PDA

View Full Version : حسن



شاہنواز
11-18-2015, 07:43 PM
حسن


حسن پر کتنا کچھ لکھا گیا ہے اور لکھا جارہا حسن کی تعریف اگر ادبی طور پر کی جائے تو اس کے لئے الفاظ کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا پڑتا ہے کہ یہ موضوع اپنی جگہ جہاں لطافت لئے ہوئے وہاں سنگینی بھی لئے ہوئے اس لئے اس کو بہت محتاط انداز میں بیاں کررہا ہوں معزز بھائیوں بہنوں اگر کچھ کوتاہی سرزد ہوجائے تو معافی کا طلبگار ہوں۔ حسن کو کبھی اس گلاب سے تشبیح دی جاتی ہے جو کہ ڈالی پر لگا اپنی مستی میں کھلا کھلا چھوم رہا ہوتا ہے یا تو ایسے چودھویں کے چاند سے دی جاتی ہے جو اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ رات کو ہر گھر اور ہر کی آنکھ کا تارا بنا ہوتا ہے ۔ زلیخا کا بھی حسن تھا جو کہ مرد اپنی انگلیاں کاٹ لیا کرتے تھے ۔ اردو ادب کا ترقی پذیر دور جس میں حسن کی تعریف میں اکثر حدور پھلانگ لی جاتی تھی اور حسن کی تعریف ایک طرف رہ جاتی تھی تو معاملات کسی اور سمت چلے جاتے تھے ان میں سے دو ادیب اردو ادب کے پایہ نا ز ادیب پہلے تو سعادت حسن منٹو کا ذکر کرنا مناسب ہوگا جب سعادت حسن منٹو حسن کی تعریف کرتے کرتے کچھ آگے نکل جاتے تھے تو ان کی اس ادیبانہ الفاظ کی شدید مذمت کی جاتی تھی ان کی کچھ تصانیف جن کے نام یہاں لینا مناسب نہین ہوگا اور دوسری شخصیت جو کو سعادت حسن منٹو کی طرح ہی متنازعہ ہستی ہے وہ عصمت چغتائی انہوں نے بھی سماج کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایسی ادبی زبان استعمال کی کہ پورے پاک و ہند میں ایک کھلبلی سی مچ گئی اور شعرا تو شعرا دیگر ادیب بھی ان دونوں مایہ ناز ہستیوں کے خلاف میدان میں آگئے خیر اگر ہم آج کے دور میں ان ادیبوں کی زبان استعمال کریں تو ہم پر فحش گوئی کا الزام لگ جائے گا کہ آج کل ہر طرف یہی ہور ہا ہےا ور حسن اپنی اس درگت پر افسوس کرتا رہے گا کہ میں بنا تھا لوگو ں کو خوش کرنے کے لئے ان کی دل لگی کے لئے اور مسکراہٹ لانے کے لئے لیکن یہ لوگ تو حسن کا جنازہ ہی نکال رہے حسن تو ایک نازک سی ڈلی کی طرح ہوتا ہے جس پر ایک پھول ہنستا مسکراتا جھوم رہا ہوتا ہے ۔حسین چیز کو دیکھ کرہی طبعیت خوش کن ہوجاتی ہے چاہے وہ کوئی انوکھا پرندہ ہو یا کوئی ہستی کوئی خوبصورت مسکراتے چہرے والی نازنین حسن کی تعریف نہ کرنا بھی حسن کے ساتھ ناانصافی ہے


Last edited by شاہنوازعامر (http://sachiidosti.com/forum/posthistory.php?p=1964667); 01-11-2015 at 10:28 PM.