور پر اور اقوام متحدہ میں بھی تسلیم شدہ ہے۔ عدالت عظمی نے اس سلسلے میں جو فیصلہ دیا ہے وہ حکومت نے تسلیم کر لیا ہے اور اس پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے میں مستعد ہے۔ لہذا آپ کی حکومت آپ کے جذبات کا احساس کرے گی اور اس پر عمل بھی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو اردو میں ہونا چاہیے اور اسے پاکستان کی آواز دنیا کے ہر ملک تک بھی پہنچانی ہے لہذا میڈیا کوضرورت کے مطابق تمام بین الاقوامی زبانیں بھی آنا چاہیئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ میں اردو کو ساتویں زبان کا حق مل گیا تو اس کے ترجمے کا بھی اہتمام ہو گا اور ہمارے وزیراعظم اقوام متحدہ میں بھی اردو میں خطاب کر سکیں گے۔
پاکستان قومی زبان تحریک کی جانب سے وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید کو اعزازی شیلڈ پیش کی گئی جبکہ کئی دیگر شخصیات کو بھی اعزازی سندات دی گئیں۔ آخر میں وزیر اطلاعات سینیٹرپرویز رشید نے کانفرنس میں موجود میڈیا نمائندوں کے سوالات کے جوابات دئیے جبکہ پاکستان قومی زبان تحریک کے صدر عزیز ظفر آزاد نے تمام شرکاء کانفرنس کا شکریہ ادا کیا۔
۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
المرسل: محمد اکرم فضل۔ پاکستان قومی زبان تحریک، 39-40 بابر مارکیٹ، اچھرہ، لاہور
فون نمبر: 0332-490-3289 ای میل: akramfazal@gmail.com آجمورخہ: 7 نومبر 2015ء

Shanzeh
11-13-2015, 10:53 PM
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


http://s13.postimg.org/x6wtsi53b/11057706_915507665176059_3192073972809372104_n.jpg


امریکہ کی جانب سے اردو پڑھنے کے قومی معیارات وضع کرنے کے لئے پاکستان کی معاونت

اسلام آباد (۱۲جون ، ۲۰۱۵ء)__ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) اور وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے اردو پڑھنے کی مہارتوں کے قومی معیارات وضع کرنے کے لئے ایک ورکشاپ منعقد کی جو ایک ہفتے تک جاری رہی۔ اس پروگرام کا انعقاد یو ایس ایڈ کے مالی تعاون سے جاری پاکستان ریڈنگ پروجیکٹ کے تحت کیا گیا۔ یو ایس ایڈ پاکستان کے تعلیمی دفتر کے ڈائریکٹر تھامس لی بلانک اوروزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت بلیغ الرحمن نے ورکشاپ کی اختتامی تقریب کی صدارت کی۔

یو ایس ایڈ پاکستان کے تعلیمی دفتر کے ڈائریکٹر تھامس لی بلانک نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو پڑھنے کے یہ نئے معیارات پاکستان بھر میں اساتذہ کو اپنے طلبہ کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے قابل بنائیں گے اور انہیں بچوں کی ترقی کو جانچنے کے لئے واضح پیمانے مہیا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان معیارات کے تعین سے بچوں کی ابتدائی جماعتوں میں پڑھنے کی صلاحیتوں کو جانچنے اور بچوں کی پڑھنے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے مزید موثر طریقے اختیار کرنے میں حکومت پاکستان کو مدد ملے گی۔

ایک سو ساٹھ ملین ڈالر کے اس پانچ سالہ پاکستان ریڈنگ پروجیکٹ کا مقصد اسکولوں کی جماعتوں میں پڑھانے کے ماحول میں مثبت تبدیلی، تعلیمی پالیسیوں اور نظام کو مضبوط بناکراور تعلیم کے لئے مقامی آبادی کا تعاون حاصل کرکے پہلی اور دوسری جماعتوں کے بچوں کی پڑھنے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے ۔

ورکشاپ کے دوران ۶۵ سے زائد ماہرین تعلیم، ماہرین لسانیات اور حکومتی حکام نے پڑھنے کے معیارات اور طلبہ کی اردو میں روانی جانچنے کے طریقے وضع کرنے کے لئے ایک ہفتے ملکر کام کیا۔ ورکشاپ کے شرکاء نے ہر تعلیمی جماعت کی سطح پر اردو میں روانی جانچنے کے لئے درکار عوامل کا بھی جائزہ لیا۔ ورکشاپ کی اختتامی تقریب کے دوران وزیر مملکت بلیغ الرحمن نے امریکی حکومت اور یو ایس ایڈ کا ان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔


پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لئے امریکی معاونت سے متعلق مزید معلومات کے لئے درج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کیجئے۔

http://1.usa.gov/Mr1uR4

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov (http://usinfo.state.gov/)

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

http://s24.postimg.org/sulh4j7f9/USDOTURDU_banner.jpg

سرحدی
11-30-2015, 09:16 PM
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

ماشاء اللہ! محترم جناب یونس عزیز صاحب کی شبانہ روز محنتوں سے فورم جاری وساری ہے اور اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں ان کا بڑا اہم کردار ہے۔ آج کل پاکستان آئے ہوئے ہیں اور یہاں کی سرگرمیوں سے مجھ ناچیز کو باخبر رکھا ہے۔ اللہ تعالی بہت جزائے خیر عطا فرمائے۔
بڑی خوشی ہورہی ہے اور حوصلہ ملا کہ اردو زبان کی ترویج و اشاعت اور نفاذ کے لیے جو تحریک چلی تھی وہ اپنے منزل کی طرف گامزن ہے۔ اللہ کرے کہ ہم اپنی قومی زبان کو اپنے دفاتر، بول چال میں نفاذ کی عملی کوششیں کرلیں

بےباک
07-14-2016, 08:24 AM
میرا یہ مضمون 14 جولائی 2015 کے نوائے وقت میں شائع ہوا ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح میرے مضمون کی کانٹ چھانٹ کر کے بات کو کچھ کا کچھ بنا دیا گیا،
کیا اب ہمارے احتجاج کا جواب اس طرح سے دیا جائے گا۔ ویسے وہ کہتے ہیں مضمون بھیجیں من و عن شائع کر دیا جائے گا۔

پروفیسر محمد سلیم ھاشمی


انگریز، غلام اور کیچڑ
200 سال ہم انگریز کے غلام رہے۔
اس دوران اس نے ہمارے استحصال کی ہر وہ صورت اختیار کی جو وہ کر سکتا تھا۔
ہمارے مشاہیر کو توپوں سے اڑایا گیا۔
ان کے سرکاٹے گئے۔
ان کی جائیدادیں ضبط کی گئیں۔
ان کو ملک بدر کیاگیا۔
اور ہر وہ شخص جس میں آزادی کی تڑپ نظر آئی اس کو مار دیا گیا، جلا وطن کر دیا گیا یا قید کر لیا گیا۔
پھر ایک شخص اور اس کے ہمراہی منصہ شہود پر نمو دار ہوئے جن کی جدوجہد کے نتیجے میں اس ملک کو آزادی نصیب ہوئی۔
آدمی کیچڑ میں گر جائے
لت پت ہو جائے
تو جب وہ اس کیچڑ سے نکلتا ہے
منہ ہاتھ دھوتا ہے
غلاظت کو صاف کرتا ہے
اور آئندہ کے لئے اس سے بچنے کی تدبیر کرتا ہے۔
غلامی ایک غلاظت تھی
جس میں ہم گر گئے تھے۔
جس میں ہم لت پت ہو گئے تھے۔
اور اس غلامی کا کیچڑ انگریزی زبان تھی۔ جس کے ذریعے ہمارے تشخص کو
ہماری شناخت کو
ہم میں آزادی کے جذبے کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔
ہمارے دل میں احساس کہتری کا بیج ڈالا گیا
اور اس کو قائم رکھنے کے لئے کئی طرح کی تدبیریں اختیار کی گئیں۔
غلاموں کی ایک فوج تیار کی گئی جو انگریزوں کو بالاتر اور انگریزی کو ایک برتر زبان کے حیثیت سے باور کروانے میں جتے رہتے ہیں۔
بھلا او لیول اور اے لیول غلاموں کی فوج تیار کرنے اور انگریزوں کو ہم سے برتر سمجھنے کے سوا کیا ہے۔
جب انگریز یہاں حاکم تھا، تو اس نے جو نصاب تعلیم ہمارے لئے مرتب کیا تھا وہ اس سے بہت ہی کم تر معیار کا تھا جو ان کے ہاں رائج تھا کہ مقصد صرف کلرک پیدا کرنا اور ان کی مشینری کے کل پرزے تیار کرنا تھا۔
بھلا جب ہم غلام تھے تو اس نے ہمارے لئے ایسا نصاب تیار کیا جو ہمیں سر اٹھانے سے پہلے ہی سر جھکا دینے پر مجبور کر دے
تو آج جب ہم آزاد ہیں و ہ ایسا کیوں چاہے گا کہ ہم اپنے آپ کو واقعی آزاد سمجھ کر آزادی کی روش پر چل نکلیں
تو کوچہ کوچہ پھیلے ہوئے مشنری اسکول اور یہ او لیول اور اے لیول کیا ہمیں آزادی کا سبق پڑھانے کے لئے ہیں؟
ہمیں آزادی کی روش پر چلنا سکھانے کے لئے ہیں۔
اور ایک بات جس کی طرف ہمارا دھیان ہی نہیں جاتا
وہ یہ کہ
یہ ادارے اور یہ نظام ان کے ذہنی غلام اور ان کے اداروں کے لئے تیار شدہ مال انتہائی سستے داموں فراہم کرنے کا کام کر رہے ہیں۔
ملک ہمارا، پیسہ ہمارا، ادارے ہمارے
ہم 20 سال میں ایک طالب علم کسی قابل بناتے ہیں اور وہ ہماری نسلوں پر احسان جتاتے ہوئے اس کو اپنے ہاں نوکری دے کر، کاروبار کا لالچ دے کر کھپا دیتے ہیں۔
اور ہمارے لوگ کہتے ہیں اس ملک میں ہے ہی کیا؟
اس ملک میں ملازمتیں ہیں ، کاروبار نہ ترقی کرنے کا کوئی راستہ
ارے جب ہمارا جوہر قابل، ہمارا نوجوان طبقہ ہی اس ملک میں نہیں رہے گا تو ہم ترقی کیسے کریں گے؟ آگے کیسے بڑھیں گے؟
تو انگریز کی غلامی ایک دلدل تھی
اور انگریزی وہ کیچڑ جس سے ہمیں غلیظ رکھنا مقصود تھا
کس قدر حیرانی کی بات ہے
ہم ایک بار پھر اس دلدل میں دھنسنےکو بے چین ہیں۔
اس کیچڑ کو اٹھا اٹھا کر اپنے مونہوں میں بھر رہے ہیں۔ اپنے اوپر مل رہے ہیں، اس میں لت پت ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اور سمجھتے ہیں کہ ہم آزاد ہیں
اور پھر حیران ہوتے ہیں
ہم ترقی کیوں نہیں کر رہے، ہم خوشحال کیوں نہیں ہو رہے؟
ہم پسماندہ سے پسماندہ تر کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟
ارے اس کیچڑ کو کیچڑ سمجھو
اس کو غلاظت سمجھو
اس سے نفرت کرو اس سے نجات پانے کی جدوجہد کرو
تم آزاد ہو جاؤ گے، تم ترقی کرو گے
تم خوشحال ہو جاؤ گے۔
تمہیں گھر سے بے گھر نہیں ہونا پڑے گا۔ تم دنیا میں عزت کماؤ گے۔ تم ایک باوقار اور خود مختار ملک کے باشندے کے طور پر جانے جاؤ گے۔
گر یہ سب نہیں تو ذلیل تو ہم ہیں
بے وقار تو ہم ہیں
دربدر بھٹکتے ہوئے تو ہم ہیں
بھکاری تو ہم ہیں
یار سب کچھ چھوڑو یہ بتاؤ
4 ماہ میں تھر میں 400 کے لگ بھگ بچے بھوک اور بیماری سے مرگئے
ہم ان کو بچا بھی نہ سکے
اس سے زیادہ پسماندگی، بے بسی اور لا چاری کیا ہوگی؟

http://www.nawaiwaqt.com.pk/assets/nawaiwaqt/uploads/epaper/2015-07-14/Lahore/epaper_details_news_images/news_detail_img-epaper_id-7457-epaper_page_id-101175-epaper_map_detail_id577441.jpg

بےباک
07-14-2016, 08:31 AM
ایک سابقہ خبر 10 جولائی 2015
السلام علیکم. مبارک ھو.
ماہ مقدس میں آپکی دعاؤں سے عدالت عظمی نے آج تاریخ سازفیصلہ سنایا.
صدر، وزیراعظم و دیگرحکام اردو میں تقاریرکریں گے تمام قوانین کااردو میں ترجمہ کیا جائے گا. الحمداللہ
اس ضمن میں محترم جناب Aziz Zafar (https://www.facebook.com/azizzafarazad) کی سربراہی میں اپنائی جانے والی حکمت عملی اور جناب پروفیسر سلیم ہاشمی تحریک اردو پاکستان (https://www.facebook.com/muhammad.muhammadsaleem.3)، پروفیسر زاہد اور محترمہ قمر فاطمہ کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا.