PDA

View Full Version : السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ



روشن خیال
03-27-2016, 07:21 PM
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ از صبا ملک
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

سلام کی ابتداء

سلام قولا من رب رحیم ۔ سلام بولنا اللہ تعالی کی طرف سے ہے ۔ ۔ ابراہیم پر سلامتی ہو القران

جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کے جسم میں روح پھونکی تو انہیں چھینک آئی انہوں نے اللہ کے حکم سے الحمدللہ کہا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یرحمک اللہ۔اللہ تم پر رحم کرے۔ (ابن حبان)

پھر اللہ تعالیٰ نےآدم علیہ السلام سے فرمایا جاؤ ان فرشتوں کو سلام کرو اور وہ جو جواب میں کہیں گے وہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا۔ آدم علیہ السلام ان کے پاس گئے اور ان سے "السلام علیکم کہا " فرشتوں نے جواب دیا "وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ (بخاری شریف)

جب تمہیں کوئی سلام کرے تو اس سے بہتر دعا دو ورنہ یہی دعا لوٹا دو ۔ 86۔4

اسلیے جواب میں اضافی دعائیہ کلمات کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ جیسے السلام و علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ ! جب مسلمان دعائیہ کلمات کہتے ہیں تو اللہ تعالٰی ان پر رحمت کی نظر ڈالتا ہے اور ان کے گناہ معاف فرما دیتا ہے سلام کرنا ایک دینی فریضہ ہے

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی بات بتاؤں ؟ جس کے کرنے سے تم میں باہمی محبت بڑھ جائے ،" تو ایک دوسرے کو سلام کیا کرو " ۔

تمام چھوٹے اور بڑوں کو سلام کا حکم ہے اور یہی سلام انسانیت کا تحفہ ہے سلام میں پہل کرنے والے کو زیادہ اجروثواب ملتا ہے اور وہ تکبر سے پاک ہوجاتا ہے اور باہمی محبت بڑھتی ہے ۔ مشکوة

جب گھروں میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کیا کرو جو اللہ تعالٰی کی طرف سے مبارک اور اچھی دعا ہے اسی طرح اللہ تعالٰی تمہارے لیے احکام بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو ۔ القران ۔

اسلام دین خیر خواہی کا نام ہے تمام مخلوق کنبہ خدا ہے اللہ تعالی کو سب زیادہ محبوب وہ آدمی ہے جو کنبے کے ساتھ سب زیادہ خیرخواہانہ رویہ رکھے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کے دکھ درد میں شریک ہو اور اس سے ہمدردی اور شفقت کا برتاو کرئے ۔ اور کسی کی عدم موجوگی میں اسے غیبت اور تہمت سے بچایا جائے ہر ایک کے حق میں کلمہ خیر کہا جائے اور دین وایمان کا تقاضہ بھی یہی ہے ۔ ( بہیقی ) سلام پھلاو تاکہ تم سر بلند ہوجاو۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا،"ایمان دخول جنت کے کےلیے لازمی ہے اور کثرت سلام کا نتیجہ باہمی محبت ھے اسکی اشاعت دخول جنت کا موجب ہے ۔ دخول جنت ایمان پر منحصر ہے اور ایمان باہمی محبت کے بغیر ممکن نہیں نبی اکرم ﷺ محض سلام کہنے کی خاطر بازار میں تشریف لے جاتے دکانداروں کو سلام کہتےآگے گزر جاتے ۔ سلام کیا کرو دعا دیا کرو اس سے اپس میں محبت بڑھتی ہے دوستانہ اور مخلصانہ تعلقات بڑھتے ہیں جس سے قوت ایمان بڑھتی ہے نور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور ایمان اخرکار دخول جنت ہوتا ہے ۔ایمان کی قوت سے نفرت وحقارت اورتکبر کا خاتمہ ہوتا ہے ۔

نبی اکرم ﷺ کا عمل ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہے بیشک تہمارے لیے اللہ کے رسول ﷺ بہترین نمونہ ہے القران

یہی ہے مروت یہی دین وایمان کہ کام اۓ انسان کے انسان

نبی اکرم ﷺ نے فرمایاِ ، " یہودی اور انصاری کو سلام میں پہل نہ کرو جب تمہیں سلام کرے تو صرف وعلیکم کہو ۔ ( مسلم )

نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں یہودی ایسے الفاظ بولتے تھےجن کے دو معنی ہوتے تھے مثلاً نبی اکرم ﷺ کی محفل میں اتے تو ،" انظرنا " کہتے ( بات کو دوبارہ سمجھائیے کی بجاے " راعنا " کہتے ) جسکا مطلب چرواہا ، بیفوقوف ہے ۔ اسی طرح اپ کو اور مسلمانوں کو سلام تو کہتے السلام علیکم کی بجاے اَسًَامُ ( ل کے حذف کے ساتھ کہتے ) سام کا معنی موت اور ہلاکت کے ہیں وہ بجاے سلامتی کے ہلاکت کی بددعا دیتے ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے جواب کا یہ طریقہ بتایا تم صرف وعلیکم کہو ( یعنی جو تم نے کہا تم پر پلٹ جاے ) القران

ایک دفعہ یہودی نے حسب دستور نبی اکرم ﷺ کو کہا السًامُ علیکم کہا ( یعنی اپ کوموت آئے) تو حضرت عائشہ سن رہی تھیں انہوں نے بے ساختہ جواب دیا " بلکہ تم کو موت آئے اور تم پر لعنت ہو "۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، " میں نرم خو ہوں اور تمام امور میں نرمی پسند کرتا ہوں " حٰضرت عائشہ نے عرض کیا اپ نے سنا نہیں جوانہوں نے کہا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ، "میں نے ان کے جواب میں صرف وعلیکم کہہ دیا ( تم پر بھی کہہ دیا ہے )

بدکلامی کا جواب بدکلامی سے دینا اسوہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔

وما علینا الا البلاغ

بےباک
03-28-2016, 05:40 AM
جزاک اللہ ،
اللہ تعالی سب مسلمانوں پر اپنا رحم فرمائے اور انسانوں کو اسلام سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین