PDA

View Full Version : سانحۂ پشاور کی پہلی برسی



بےباک
12-16-2015, 09:02 AM
سانحۂ پشاور کی پہلی برسی
صوبائی حکومت نے آرکائیوز لائبریری کو آرمی پبلک سکول کے سانحے میں مرنے والوں کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے آرمی پبلک سکول میں طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں 141 افراد کی ہلاکت کے واقعے کی پہلی برسی بدھ کو سرکاری سطح پر منائی جا رہی ہے۔

16 دسمبر 2014 کو ہونے والے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت طلبا کی تھی اور برسی کی مرکزی تقریب بھی سکول میں ہی منعقد ہوگی۔
ہلاک شدگان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے صوبے کے دیگر شہروں کے علاوہ ملک بھر میں بھی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق مرکزی تقریب میں پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور برّی فوج کے سربراہ کے علاوہ اہم سیاسی شخصیات، غیر ملکی سفیر اور ہلاک شدگان کے لواحقین شرکت کریں گے۔
اس موقع پر خیبر پختونخوا کی حکومت نے ضلع پشاور کے تمام تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ ملک کے دیگر صوبوں میں تمام تعلیمی ادارے بند ہیں گے۔
اس تقریب کے علاوہ پشاور کی آرکائیو لائبریری میں بھی بدھ کو سرکاری سطح پر برسی کی تقریب منعقد ہوگی۔
صوبائی حکومت نے آرکائیوز لائبریری کو آرمی پبلک سکول کے سانحے میں مرنے والوں کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ وہاں ایک یادگار بھی تعمیر کی جا رہی ہے جس پر سانحۂ پشاور میں ہلاک ہونے والے تمام بچوں کی تصویریں لگائی جائیں گی۔

اس کے علاوہ ملک کے تمام وفاقی سکولوں اور کالجوں میں بدھ کو یوم شہدائے آرمی پبلک سکول منایا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے پہلے ہی دارالحکومت اسلام آباد کے 122 سکولوں اور کالجوں کو ان طلبا سے منسوب کرنے کا اعلان کیا ہے جو 16 دسمبر کے حملے میں مارے گئے تھے۔

برسی کی تقریبات کے تناظر میں پشاور میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شہر میں دو ہزار کے قریب پولیس اہلکار تعینات ہیں۔
آرمی پبلک سکول پر حملے کی برسی کے تناظر میں ایک تقریب منگل کی شب برطانوی شہر برمنگھم میں بھی منعقد ہوئی جس میں وہاں زیرِ علاج طالبعلموں کے علاوہ نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے بھی شرکت کی۔
’پوپیز فار پیس ان پشاور‘ نامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ کا کہنا تھا کہ ضربِ عضب کے بعد اب پاکستان کو اب ضربِ قلم کی ضرورت ہے کیونکہ تعلیم ہی لوگوں کو شدت پسندی سے دور رکھنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ملالہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر دنیا دہشتگردی کے خاتمے کی نیت رکھتی ہے تو اسے دنیا بھر کے مسلمانوں کو دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرانے سے گریز کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ اس قسم کی الزام تراشی سے دہشت گردی تو نہیں رکتی بلکہ یہ مزید لوگوں کو ’ریڈیکل‘ خیالات کی جانب مائل کرنے کا سبب بنتی ہے۔