PDA

View Full Version : شداد بن عاد کی جنت



بےباک
05-03-2016, 08:27 AM
بارہ سال میں تیار ہونے والی شداد کی جنت؟
ان لوگوں کا تعلق قومِ عاد سے تھا اور وہ اِرم نام کی بستی کے رہنے والے تھے۔ وہ بستی بڑے بڑے ستونوں والی تھی۔ عماد جمع ہے عمد کی اور عمد کے معنی ستون کے ہیں۔ عاد کے نام سے دو قومیں گزری ہیں۔ ایک کو عادِ قدیمہ یا عادِاِرم کہتے ہیں۔ یہ عاد بن عوض بن اِرم بن سام بن نوحؑ کی اولاد میں سے تھے۔ ان کے دادا کی طرف منسوب کرکے ان کو عادِ اِرم بھی کہا جاتاہے۔ اپنے شہر کا نام بھی انھوں نے اپنے دادا کے نام پر رکھا تھا۔ ان کا وطن عدن سے متصل تھا۔
ان کی طرف حضرت ہُودؑ مبعوث کیے گئے تھے لیکن قومِ عاد کی بداعمالیوں کے سبب جب انھیں تباہ کردیا گیا تو حضرت ہُودؑ حضر موت کی طرف مراجعت کر گئے۔ ان کی رہائش احقاف کے علاقے میں تھے۔ حضرت ہوُدؑ کی وفات یہیں پر ہوئی۔ احقاف میں بسنے والی اس قوم نے بہت ترقی کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو غیرمعمولی قدوقامت اور قوت عطا فرمائی تھی۔ ان میں ہر شخص کا قد کم از کم بارہ گز کا ہوتا تھا۔ طاقت کا یہ حال تھا کہ بڑے سے بڑا پتھر جس کو کئی آدمی مِل کر بھی نہ اٹھا سکیں، ان کا ایک آدمی ایک ہاتھ سے اٹھا کر پھینک دیتا تھا۔ یہ لوگ طاقت و قوت کے بل بوتے پر پورے یمن پر قابض ہوگئے۔ دو بادشاہ خاص طور پر ان میں بہت جاہ جلال والے ہوئے۔ وہ دونوں بھائی تھے۔ ایک کا نام شدید تھاجو بڑا تھا۔ دوسرے کا نام شدّاد تھا جو اس کے بعد تخت نشین ہوا۔ یہ دونوں وسیع علاقے پر قابض ہوگئے اور بے شمار لشکر و خزانے اُنھوں نے جمع کر لیے تھے۔
عادِاِرم کا قصہ
شدّاد نے اپنے بھائی شدید کے بعد سلطنت کی رونق و کمال کو عروج تک پہنچایا۔ دنیا کے کئی بادشاہ اس کے باج گزار تھے۔ اُس دور میں کسی بادشاہ میں اتنی جرأت و طاقت نہیں تھی کہ اس کا مقابلہ کرسکے۔ اس تسلط اور غلبہ نے اس کو اتنا مغرور و متکبر کردیا کہ اس نے خدائی کا دعویٰ کردیا۔ اُس وقت کے علما و مصلحین نے جو سابقہ انبیا کے علوم کے وارث تھے، اسے سمجھایا اور اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو وہ کہنے لگا، جو حکومت و دولت اور عزت اس کو اب حاصل ہے، اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے سے کیا حاصل ہوگا؟ جو کوئی کسی کی خدمت و اطاعت کرتا ہے، یا تو عزت و منصب کی ترقی کے لیے کرتا ہے یا دولت کے لیے کرتا ہے، مجھے تو یہ سب کچھ حاصل ہے، مجھے کیا ضرورت کہ میں کسی کی عبادت کروں؟ حضرت ہُودؑ نے بھی اُسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن بے سُود۔
سمجھانے والوں نے یہ بھی کہا کہ یہ حکومت و دولت ایک فانی چیز ہے جبکہ اللہ کی اطاعت میں اُخروی نجات اور جنت کا حصول ہے جو دنیا کی ہر دولت سے بہتر اور زیادہ قیمتی ہے۔ اس نے پوچھا، یہ جنت کیسی ہوتی ہے؟ اس کی تعریف اور خوبی بتاؤ۔ نصیحت کرنے والوں نے جنت کی وہ صفات جو انبیائے کرام کی تعلیمات کے ذریعے ان کو معلوم ہوئی تھیں، اس کے سامنے بیان کیں تو اس نے کہا ”مجھے اس جنت کی ضرورت نہیں ایسی جنت تو میں خود دنیا ہی میں بنا سکتا ہوں۔“
شدّاد کی جنت
چنانچہ اس نے اپنے افسروں میں سے ایک سو معتبر افراد کو بلایا۔ ہر ایک کو ایک ہزار آدمیوں پر مقرر کیا اور تعمیر کے سلسلے میں ان سب کو اپنا نکتہ نظر اور پسند سمجھا دی۔ اس کے بعد پوری دنیا میں اس کام کے ماہرین کو عدن بھجوانے کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں اپنی قلمرو میں سب حکمرانوں کو یہ حکم دیا کہ سونے چاندی کی کانوں سے اینٹیں بنوا کر بھیجیں۔ اور کوہِ عدن کے متصل ایک مربع شہر (جنت) جو دس کوس چوڑا اور دس کوس لمبا ہو، بنانے کاحکم دیا۔ اس کی بنیادیں اتنی گہری کھدوائیں کہ پانی کے قریب پہنچا دیں۔ پھر ان بنیادوں کو سنگِ سلیمانی سے بھروادیا۔ جب بنیادیں بھر کر زمین کے برابر ہوگئیں تو ان پر سونے چاندی کی اینٹوں کی دیواریں چنی گئیں۔ ان دیواروں کی بلندی اس زمانے کے گز کے حساب سے سو گز مقرر کی گئی۔ جب سورج نکلتا تو اس کی چمک سے دیواروں پر نگاہ نہیں ٹھہرتی تھی۔ یوں شہر کی چاردیواری بنائی گئی۔ اس کے بعد چار دیواری کے اندر ایک ہزار محل تعمیر کیے گئے، ہر محل ایک ہزار ستونوں والا تھا اور ہر ستون جواہرات سے جڑاؤ کیا ہوا تھا۔
پھر شہر کے درمیان میں ایک نہر بنائی گئی اور ہر محل میں اس نہر سے چھوٹی چھوٹی نہریں لے جائی گئیں۔ ہر محل میں حوض اور فوارے بنائے گئے۔ ان نہروں کی دیواریں اور فرش یاقوت، زمرد، مرجان اور نیلم سےسجادی گئیں۔ نہروں کے کناروں پر ایسے مصنوعی درخت بنائے گئے جن کی جڑیں سونے کی، شاخیں اور پتے زمرد کے تھے۔ ان کے پھل موتی ویاقوت اور دوسرے جواہرات کے بنواکر ان پر ٹانک دیے گئے۔
شہر کی دکانوں اور دیواروں کو مشک و زعفران اور عنبر و گلاب سے صیقل کیا گیا۔ یاقوت و جواہرات کے خوب صورت پرندے چاندی کی اینٹوں پر بنوائے گئے جن پر پہرے دار اپنی اپنی باری پر آ کر پہرے کے لیے بیٹھتے تھے۔ جب تعمیر مکمل ہوگئی تو حکم دیا کہ سارے شہر میں ریشم و زردوزی کے قالین بچھا دیے جائیں۔ پھر نہروں میں سے کسی کے اندر میٹھا پانی، کسی میں شراب، کسی میں دودھ اور کسی میں شہد و شربت جاری کردیا گیا۔
بازاروں اور دکانوں کو کمخواب و زربفت کے پردوں سے آراستہ کردیا گیا اور ہر پیشہ و ہنر والے کو حکم ہوا کہ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوجائیں اور یہ کہ اس شہر کے تمام باسیوں کے لیے ہر وقت ہر نوع و قسم کے پھل میوے پہنچا کریں۔
بارہ سال کی مدت میں یہ شہر جب اس سجاوٹ کے ساتھ تیار ہوگیا تو تمام امرا و ارکان ِ دولت کو حکم دیا کہ سب اسی میں آباد ہوجائیں۔ پھر شدّاد خود، اپنے لاؤ لشکر کے ہمراہ انتہائی تکبر اور غرور کے ساتھ اس شہر کی طرف روانہ ہوا۔ بعض علما و مصلحین کو بھی ساتھ لیا اور راستے بھر اُن سے ٹھٹھّا و تمسخر کرتے ہوئے ان سے کہتارہا ”ایسی جنت کے لیے تم مجھے کسی اور کے آگے جھکنے اور ذلیل ہونے کا کہہ رہے تھے! میری قدرت و دولت تم نے دیکھ لی؟“
جب قریب پہنچا تو تمام شہر والے اس کے استقبال کے لیے شہر کے دروازے کے باہر آگئے اور اس پر زروجواہر نچھاور کرنے لگے۔ اسی ناز و ادا سے چلتے ہوئے جب شہر کے دروازے پر پہنچا تو روایت ہے کہ ابھی اس نے گھوڑے کی رکاب سے ایک پاؤں نکال کر دروازے کی چوکھٹ پر رکھا ہی تھاکہ اس نے وہاں پہلے سے ایک اجنبی شخص کو کھڑے ہوئے دیکھا۔ اس نے پوچھا ”تُو کون ہے؟“
اس نے کہا ”میں ملک الموت ہوں۔“
پوچھا ”کیوں آئے ہو؟“
اس نے کہا”تیری جان لینے۔“ شداد نے کہا مجھ کو اتنی مہلت دے کہ میں اپنی بنائی ہوئی جنت کو دیکھ لوں۔ جواب ملا ”مجھ کو حکم نہیں۔“ کہا، چلو اس قدر ہی فرصت دے دو کہ گھوڑے پر سے اتر آؤں۔ جواب ملا ”اس کی بھی اجازت نہیں۔“ چناں چہ ابھی شداد کاایک پاؤں رکاب میں اور دوسرا چوکھٹ پر ہی تھا کہ ملک الموت نے اس کی روح قبض کرلی۔
پھر حضرت جبرائیل ؑنے بڑے زور سے ایک ہولناک چیخ ماری کہ اسی وقت تمام شہر مع اپنی عالی شان سجاوٹوں کے ایسا زمین میں سمایا کہ اس کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ قرآن پاک میں اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے:
ترجمہ:”وہ جو اِرم تھے بڑے ستونوں والے اور شہروں سے اس کے مانند کوئی شہر شان دار نہ تھا۔“
(پارہ 30۔ سورۃ فجر۔ آیت 7،8)
شداد اور اس کی جنت کا انجام
معتبر تفاسیر میں لکھا ہے کہ بادشاہ اور اس کے لشکر کے ہلاک ہوجانے کے بعد وہ شہر بھی لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل کردیا گیا۔ مگر کبھی کبھی رات کے وقت عدن اور اس کے اِردگرد کے لوگوں کو اس کی کچھ روشنی اور جھلک نظرآجاتی ہے۔یہ روشنی اُس شہر کی دیواروں کی ہے۔ حضرت عبداللہؓ بن قلابہ جو صحابی ہیں، اتفاق سے اُدھر کو چلے گئے۔ اچانک آپ کا ایک اونٹ بھاگ گیا، آپ اس کو تلاش کرتے کرتے اُس شہر کے پاس پہنچ گئے۔ جب اس کے مناروں اور دیواروں پر نظر پڑی تو آپ بے ہوش ہو کر گِر پڑے۔ جب ہوش آیا تو سوچنے لگے کہ اس شہر کی صورتِ حال تو ویسی ہی نظر آتی ہے جیسی نبی کریمؐ نے ہم سے شداد کی جنت کے بارے میں بیان فرمائی تھی۔ یہ میں خواب دیکھ رہاہوں یا اس کا کسی حقیقت سے بھی کوئی تعلق ہے؟
اسی کیفیت میں اٹھ کر وہ شہر کے اندر گئے۔ اس کے اندر نہریں اور درخت بھی جنت کی طرح کے تھے۔ لیکن وہاں کوئی انسان نہیں تھا۔ آپؓ نے وہاں پڑے ہوئے کچھ جواہرات اٹھائے اور واپس چل دیے۔ وہاں سے وہ سیدھے اُس وقت کے دارالخلافہ دمشق میں پہنچے۔ حضرت امیرمعاویہؓ وہاں موجود تھے۔ وہاں جو کچھ ماجرا ان کے ساتھ پیش آیا تھا، انھوں نے بیان کیا۔ حضرت امیرمعاویہؓ نے ان سے پوچھا، وہ شہر آپ نے حالتِ بیداری میں دیکھا تھا کہ خواب میں؟
حضرت عبداللہؓ نے بتایا کہ بالکل بیداری میں دیکھا تھا۔ پھر اس کی ساری نشانیاں بتائیں کہ وہ عدن کے پہاڑ کی فلاں جانب اتنے فاصلے پر ہے۔ ایک طرف فلاں درخت اور دوسری طرف ایسا کنواں ہے اور یہ جواہرات و یاقوت نشانی کے طور پر میں وہاں سے اٹھا لایا ہوں۔
حضرت امیرمعاویہؓ یہ ماجرا سننے کے بعد نہایت حیران ہوئے۔ پھر اہلِ علم حضرات سے اس بارے میں معلومات حاصل کی گئیں کہ کیا واقعی دنیا میں ایسا شہر بھی کبھی بسایا گیا تھا جس کی اینٹیں سونے چاندی کی ہوں؟ علما نے بتایا کہ ہاں قرآن میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔ اس آیت میں ”اِرم ذات العماد۔“ یہی شہر ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو لوگوں کی نگاہوں سے چھپا دیا ہے۔ علما نے بتایا کہ آنحضرتؐ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میری امت میں سے ایک آدمی اس میں جائے گا اور وہ چھوٹے قد، سرخ رنگ کا ہوگا، اس کے ابرو اور گردن پر دو تل ہوں گے، وہ اپنے اونٹ کو ڈھونڈتا ہوا اس شہر میں پہنچے گا اور وہاں کے عجائبات دیکھے گا۔ جب حضرت امیرمعاویہؓ نے یہ ساری نشانیاں حضرت عبداللہؓ بن قلابہ میں دیکھیں تو فرمایا، واللہ یہ وہی شخص ہے۔
(بحوالہ:تذکرۃ الانبیا- تحقیق شاہ عبدالعزیز دہلوی)

بےباک
05-03-2016, 09:20 AM
پارٹ 1



سنو یہ واقعہ، شداد کا اور اس کی جنت کا
بڑا شہرہ تھا اس دنیا میں ظالم کی حکومت کا

وہی شداد جس نے ساری دنیا پر حکومت کی
کوئی حد ہی نہیں* تھی جس کی دولت اور طاقت کی

جھکائے اپنے قدموں پر شہنشاہوں کے سر اُس نے
ہزاروں لشکروں کردیا زیر و زبر اُس نے

وہ اپنے دور میں حاکم تھا ایسا بادشاہ ایسا
ہوا ہے اور نہ ہوگا کوئی بھی شداد کے جیسا

وہ ایسے جی رہا تھا اِس جگہ جیسے ہو جنت میں
ہزاروں خوبصورت عورتیں تھیں اُس کی خدمت میں

اُسے تھا شوق اونچے اونچے محلوں اور مکانوں کا
کہ وہ مالک تھا اس دنیا کے سارے ہی خزانوں کا

وہی شداد، ترکستان و ہندوستان تھا جس کا
کہ سارا ہی عجم اور سارا عربستان تھا جس کا

اُسے اللہ نے خود پر بہت مغرور جب دیکھا
کہ راہِ حق سے اور انسانیت سے دور جب دیکھا

جنابِ ہود کو اُس کی نصحیت کے لیے بھیجا
نبی کو ایک ظالم کی ہدایت کے لیے بھیجا

خدا پاک اس دنیا میں عزت جس کو دیتا ہے
حکومت، شان و شوکت اور عظمت جس کو دیتا ہے

رہے وہ حق پہ تو اس کی حفاظت بھی وہ کرتا ہے
کہ اپنے نیک بندوں سے محبت بھی وہ کرتا ہے

مگر جب کوئی بھی بندہ، بغاوت پر ہو آمادہ
جہالت پر ہو آمادہ، شرارت پر ہو آمادہ

تو رب العالمین فوراً سزا اُس کو نہیں دیتا
سزا دینے پہلے امتحاں ظالم کا ہے لیتا

وہ ہے رحمٰن اور یہ ہے تقاضا اُس کی رحمت کا
وہ ہے عادل یہ ہے انصاف اُس کی شانِ قدرت کا

کوئی کتنا بھی ظالم ہو، ستم ایجاد ہو پھر بھی
وہ اپنے وقت کا فرعون ہو شداد ہو پھر بھی

سنبھلنے کا اُسے موقع خدا پاک دیتا ہے
نہ سنبھلے تو سزا بھی اس کو عبرت ناک دیتا ہے

جبھی تو ہود اُس کی رہنمائی کے لیے آئے
وہ پیغامِ خدا پاک بھی اُس کے لیے لائے

کہا شداد سے اللہ کے پیارے پیامبر نے
ہزاروں نعمتیں بخشی ہیں تجھ کو رب اکبر نے

یہ شہرت، یہ خرانے، یہ حکومت ساری دنیا کی
یہ ہیرے موتی اور یہ شان و شوکت ساری دنیا کی

ہزاروں عورتیں، یہ حن والی پاک پن والی
کہ چاندی جیسے مکھڑے والی، کندن سے بدن والی

کنیزیں، باندیاں یہ محل یہ دربار و درباری
یہ تاج و تخت کی عظمت یہ شاہانہ فسوں کاری

اگر اقرار کرلے تو خدا اور اُس کی وحدت کا
نہ لے گا وہ قیامت میں، حساب اس مال و دولت کا

یہ ہے فرمانِ ربانی، ذرا تو غور کر اس پر
مجھے پہچان، اے شداد میں ہوں اس کا پیغمبر

اگر تو مجھ پہ اور اللہ پر ایمان لائے گا
یہ ہے اللہ کا وعدہ کہ تو جنت میں جائے گا

جنابِ ہود اسے سمجھا رہے تھے سن رہا تھا وہ
نبی تھے آپ جو فرمارہے تھے آپ سن رہا تھا وہ

دکھائی اس طرح جب راہ ظالم کو ہدایت کی
بحکمِ رب اکبر آپ نے اس کی نصحیت کی

اگر ایمان لاکر آئے گا تو شان والوں میں
تو ہوگا آج سے تیرا شمار ایمان والوں میں

پڑھے گا کلمہ تُو پھر جائیں گے دن بادشاہ تیرے
خدا کہتا ہے فوراً بخش دوں گا میں گناہ تیرے

نہ ہوگی کچھ کمی روزِ جزا بھی تیری عزت میں
کہ مر کر بھی ہمیشہ تو رہے گا باغِ جنت میں

یہ سنتے ہی وہ بولا، آ بتاؤں ہود میں تجھ کو
خدا اور اس کی جنت کی کوئی حاجت نہیں مجھ کو

نہ دے لالچ مجھے روزِ جزا اور باغِ جنت کا
کہ اندازہ نہیں* ہے تجھ کو میری شان و شوکت کا

میرا دعوٰی ہے اس دنیا میں* جنت بناؤ گا
اسی جنت میں رہ کر ایک دن کو تجھ کو دکھاؤں گا​


پارٹ 2​




یہ دعوٰی کرکے اس نے پھر بلایا سب وزیروں کو
وزیروں سے کہا لکھو حکومت کے امیروں کو

مجھے دنیا میں اک جنت بنانے کی تمنا ہے
کہ ذروں کو ستاروں سے ملانے کی تمنا ہے

ملا شداد کا جب حکم دنیا کے امیروں کو
تو پھر اُن سب نے بھیجا ہر جگہ اپنے سفیروں کو

زمیں ڈھونڈی گئی سارے جہاں سارے زمانے میں
مزہ آتا ہے ایسے وقت قسمت آزمانے میں

بہت کوشش کے بعد اُن سب کی محنت رنگ یوں لائی
عرب میں اک زمیں ایسی تھی جو سب کو پسند آئی

وہ ایسی سر زمیں تھی رنگ بھی تھا لاجواب اُس کا
ہوا شداد کی جنت کے خاطر انتخاب اُس کا

یہ ایسا پیارا قصہ ہے جو روشن ہے زمانے پر
ہوا شداد بھی راضی وہاں جنت بنانے پر​



اور پھر 3000 معمار کاریگر مقرر کیے گے
ہر کاریگر کے ساتھ 100 مزدور لگائے گئے
اور پھر بڑی دھوم سے جنت کا کام شروع کیا گیا
اور اُسے اِس طرح آراستہ کیا گیا۔



وہ جنت واقعی دنیا میں جنت کا نمونہ تھی
محل یاقوت و موتی کے چھتیں لعل و جواہر کی

اور اس میں خوش نما تھے باغ اور دلکش بہاریں تھیں
اور ان باغوں میں رنگ و نور کی دلکش پھواریں تھیں

اور اس میں خوبصورت پیڑ تھے چاروں طرف ایسے
کہ شاخیں سونے اور چاندی کی تھیں پتے زمرد کے

انوکھے پھول تھے ان میں تو میوے دار پھل بھی تھے
وہاں حوریں بھی تھیں ہیرے جواہر کے محل بھی تھے

زمیں صندل کی تھی اور اس پہ مٹی مشک و عنبر کی
وہ مٹی زعفرانی جس میں خوشبو تھی گُلِ در کی

بجائے پتھروں کے جابجا تھے خوشنما موتی
کہیں یاقوت اور مونگے کہیں پر بے بہا موتی

نظارے تھے بہت خوش رنگ اُس رنگین جنت کے
شراب و شہد کی نہریں تھیں اور جھرنے تھے شربت کے

کئی میدان تھے جن کی فضا تھی مہکی مہکی سی
بچھیں تھیں کرسیاں بھی ان میں سونے اور چاندی کی

وہ جنت ایسی دلکش تھی ہزاروں حسن تھے اُس کے
اور ایک ایک حسن میں گویا ہزاروں رنگ کے جلوے

بیاں کیا ہم سے ہو دنیا کی اُس فردوسِ عشرت کا
اتر آیا تھا اک ٹکڑا زمیں پر گویا جنت کا​



روایت ہے کہ شداد نے اُس جنت کی خاطر
40،000 خزانے مقرر کیے تھے اور حکم دیا تھا
کہ دنیا بھر میں جس کے پاس بھی سونا اور چاندی ہو
زبردستی چھین لی جائے۔
لکھا ہے کہ ایک مسکین غریب بڑھیا کی لڑکی کے پاس
ایک درہم چاندی تھی وہ بھی اُس غریب سے
شداد کے ظالم سپاہیوں نے چھین لی۔



سلوک ایسا کیا ان ظالموں نے ایک ضعیفہ سے
کہ چھینی اک درہم چاندی اُس مسکین بڑھیا سے

وہ چاندی اُس کی بیٹی کے گلے کا ایک زیور تھا
کہ اُس مجبور کی بیٹی کا گویا یہ مقدر تھا

لکھا ہے، ظالموں نے اِس طرح اُس پر جفا توڑی
ذرا سی چاندی اُس کے پاس تھی وہ بھی نہ چھوڑی

بہت ان ظالموں کی پیاری لڑکی نے خوشامد کی
کہا چھینو نہ میرے پاس ہے اتنی سی بس چاندی

وہ ظالم سورما اُس غم زدہ پر کیا ترس کھاتے
کہ اک مجبور کی فریاد کو خاطر میں* کیا لاتے

سپاہی لے چلے اُس لڑکی سے جب چھین کر چاندی
تو اُس نے اِس طرح اللہ سے فریاد و زاری کی

کرم سے اپنے میرے زخمِِ دل کو یا خدا بھرنا
کہ میں مظلوم ہوں مظلوم کا انصاف تو کرنا

جو سچ پوچھو تو آہِ بے قصاں ٹالی نہیں جاتی
کسی مظلوم کی کوئی دعا خالی نہیں جاتی

فرازِ عرش سے ٹکرائی جس دم التجا اُس کی
خدا پاک نے منظور کی وہ بددعا اُس کی



اُدھر اللہ پاک نے مظلوم کی دعا مقبول فرمائی
اِدھر شداد کو اُس کے غلاموں نے جنت تعمیر ہونے کی خوشخبری سنائی
شداد دل ہی دل میں بہت خوش تھا
لیکن اس کو کیا معلوم تھا کہ اللہ پاک کی مرضی کے آگے کسی کا کوئی چارہ نہیں ہے
جب شداد اپنی جنت دیکھنے کے لیے جارہا ہے تو کس طرح جارہا ہے۔



چلا شداد جب دیدارِ جنت کے ارادے سے
ہزاروں خوبصورت لڑکیاں، لڑکے تھے ساتھ اُس کے

خوشی تھی اُس کو جنت کی نشہ تھا کامیابی کا
خبر کیا تھی اُسے یہ دن تو ہے اُس کی خرابی کا

کوئی ظالم یہاں تیرِ قصا سے بچ نہیں سکتا
جو دشمن ہے خدا کا وہ خدا سے بچ نہیں* سکتا

ہوا شداد کی قسمت کا لکھا اِس طرح پورا
بڑے ارماں سے جب دروازہِ جنت پہ وہ پہنچا

کھڑا ہے کوئی پہلے سے دررِ جنت پہ یہ دیکھا
کہا شداد نے، تو کون ہے کیا نام ہے تیرا

وہ بولا میں ملک الموت ہوں پہچان لے مجھ کو
خدا کا حکم ہے جنت میں میں جانے نہ دوں تجھ کو

کہا اُس نے کہ مہلت اتنی دے میں دیکھ لوں جنت
مگر حکمِ خدا تھا موت نے اُس کو نہ دی مہلت

لکھا ہے موت جب شداد کی آئی یہ منظر تھا
کہ اک پیر اُس کا تھا جنت میں اک جنت کے باہر تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ نظم اردو محفل فورم سے نقل کی ہے ​

بےباک
05-03-2016, 09:26 AM
http://3.bp.blogspot.com/-f_SCjWO-16g/UVLFqZpR2pI/AAAAAAAAdh8/Kw2TWzK2FCE/s1600/image002-749341.jpg

قوم عاد کی عمارات کے نمونے دیکھیں ،


http://4.bp.blogspot.com/-QMZk-zKFm5E/UVLFq4YIoVI/AAAAAAAAdiI/xo0GyA1Sy14/s1600/image022-750894.jpg
http://1.bp.blogspot.com/-39sx0BBM0Yc/UVLFrJ_wcjI/AAAAAAAAdiU/ri7UATOGj0c/s1600/image100-752822.jpg
http://2.bp.blogspot.com/-WONjQtOvD34/UVLFruqPkJI/AAAAAAAAdig/1c_PPpodEaA/s1600/image011-754060.jpg
http://3.bp.blogspot.com/-pkBFAj1dfgk/UVLFr6HrC5I/AAAAAAAAdis/KsqsoEP5sdQ/s1600/image004-755450.jpg
http://4.bp.blogspot.com/-M8V94XuVbzQ/UVLFsHuLv-I/AAAAAAAAdi4/W1S1Efs90us/s1600/image006-756587.jpg
http://3.bp.blogspot.com/-OcllAtOes1w/UVLFsj3I7DI/AAAAAAAAdjE/eAWv_y9xYyc/s1600/image005-758419.jpg
http://2.bp.blogspot.com/-4_gcN6pDMmE/UVLFtackOyI/AAAAAAAAdjc/IbgyBGv69oU/s1600/image012-761020.jpg
http://3.bp.blogspot.com/-DL3_nkW421c/UVLFtgPEIlI/AAAAAAAAdjo/3XfqPFsSTPI/s1600/image009-762158.jpg
http://1.bp.blogspot.com/-HQF4P9LQ4Cg/UVLFt1dpPbI/AAAAAAAAdj0/vf3gHerlS2I/s1600/image010-763636.jpg
http://4.bp.blogspot.com/-sm2pKiQ5_ls/UVLFvt3JdgI/AAAAAAAAdkk/DWODoLrfPoI/s1600/image097-770520.jpg


http://4.bp.blogspot.com/-_qOn8A9lPX8/UVLFyRsK77I/AAAAAAAAdl4/qNzYY1SV310/s1600/image114-781176.jpg

بےباک
05-03-2016, 09:46 AM
شداد کے جنت بنانے کا قصہ
بادشاہ بنتے ہی شداد نے اپنی ایک فوج تیار کر لی تھی اور دنیا کے حاکموں فوجداروں سے مقابلہ کیا اور اپنی ذہانت اور بہادری سے سب حاکموں کو ایک ایک کر کے ہلاک کر دیا اور اس طرح سے بڑھتے بڑھتے شداد تمام روئے زمین کا بادشاہ بن بیٹھا اور سارے جہاں کے حاکم، امراءاور سردار اس کے مطیع وفرمابردار ہوئے۔
شداد نے بے پناہ خزانے جمع کرلئے تھے۔ اور اپنا لشکر اس قدر وسیع اور مضبوط بنا لیا تھا کہ چہار سو اسی کا حکم چلتا تھا۔ اپنی طاقت اور بہترین حکمت عملی کے ذریعے شداد نے اپنی سلطنت کو کمال عروج بخشا تھا اور روئے زمین کے کسی انسان کو اتنی طاقت نہیں تھی کہ اس کا مقابلہ کر سکے۔ بہ پناہ خزانوں اور مال و دولت ، وسیع و عریض سلطنت ، عظیم الشان لاؤ لشکر اور اپنی ذہانت و طاقت کی وجہ سے شداد اب غرور اور تکبر میں مبتلا ہو گیاتھااور اس نے دعویٰ خدائی کر ڈالا۔عالموں اور واعظوں نے اس ملعون کو پندو نصیحتیں کیں اور حق تعالیٰ کے خوف اور اس کی عبادت کی طرف رغبت دلانے کی بہت کوششیں کیں لیکن شداد کا کہنا تھا کہ دولت و حکومت جاہ ثروت، عزت وشہرت اور حشمت سب کچھ میرے پاس موجود ہے تو مجھے کیا ضرورت کہ میں کسی خدا کی اطاعت کروں۔عالموں نے سمجھایا کہ یہ سب ملک و دولت فانی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت کرو گے تو وہ تمہیں جنت عطاکرینگے جو اس دنیا سے کروڑہا درجے بہتر ہوگی۔
شداد نے پوچھا کہ اس جنت میں کیا خوبی ہے ؟تو عالموں نے جو کچھ بھی خوبیاں اور تعریفیں جنت الفردوس کی پڑھی اور سنیں تھیں وہ سب اس کے سامنے بیان کر دیں۔ عالموں کی باتیں سن کر شداد نے حقارت سے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ ”مجھے اس جنت کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی مجھے وہ جنت چاہئے۔ کیونکہ مجھ میں اتنی طاقت اور قوت ہے کہ میں اس سے بھی اچھی جنت اس دنیا میں بنا سکتا ہوں“۔لہٰذا تمام عالموں واعظوں اور کو دکھلانے کی خاطر شدادنے اپنی جنت بنانے کا فیصلہ کیا۔ سب سے پہلے اس نے اپنے معتبر سرداروں میں سے سو آدمیوں کا انتخاب کر کے انہیں جنت بنانے کے لئے نگراں مقرر کیا اور ہر ایک سردار کے ساتھ ہزار ہزار آدمی متعین کئے،زمین میں دفن تمام خزانے نکلوائے گئے اور معدنوں سے سونا چاندی نکلو ا کر ان کی گنگا جمنی انیٹیں تیار کروائیں اور کوہ عدن سے متصل ایک شہر مربع (چوکھٹے) کی شکل میں دس کوس لمبا ، دس کوس چوڑا اور چالیس کوس اونچامقام بنانے کا حکم دیا ۔اس شہر کی بنیادیں اس قدر کھودیں گئیں کہ پانی کے قریب جا پہنچیں اور پھر ان بنیادوں کو سنگ سلیمانی سے بھروایا گیا جب بنیادیں زمین کے برابر ہو گئیں تو اس پر سونے اور اشرفیوں کی انیٹوں سے دیواریں چننی شروع کی گئیں۔ ان دیواروں کی بلندی اس قدر زیادہ تھی کہ جب آفتاب طلوع ہوتا تھا تو اس کی چمک سے دیواروں کی روشنی پر نگاہ نہیں ٹھہرتی تھی۔شہر کی چہار دیواری کے اندر ہزار ہزار محل تیار کئے گئے اور ہر محل ہزار ستونو ں کا اور ہر ہر ستون ، جو اہرات سے جڑا ہوا تھا اورشہر کے درمیان میں ایک نہر بنائی گئی اور ہر مکان میں حوض اور چوبچے بنوائے گئے اور شہر کی بڑی ہنر سے شاخیں نکلوا کر ہر ہر مکان تک ایک ایک نہر پہنچائی گئی اور ان نہروں کو حوض اور چوبچوں سے جوڑا گیا۔
حوض اور چوبچوں کے فرش پر یاقوت ، زمرد، مرجان اور نیلم کی تہیں بچھائی گئیں اور ا ن کے کناروں پر درخت بنائے گئے جن کی جڑیں سونے کی اور شاخیں اور پتے زمرد کے اور پھول و پھل انکے موتی اور یاقوت کے اور دیگرجواہرات کے بنوا کر لٹکائے گئے۔
مکانوں کی دیواروں کو خشک ، زعفران اور عنبر کو گلاب سے گہگل کر کے استرکاری کرواکر مطّلا و مذّہب کیا گیا اور یاقوت ودیگر جواہرکے خوب صورت ، خوش آواز جانور بنوا کر درختوں پر بٹھائے گئے اور ہر درخت کے پاس ایک پہرے دار کو تعینات کیا گیا۔
جب اس انداز کا شہر بن کر تیار ہوا تو حکم دیا کہ سارے شہر میں قالین اور فرش پر ریشمی زرلفت بچھادئےے جائیں اور سب مکانوں میں ترتیب سے سونے چاندی کے برتن چنوادئیے گئے اور حوضوں میں دودھ، شراب، شہد اور شربت انواع اقسام کے جاری کرادئیے گئے۔ بازاروں میں دکانوںکو بھی کمخواب زردوزی کے پردوں سے مزین کیا گیا اور ہر پیشہ اور ہنروالے کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے اپنے پیشہ اور ہنرمیں مشغول ہو جائیں اور انواع انواع اقسام کے میوے، طرح طرح کے عمدہ و لذیذ پکوان ہمیشہ ہی سبھی شہر والوں کو پہنچایا کریں۔غرض کہ بارہ بر س میں یہ شہر بے مثال اس سجاوٹ کے ساتھ تیار ہوا تو تمام اُمراءاور سرداروں کوحکم دیاگیا کہ وہ زینت کے ساتھ اس شہر میں جا کر رہیں اور خود بھی اپنی فوج ولشکر کو ساتھ لیکر کمال عذور وتکبر سے شہر کی طرف کوچ کیا اور راستے میں عالموں اور واعظوں کو جلانے کی خاطر کچھ دیر رک کر ان سے تکبر اور حقارت کے ساتھ کہا ”تم اسی جنت کے واسطے مجھے اس کے سامنے ،جس کو آج تک کسی نے نہیں دیکھا ہو، سر جھکانے اور ذلیل ہونے کے لئے کہتے تھے نا! اب تم کو میری قدرت اور ثروت دیکھنی ہو تو میرے ساتھ چلو! میں نے اس ان دیکھی جنت سے بھی زیادہ حسین و دلکش اور خوبصورت جنت بنوائی ہے جس کو دیکھ کر لینے کے بعد تم اپنے خدا کی جنت کو بھی کم سمجھوگے۔شداد جب اپنی بنائی ہوئی جنت کے قریب پہنچا تو اس شہر کے باشندوں کے غول اس کے استقبال کے لئے شہر کے دروازے سے باہر آکر اس پرزرو جواہر نچھاور کرنے لگے۔ اس طرح سے جب شداد شہرکے دروازے پر پہنچا تو اس کا ایک قدم دروازے کے باہر اور ایک قدم اندر تھا کہ آسمان سے ایک ایسی سخت کڑک دار آواز آئی کہ تمام مخلوق ہلاک ہوگئی اور بادشاہ بھی وہیں دروازے پر گر پڑا اور مر گیا ۔اس شہر کو دیکھنے کی حسرت کہ کس محنت اور مشقت سے اس کو تیار کیاتھا دل میں لے گیا۔ تمام مخلوق کے ہلاک ہونے کے بعد .... اللہ تعالیٰ نے ملک الموت سے پوچھا ۔تجکو کس بندے کی روح قبض کرتے وقت کبھی رحم بھی آیا یا نہیں ؟ملک الموت نے عرض کیا۔ اللہ رب الغزت ! مجھکو دو ذی روحوں کی جان نکالنے میں کمال رقت ہوئی تھی ، اگر تیرا حکم نہ ہوتا تو میں ہرگز ہرگز ان کی جان نہ نکالتا۔ ارشادہوا: بتاؤ‘ وہ دو لوگ کون تھے؟عرض کیا :ایک تو وہ بچہ تھا جو نیا پیدا تھا اور اپنی ماں کے ساتھ جہاز کے ٹوٹے ہوئے تختے پر بے سروسامانی کی حالت میں بحر بیکراں میں تیراتا جا رہا تھا۔ اس وقت اس بچے کا واحد سہارا تمام کائنات میں اس کی ماں تھی تو مجھے حکم ہوا کہ اسکی ماں کی روح قبض کرلے۔ اس وقت مجھے اس بچے پر بے حد بے حد رحم آیاتھا کیونکہ اس بچے کا اس کا ماں کے سوا کوئی دوسرا خبر گیر نہ تھا اور بھوکا پیاسا بچہ اپنی ماں کے دودھ کے لئے ترس رہاتھا۔اور باری تعالیٰ ! دوسرا یک بادشاہ تھا جس نے ایک شہر کمال آرزو سے ایسا بنوایا تھاکہ ویسا شہر دنیا میں کہیں نہیں تھا، جب وہ شہر تیار ہو گیا اور بادشاہ اپنے شہر کو دیکھنے پہنچا تو جس وقت ایک قدم اس کا شہر کے دروازے میں تھا تو مجھے حکم ہوا اور اس کی جان قبض کر لے اس وقت بھی مجھے بہت رونا آیا تھا کہ وہ بادشاہ کیاکچھ حسرتیں اپنے دل میں لے گیا ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:عزرائیل ! تمہیں ایک ہی شخص پر دوبار رحم آیا ہے! کیونکہ یہ بادشاہ وہی بچہ تھا جس کو ہم نے بغیر ماں باپ کے بناکسی سہارے کے سمندر کی تیز وتندلہروں اور طوفانوں میں بھی محفوظ رکھا اور اس کو حشمت وثروت کی بلندیوں پر پہنچایا اور جب یہ اس مرتبے کو پہنچا تو ہماری تابعداری سے منہ موڑا اور تکبر کرنے لگا اور آخرکار اپنی سزا کو پہنچا۔معتبر تفسیروں میں لکھا ہے کہ شداد اور اس کے لشکر اور اس شہر کے تمام لوگوں کے ہلاک ہونے کے بعد اللہ پاک نے اس شہر کو دنیا والوں کی نظروں سے پوشیدہ کر دیا ہے مگر کبھی کبھی رات کے وقت عدن کے گردو نواح کے لوگوں کو اس جگہ چمک دار روشنی دکھائی دیتی ہے جسکے بارے میں خیال ہے کہ یہ روشنی اسی شہر کی دیواروں کی ہے۔قرآن مجید میں بھی ذکر ہے کہ اس شہر کو اللہ پاک نے لوگوں کی نگاہ سے پوشیدہ کر دیا ہے اور حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت میں سے ایک شخص اپنے اونٹ کو ڈھونڈھتا ہوا اس شہر میں جائے گا اور وہاں کے عجائبات دیکھے گا۔اس شہر کی اس سے زیادہ کوئی کیا تعریف کرے گا کہ خود اللہ رب العزت باوجود احاطہ علم اورتمام معلومات کے ارشاد فرمایا ہے کہ
التی لم یخلق مثلھا فی البلاد
یعنی وہ شہر کہ ہرگز بنایا نہیں کیا گیا ،، ویسا روئے زمین کے شہروں میں(ماخوذ:تفسیر فتح العذیز)

