PDA

View Full Version : انڈین جاسوس کی اعترافی ویڈیو



بےباک
03-30-2016, 06:18 AM
http://www.geo.tv/assets/uploads/updates/2016-03-29/l_103087_025157_updates.jpgپاکستان میں را کے لیے کام کیا:’جاسوس کی اعترافی ویڈیو‘
پاکستانی فوج نے گذشتہ دنوں گرفتار ہونے والے مبینہ انڈین جاسوس کا ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا ہے جس میں کلبھوشن یادو نامی شخص نے اعتراف کیا ہے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور وہ انڈیا کی ایجنسی را کے لیے کام کر رہے تھے۔
خیال رہے کہ انڈیا کی حکومت نے کہا تھا کہ کلبھوشن یادو بھارتی (http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/03/160325_pakistan_fo_raw_india_tk) بحریہ کے حاضر سروس نہیں بلکہ سابق افسر تھے جن کا بھارتی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔
’کلبھوشن کا اعتراف بے بنیاد ہے، قونصلر تک رسائی دیں‘ (http://www.bbc.com/urdu/regional/2016/03/160329_indian_reaction_raw_agent_tk.shtml)
منگل کو فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ کلبھوشن کو مہران بیس حملے، ایس ایس پی چوہدری اسلم پر حملے کے منصوبے کے بارے میں بھی معلوم تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دنیا میں یہ بہت غیر معمولی ہوتا ہے کہ کسی ایک ملک کا حاضر سروس افسر کسی دوسرے ملک میں پکڑا جائے۔
ویڈیو کے آغاز میں ہی انڈیا کے مبینہ جاسوس کلبھوشن یادو نے بتایا کہ انھوں نے 1991 میں انڈین بحریہ میں شمولیت اختیار کی۔
چھ منٹ کے دورانیے پر مشتمل ویڈیو میں کلبھوشن یادو نے بتایا کہ انھوں نے سنہ 2013 میں را کے لیے کام شروع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ کراچی اور بلوچستان میں را کی جانب سے بہت سی کارروائیاں کرتے رہے ہیں اور وہاں کے حالات کو خراب کرتے رہے۔
’میں را کے جوائنٹ سیکریٹری انیل کمار گپتا کے لیے اور ان کے پاکستان میں موجود رابطہ کاروں کے لیے خاص طور پر بلوچ طلبہ تنظیموں کے ساتھ کام کرتا تھا۔‘
کلبھوشن یادو کے مطابق اس عرصے میں انھیں معلوم ہوا کہ را پاکستان اور اردگرد کے خطے میں بلوچ آزادی کی تحریک کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔
یہ کارروائیاں مجرمانہ اور قومیت کے خلاف اور پاکستانیوں کو ہلاک کرنے پر مشتمل تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ تین مارچ کو پاکستانی حکام نے انھیں اس وقت گرفتار کیا جب وہ ایران سے پاکستان داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا مقصد پاکستان میں داخل ہو کر بی ایس این (بلوچ سب نیشنلسٹس) کے اہلکاروں سے ملاقات کرنی تھی جو آنے والے دنوں میں بلوچستان میں کوئی کارروائی کرنا چاہتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ آزادی کی تحریک کی مختلف طرح سے مدد کی جا رہی تھی۔ ’اور میرے علم میں یہ کارروائیاں غدر، پسنی، جیونی اور بندرگاہ کے گرد بہت سی تنصیبات پر ہوتی تھیں۔‘
کلبھوشن یادو کے بیان کے بعد آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بتایا کہ وہ پاکستان میں کشتیوں اور سکریپ کے بزنس مین کی حیثیت سے داخل ہوئے۔
انھوں نے بتایا کہ ’جب یہ پکڑے گئے تو ان کے پاس پاکستانی، ایرانی اور امریکی کرنسی تھی۔ ان کے پاس پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے نقشے تھے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ انڈیا کے ایجنٹ چاہ بہا ر میں جیولری کا کام کر رہے تھے۔
’اگلا ہدف گوادر تھا‘
پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق کلبھوش انسانی سمگلنگ اور اسلحے کی فراہمی کا کام بھی کرتے تھے۔
’گودار کے ہوٹل میں جہاں چینی شہری موجود تھے وہاں دھماکے کا ٹاسک بھی ان کو دیا گیا تھا جو انھوں نے کیا۔ مہران بیس کی ٹاسکنگ اور فنڈنگ کا بھی یہ بتا رہے ہیں کہ یہ ان کے علم میں تھا۔ کراچی میں ایس ایس پی چوہدری اسلم کے قتل کے بارے میں بھی یہ بتا رہے ہیں۔‘
فوج کے ترجمان کے مطابق انڈین جاسوس کے کاموں میں کراچی میں فرقہ ورانہ ٹائیگر فورس اور بلوچ سب نیشنلسٹس کے ساتھ نیٹ ورکنگ اور بلوچستان کے اندر کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنا جن میں گیس پائپ لائن اڑانا اور دوسری کارروائیاں شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تفتیش میں انھوں نے بتایا کہ مستقبل میں گوادر پورٹ ان کا ہدف تھا۔ جس میں پاک چین اقتصادی راہ داری کو متاثر کرنا تھا۔ اس سلسلے میں پاکستانی کوسٹ میں وہ 30 سے 40 را کے ایجنٹس کو شامل کروانا تھا۔
ڈجی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کلبھوشن یادو کہتے ہیں کہ انڈیا کے حکام ان کا کوڈ ورڈ بتائیں کہ (Your monkey is with us) ’تمھارا بندر ہمارے پاس ہے‘۔
سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک بار پھر وضاحت کی کہ ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات میں پاکستانی فوج کے سربراہ نے پاکستان میں انڈیا کی خفیہ ایجنسی را کی مداخلت کے حوالے سے بھی بات کی تھی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انڈیا کے جاسوس تک قونصلر کو رسائی ملے گی تو انھوں نے کہا کہ قونصلر کی رسائی میں تکنیکی معاملات ہیں اور آنے والے دنوں میں بہت کچھ واضح ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں عاصم باجوہ نے کہا کہ یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہر فورم پر اٹھایا جانا چاہیے یہ ہماری بقا کا مسئلہ ہے۔
وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ ابھی کلبھوشن یادو کے بارے میں اطلاعات اکھٹی کی جارہی ہیں فیصلہ عدالت کو ہی کرنا ہے ابھی انتظار کرنا چاہیے۔

بےباک
03-30-2016, 06:29 AM
http://i.dawn.com/large/2016/03/56f53aa336109.jpg?r=7389984

بےباک
03-30-2016, 09:45 AM
http://ummat.net/2016/03/30/images/news-02.gif