PDA

View Full Version : پاکستانی نژاد برطانوی ماہر اقبالیات سبینہ خان سے ایک نشست



بےباک
11-17-2015, 08:07 AM
اردو زبان ہی رابطے کی زبان ہے۔
زبان چھن جائے تو ثقافت بھی اگلی نسلوں تک منتقل نہیں ہوسکتی۔ سبینہ خان
پاکستان قومی زبان تحریک کے زیراہتمام نشست سے پاکستانی نژاد برطانوی ماہر اقبالیات کا خطاب
http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=SOIW
لاہور (16 نومبر) ’’ قومی زبان اردو کا نفاذ ناگزیر ہے کیونکہ اردو زبان ہی ہمارے رابطے کی زبان ہے۔ اس سے نہ صرف ہماری ثقافت محفوظ رہ سکتی ہے بلکہ ترقی کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہا ر برطانیہ سے خصوصی دورے پر پاکستان آئی ہو ئی پاکستانی نژاد برطانوی ماہر تعلیم، دانشور، مصنفہ اور محقق اقبالؒ سبینہ خان نے پاکستان قومی زبان تحریک کے زیراہتمام اپنے اعزاز میں ہونے والی تقریب میں کیا۔انہوں نے کہا کہ میری تربیت انگریزی معاشرے میں اور انگریزی ذریعہ تعلیم سے ہوئی مگر میں نے پاکستانی ہونے کے ناطے اردو زبان سے اپنا اٹوٹ رشتہ قائم رکھا۔ برطانیہ میں رہنے والے پاکستانیوں بالخصوص اردو بولنے والوں کے مسائل پر تحقیق مکمل کی اور نفاذ اردو کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے کہا زبان چوتھی نسل تک پہنچ کر زوال پذیر ہو جاتی ہے جس سے ثقافت، تہذیب و تمدن اگلی نسل تک نہ پہنچنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ برطانیہ ، جہاں انگریزی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے، اردو زبان کو زوال کی طرف دھکیلا جا رہا تھا لہذا اس خدشہ کے پیش نظر میں نے برطانیہ میں اردو زبان کو اس کا اصل مقام دلانے کے لئے کوششوں کا آغاز کیا، رومن زبان کے ذریعے اردو زبان تک رسائی حاصل کرنے کا کام کیا ہے اور طلباء کو رومن زبان کے ذریعے اردو زبان سکھائی۔انہوں نے اپنی تصانیف کا ذکر کرتے ہو ئے بتایا کہ اردو کو رومن اور انگریزی ترجمہ کے ساتھ شائع کیا گیا ہے جس سے اردو زبان سمجھنا سہل ہو گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں مانچسٹر یونیورسٹی میں اردو پڑھانے کا اہتما م ہو گیا ہے جبکہ رواں برس یونیورسٹی میں اردو زبان پر عبور حاصل کرنے والوں کو ڈگریاں جاری کی جائیں گی جو کہ ایک خوش آئند عمل ہے۔انہوں نے پاکستان قومی زبان تحریک کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی زبان تحریک کی کوششوں نے مجھ میں ایک نئی جہت پیدا کی اور مزید آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان قومی زبان تحریک کے صدر عزیز ظفر آزاد نے کہا کہ ہماری تعلیم اور تاریخ سب اردو میں ہے اس کے نفاذ کے لئے ہمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہو گا۔انہوں ے سبینہ خان کی بیرون ملک اردو زبان کے لئے خدمات کو سراہا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عدالت عظمی کے فیصلے پر من وعن عمل کرتے ہوئے تمام محکموں اور اداروں میں فی الفورا ردو نافذ کرے اور عدالتی حکم کی نافر مانی کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف آئین کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کرے۔ شعبہ خواتین کی صدر محترمہ فاطمہ قمر نے سبینہ خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو ایسی بیٹیوں پر فخر کرنا چاہیئے جو دیار غیر میں بھی اپنی قومی شناخت اور افکار قائد کی عملداری کے لئے دریغ نہیں کر رہی ہیں۔ تقریب میں پاکستان قومی زبان تحریک کے عہدیداران اور معاونین نے بھی شرکت کی۔
جاری کردہ: پاکستان قومی زبان تحریک۔ 40بابر مارکیٹ، اچھرہ، لاہور ۔ شعبہ نشرو اشاعت۔ فون 03324903289/03334434982
Email: pakistantv@ymail.com/akramfazal@gmail.com آجمورخہ: ۱۶ِ نومبر ۲۰۱۵ ء

شاہنواز
11-18-2015, 06:06 PM
قوم کی پہچان ہی اس کی اپنی مادری زبان سے ہوتی ہے اور دنیا بھر میں رواج بھی یہ ہی کہ اپنی زبان میں تعلیم دو چاہے وہ فرینچ ہو یا جاپانی یا جرمنی سب اپنی اپنی زبانوں میں تعلیم دیتے ہیں اور انگریزی کو سہل زبان یعنی بولنے کےلئے استعمال کیا جاتا ہے کہ اگر دوسری جگہ جانا ہوتو اس زبان کا سہار ا لیا جائے ۔ دنیا میں تما م اسکولوں میں مختلف زبانیں بچوں کو سکھائیں جاتیں ہیں لیکن ایک زبان میں تعلیم دی جاتی ہے اور وہ ہے اپنی مادری زبان