بےباک
05-03-2016, 10:36 AM
قوم عاد کو اللہ تعالیٰ نے بہت طاقت بخشی تھی‘ پتھروں کو تراش کر اپنے مضبوط گھر بناتی تھی۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ مٹھی میں درخت کو پکڑ کر اکھیڑ لیتے تھے اس قوم کی طاقت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی فرمایا ہے۔ اس قوم میں دو بھائی تھے ایک کا نام شدید اور دوسرے کا نام شداد تھا۔ شدید بڑا تھا اور شداد چھوٹا تھا۔ شداد کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کی پیدائش ایک کشتی میں ہوئی‘ دریا میں طغیانی آئی اور اس کی والدہ سمیت تمام سوار غرق ہوگئے۔ تمام سواروں میں یہ صرف اکیلا بچا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے اسے سلامت رکھا اور اس کی پرورش فرمائی۔ اس کا بڑا بھائی شدید سات سو سال کے لگ بھگ حکمرانی کرکے جہنم داخل ہوا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کا چھوٹا بھائی شداد تخت نشین ہوا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ تمام روئے زمین پر اس کی حکومت تھی‘ ہزاروں کے حساب سے ملک تھے نظام سلطنت چلانے کیلئے ہر ملک میں اپنے نائب بادشاہ اور وزراء وغیرہ مقرر کررکھے تھے۔
حضرت ہود علیہ السلام نے شداد کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دی آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم سلطنت دی ہے ہر قسم کے خزانوں اور نعمتوں سے مالا مال کیا ہے اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاؤ اور اس پر ایمان لاؤ۔ اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ تم کو جنت میں بلاحساب و کتاب داخل فرمادیں گے۔ آپ علیہ السلام نے راہ نجات کی باتیں سنائیں مگر اس ملعون پر ان کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔
جواباً کہنے لگا کہ بہشت کے بارے میں جو سن رکھا ہے میں بالکل اس جیسی اس دنیا میں بھی بنالوں گا۔چنانچہ شداد نے تمام ماتحت بادشاہوں کو احکامات جاری کیے کہ ہر قسم کا خزانہ سونا‘ چاندی‘ قیمتی جواہرات‘ کستوری اور زعفران وغیرہ اپنے اپنے ملکوں سے اکٹھے کرکے برائے تعمیر بہشت بھیجے جائیں۔ اعلیٰ قسم کے معمار بلائے گئے جنت کے ڈیزائن سے آگاہ کیا گیا۔ حکم دیا کہ چالیس گز نیچے سے زمین کھود کر اس پر سنگ مر مر کی بنیاد رکھ کر بہشت تعمیر کی جائے۔ حکم کی تعمیل پر کام شروع ہوگیا دودھ‘ شہد اور شراب کی نہریں جاری کردی گئیں۔ سونے اور چاندی کے درخت لگادئیے گئے۔ خوبصورت لڑکے اور لڑکیاں بہشت میں پہنچادی گئیں۔ ہوبہو اصلی جنت کی طرز کی نقلی جنت تیار ہوگئی۔ شداد نے ایک ایسا ادارہ قائم کیا جو تمام ممالک سے خزانہ جمع کرتا اور لاکر پیش کرتا تھا۔ اس نے حکم دے رکھا تھا کہ کسی انسان کے پاس ایک درہم چاندی تک نہ رہنے دیا جائے۔ سب لاکر بہشت میں جمع کی جائے۔ ایک شہر میں ایک غریب بڑھیا رہائش پذیر تھی اس کا خاوند فوت ہوگیا تھا صرف ایک ہی بیٹی تھی۔ بیٹی کے گلوبند میں ایک درہم چاندی تھی جب شداد کے اہلکاروں کو پتہ چلا تو وہ لینے آگئے۔ بڑھیا نے بڑی منت سماجت کی اور لڑکی بھی آہ وزاری کرنے لگی۔ لڑکی نے رونا اور چلانا شروع کردیا اور درخواست کی کہ اس کے پاس صرف یہی ایک درہم کی دولت ہے اور یتیم ہے معاف کیا جائے مگر شداد کے اہلکاروں کو ترس نہ آیا اور گلوبند جبراً لے لیا۔ لڑکی کے پاس کوئی چارہ نہ تھا۔ خداوند کریم کی درگاہ میں فریاد پیش کردی۔ اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہوئی کہ اے اللہ تو بہت طاقت والا ہے۔ خالق کائنات ہے تو انصاف کر اور ان ظالموں سے مظلوموں کو نجات دے۔ اس مظلومہ کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ حدیث شریف میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ پرہیز کرو مظلوم کی بددعا سے‘ بیشک وہ قبول ہوتی ہے۔ علماء کرام سے یہ بھی حدیث مبارکہ سنی ہے کہ مظلوم کی آہ اور اللہ تعالیٰ کے درمیان پردہ نہیں ہوتا۔ جونہی منہ سے نکلتی ہے قبولیت اختیار کرلیتی ہے۔
بہشت تو شداد کے حکم پر تعمیر ہوگئی مگر اس بدبخت کو دیکھنے کا موقع نہ مل سکا۔ روزانہ ارادہ کرتا مگر کوئی نہ کوئی کام آڑے آجاتا۔ اسی طرح دس سال گزر گئے۔ آخر ایک دن اس نے جانے کا مصمم ارادہ کرلیا۔ تقریباً دو سو گھوڑ سواروں کے ہمراہ روانہ ہوگیا جب بہشت کے باہر پہنچا تو دیکھادروازے پر ایک آدمی کھڑا ہے شداد نے پوچھا تو کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں ملک الموت ہوں۔ پھر سوال کیا یہاں کس لیے آئے ہو جواب ملا تیری روح قبض کرنے آیا ہوں۔ یہ سن کر شداد کے ہوش و حواس اڑ گئے اور مخاطب ہو کر کہا کہ جنت کا نظارہ کرنے تک مہلت دی جائے مگر ملک الموت نے فرمایا کہ مہلت کسی صورت میں نہیں مل سکتی۔ شداد گھوڑے سے اترنے لگا۔ ایک پاؤں بہشت کے دروازے پر اور دوسرا رکاب میں تھا کہ ملک الموت نے روح قبض کرلی۔ شداد ملعون جہنم رسید ہوا۔ ایک فرشتہ نے آسمان کی چیخ ماری۔ شداد کے سارے ساتھی ڈھیر ہوگئے اور جہنم رسید ہوگئے۔ یہ بدبخت نہ اپنی تیار کردہ جنت سے کسی نعمت کی فائدہ اٹھا سکے اور نہ نظارہ کرسکے۔ شداد ملعون کو نہ سلطنت کام آئی اور نہ مال۔ بددعا کی قبولیت نے سب کچھ خاک میں ملا دیا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پرقادر ہے اور اس کی گرفت سخت ہے۔ -

محمدانوش
05-03-2016, 12:50 PM
Kammmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmmml Asat n Jazzak Allah for sharing such informative subject.

بےباک
05-03-2016, 03:51 PM
شداد کی جنت 2015 میں (ظفر جی کے قلم سے ) (http://asfandnama.blogspot.com/2015/08/janat1.html)
صاَلح عنسی شداد کا قصہ سنا رہا تھا-
ہم سب بگھی کے ھچکولے کھاتے بڑے انہماک سے سن رہے تھے-
لیکن میرا تخیل کچھ اور ہی تانے بن رہا تھا-
شداد نے چوکور میز کانفرنس بلائی....اور باغ ارم ھاؤسنگ پراجیکٹ کا اعلان کر دیا-
" میں آج سے بحیثیت بادشاہ اور فوجی سربراہ ملک بھر میں ایمر جنسی کا نفاذ کرتا ہوں- اور بڑے فخر سے اپنی ذاتی جّنت لانچ کرنے کا اعلان کرتا ہوں....جو مولوی اینڈ کمپنی کےلئے آؤٹ آف باؤنڈ ہوگی....اور اس کی اس خیالی جنت سے بدرجہا بہتر ہوگی جس کا جھانسا دے کر وہ پوری قوم سے سردیوں میں وضو کی مشقت کروا رہا ہے ۔
" زوردار تالیاں...اور شداد صاحب قدم بڑھاؤ قوم تمہارے ساتھ ہے.....کے نعروں کی گونج میں "باغ ارم کمیٹی " کا اعلان کردیا گیا-
یہ کمیٹی ایک ہزار اعلی افسران پر مشتمل تھی- ہر افسر کے ماتحت ایک ہزار کاریگروں کی فوج ظفر موج تھی- چونکہ حکومتی نظم و نسق "گیارہ سالہ مارشل لاء اور گیارہ سالہ فوج" کے زریں اصول پر قائم تھا چنانچہ "شداد عسکری پیراڈائز کمیٹی" میں تمام ریٹائرڈ و حاضر سروس عسکری حضرات انگوٹھی میں نگینے کی طرح سماتے چلے گئے-
سب سے پہلے سرکاری نقشہ نویس مولوی مشکور سے جنت کا نقشہ بنوایا گیا- مشکور ڈبل ایجنٹ تھا- علماء میں بیٹھتا تو مولوی عبدالشکور کہلاتا اور سرکاری دفتر میں بیٹھ کر "مشکور شدادی" بن جاتا- مشکور نے علماء کی تقاریر سے نقل مار مار کر خوب محنت سے باغ ارم کا نقشہ تیار کیا-
اس کے بعد عسکری کمیٹی سر جوڑ کر بیٹھی- جنت بنانا کوئ بڑا مٌسئلہ نہیں تھا کہ سرمایہ بھی ٹھاٹھیں مار رہا تھا اور مستری بھی بے کار پھر رہے تھے- مسئلہ مجوزہ منصوبے میں اپنے نام کا بنگلہ بک کرانا تھا- کہ منصوبے کے تحت کل ایک ہزار محلات بننے تھے- اور فیصلہ سنیارٹی کی بنیاد پر ہونا تھا-
میگا پراجیکٹ کا ڈنکا بجا تو دنیا بھر سے بڑے بڑے ٹھیکیدار پچھلے پراجیکٹ چوپٹ چھوڑ کر نئے پاکستان کا نعرہ لگاتے راہیء ملک "عدن" ہوگئے-
فوری طور پر ایران، شام ،مصر، عراق اور عرب کی تمام ڈیڑھ انچی ریاستوں کو حکم شاھی ہوا کہ سونے چاندی کی کانوں سے اینٹیں بنوا کر جلد سے جلد عدن بھجوائی جائیں۔ تمام اینٹیں چوبیس قیراط کی ہونی چاھیں اور ملاوٹ کرنے والوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی-
دنیا کی بے شمار خوبصورت لینڈ سائٹس کے معائینے کے بعد شداد نے کوہِ عدن کی لوکیشن کو فائنل کیا- تین اطراف میں سرسبز پہاڑ اور ایک طرف سمندر ہونے کی نسبت یہ جگہ قدرتی طور پر جنت ارضی کا نمونہ تھی-
کمیٹی نے مجوزہ پراجیکٹ کےلیے تقریباً اٹھارہ ضرب اٹھارہ کلومیٹر کے ایک مربع پلاٹ کو اس چابکدستی سے سرکاری تحویل میں لیا کہ عدن کے پٹواریوں کو بھی خبر نہ ہوسکی-
یوں قبل مسیح کی کسی تاریخ میں دنیا کے سب سے بڑے اور مہنگے پراجیکٹ پر کام کا آغاز کردیا گیا-
سب سے پہلے فصیل کےلئے بنیادوں کی کھدائی شروع ہوئی- آتش فشانی مٹی کو کھودنا کون سا آسان کام تھا- لیکن حُکم حاکم تھا کہ بنیادیں اتنی گہری کھودی جائیں کہ زمین سے پانی نکل آئے- بنیادیں مزدوروں کے پسینے سے تر ہوگئیں تو انہیں اس دور کے انتہائی قیمتی پتھر سنگِ سلیمانی سے بھروادیا گیا۔
بنیادوں کو زمین کے برابر کرکے ان پر سونے چاندی کی اینٹوں کی دیواریں چنی گئیں۔ ان دیواروں کی بلندی اس زمانے کے گز کے حساب سے سو گز مقرر کی گئی۔ جب سورج نکلتا تھا تو چوبیس قیراط کی یہ دیواریں آنکھوں کو خیرہ کئے دیتی تھیں-
مشکور شدادی نے اس اکیسویں ترمیم پر سائن کردیے اور یوں عوام کو خواہ مخواہ کے اضافی ٹیکس سے بچا لیا گیا-
فصیل جنت تیّار ہو گئی تو محلات بننا شروع ہوئے- ایک ہزار خوبصورت محلات کا منصوبہ تھا- اس دور میں محل کا طول وعرض اس کے ستونوں سے ناپا جاتا تھا- اس پراجیکٹ میں ہر محل کے اندر ایک ہزار ستون کھڑے کیے گئے جبکہ ہر ستون جواہرات سے جڑاؤ کیا ہوا تھا۔ ان محلات کی بکنگ بہت پہلے ہوچکی تھی- افسران بالا و عہدہ داران کمیٹی ایک طرف اپنے اپنے بنگلہ پر نظر جمائے بیٹھے تھے تو دوسری طرف دن رات عوام سے گڑگڑا کر قربانی کی اپیل کر رہے تھے-
قربانیوں کی ماری ہوئی قوم کا جوش و جنون دیدنی تھا- لوگ دھڑا دھڑ سونے چاندی کے عطیات دے رہے تھے- دوسری طرف سرکاری اہلکار بھی جزبہء حب الوطنی کا کھل کر اظہار کر رہے تھے- اشرف جوئیہ کی بچی کا زیور چھین کر اور ایک بیوہ سلمی بی بی کی بالیاں سرراہ اتار کر شداد کمیٹی کے حوالے کردی گئیں- بابا صوبے خان کو مار مار کر ادھ موا کیا گیا تب جاکر اس نے زمرد کی انگوٹھی حوالے کی- فتح بی بی طلائی ہار سمیت کنویں میں کود گئی - کمیٹی نے کچھ بحث و قد کے بعد اسے جنت بی بی کا خطاب دے کر اس کا ہار قبول کر لیا-
شداد ریڈیو اور ٹی وی پر خطاب کرکے عوام کو بتا رہا تھا کہ باغ ارم تیار ہوگا تو انہیں نوکریاں ملیں گی اور ملک عدن سے بے روزگاروں کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا- اب راج کرے گی خلق خدا.....کے نعرے سے مسحور ہوکر خلق خدا دن رات راج گیری کر رہی تھی-
اس کے بعد نہروں کی تعمیر کا آغاز ہوا- یہ نہریں مکمل طور پر سفید سنگ مر مر سے بنائ گئیں- نہروں کی دیواریں اور فرش یاقوت، زمرد، مرجان اور نیلم سے مرصح کیے گئے۔ شہر کے درمیان ایک بڑی نہر بنائی گئی اور ہر محل میں اس نہر سے چھوٹی چھوٹی نہریں لے جائی گئیں۔ محلات میں حوض اور فوارے بنائے گئے۔ ان پر بھی زر و نگار جڑے ہوئے تھے-
نہروں کے کناروں پر ایسے مصنوعی درخت بنائے گئے جن کی جڑیں سونے کی، شاخیں اور پتے زمرد کے تھے۔ ان کے پھل موتی ویاقوت اور دوسرے جواہرات کے بنواکر ان پر ٹانک دیے گئے۔رات کے وقت یہ درخت یوں جھلمل کرتے جیسے لوڈشیڈنگ میں وزراء کالونی کی بتیاں -
شہر کی دکانوں اور دیواروں کو مشک و زعفران اور عنبر و گلاب سے پلستر کیا گیا۔ یاقوت و جواہرات کے خوب صورت پرندے چاندی کی اینٹوں پر بنوائے گئے جن پر پہرے دار اپنی اپنی باری پر آ کر پہرے کے لیے بیٹھتے تھے۔
جب تعمیر مکمل ہوگئی تو شداد نے حکم دیا کہ سارے شہر میں ریشم و زردوزی کے قالین بچھا دیے جائیں۔ پھر نہروں میں سے کسی کے اندر میٹھا پانی، کسی میں شراب، کسی میں دودھ اور کسی میں شہد و شربت جاری کردیا گیا۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ نہروں کی بجائے اگر برلب نہر مٹی کے مرتبان دودھ اورشہد سے بھر کر رکھ دیے جائیں تو بے کار کی محنت سے بچا جا سکتا ہے- البتہ نہروں میں خوشبودار پانی چھوڑ دیا جائے- مشکور شدادی نے اس اکیسویں ترمیم پر سائن کردیے اور یوں عوام کو خواہ مخواہ کے اضافی ٹیکس سے بچا لیا گیا-
جنتِ کے بازاروں اور دکانوں کو کمخواب و زربفت کے پردوں سے آراستہ کردیا گیا- بے شمار نئے ٹینڈر کھولے گئے- فروٹ کی دکانیں، کے ایف سی، میکڈونلڈز ، ایٹن ، اور اسٹوڈنٹ بریانی کی نئی برانچیں کھل گئیں- "روز " اور "ماہ روز" بیوٹی پارلرز میں حوروں کے میک اپ کے مقابلے ہونے لگے- ہر پیشہ و ہنر والے کو حکم ہوا کہ اپنی اپنی دکانیں کھول لیں اور اس شہرجنت کے تمام باسیوں کے لیے ہر وقت ہر نوع و قسم کے آرڈر کےلئے مستعد رہیں-
بارہ سال کی مدت میں یہ پراجیکٹ تیار ہوا تو تمام امرا و ارکان ِ دولت کو حکم دیا کہ سب اس میں آباد ہوجائیں.....بائی سنیارٹی !!!
اس دن صالحین کی جماعت نے عام ھڑتال کا اعلان کیا- اور جگہ جگہ شداد کے خلاف مظاہرے کیے- ان کا کہنا تھا کہ شداد کی جنت نہ صرف رب کائنات سے بغاوت کا اعلان ہے بلکہ غریب عوام کے حقوق پر صریح ڈاکہ بھی ہے-
قبل مسیح کی کسی تاریخ کو شدّاد اپنے لاؤ لشکر کے ہمراہ انتہائی تکبر اور غرور کے ساتھ اپنی جنت کے افتتاح کو روانہ ہوا۔ اس نے اس اہم موقع پر اپوزیشن جماعتوں کے بعض علما ء و مصلحین کو بھی ساتھ لیا اور راستے بھر اُن سے ٹھٹھّا و تمسخر کرتا رہا-

” تم لوگوں نے جنت کا محض نام ہی سنا ہے.... مجھے ان دیکھی جنت کے لیے کسی اور کے آگے جھکنے اور ذلیل ہونے کا کہہ رہے تھے! آؤ میرے ساتھ اور دیکھو.....جنت کیا ہوتی ہے“ جب قریب پہنچا تو تمام شہر والے اس کے استقبال کے لیے شہر کے دروازے کے باہر آگئے اور اس پر زروجواہر نچھاور کرنے لگے۔

شداد کی جنت 2015 میں (ظفر جی کے قلم سے ) آخری حصہ (http://asfandnama.blogspot.com/2015/08/2015.html)
شداد کا تعلق قومِ عاد سے تھا اور وہ عدن کی اِرم نام کی بستی کا رہنے والا تھا۔ وہ بستی بڑے بڑے ستونوں والی تھی۔
یہ لوگ عاد بن عوض بن اِرم بن سام بن نوحؑ کی اولاد میں سے تھے۔ ان کے دادا کی طرف منسوب کرکے ان کو عادِ اِرم بھی کہا جاتاہے۔ ان کا وطن عدن سے متصل تھا-
شداد نے سطح سمندر پر ڈولتے ایک تختے پر آنکھ کھولی- اس کی ماں جو ڈوبتے ہوئے جہاز سے بچ کر تختے پر زندگی کی جنگ لڑ رہی تھی... ، اسے زندگی بخش کر فوت ہوگئی تھی-
یہ تختہ اس بدنصیب بچے کو لئے سمندر میں ڈول رہا تھا کہ ایک مچھیرے کی نظر میں آگیا- وہ اس ننھے منے بچے کو اٹھا کر گھر لے آیا اور اپنے جگر گوشے کی طرح اس کی پرورش کرنے لگا-
اس دور میں بینک نہیں ہوا کرتے تھے -لوگ جنگ و جدل یا ہجرت کی صورت میں اپنے قیمتی اسباب زمین میں دفن کردیا کرتے تھے- شّداد بارہ برس کا ہوا تو اس پر منکشف ہوا کہ قدرت نے اسے زیرزمین بینکوں کا اے ٹی ایم کارڈ دےکر دنیا میں بھیجا ہے - اپنی خداداد صلاحیّت کے طفیل وہ زمین میں مدفون خزانوں کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کر سکتا تھا -
اس نے اپنی اس صلاحیت سے خوب فائدہ اٹھایا اور امیر سے امیر تر ہوتا چلاگیا- دولت آنے کے بعد طاقت کا بھوت سوار ہوا تو اپنے لشکر بھرتی کرنےلگا- پہلے اپنی قوم کا سردار بنا پھر آس پڑوس کی ریاستوں پر ہاتھ صاف کرنے لگا-
دنیا کے کئی بادشاہ اسے باقاعدہ بھتہ دیتے تھے۔ کسی میں اتنی جرأت و طاقت نہ تھی کہ اس کا مقابلہ کرسکے۔ اس تسلط اور غلبہ نے شداد کو اتنا مغرور و متکبر کردیا کہ وہ خدائی کا دعویٰ کربیٹھا۔
حضرت ہُودؑ ، جو وقت کے پیغمبر تھے انہوں نے شداد کو سمجھانے کی بہت سعی کی - لیکن شداد بھلا کس کی سنتا تھا- پیغمبر نے اسے سمجھایا کہ اللہ کے عذاب سے ڈر...اور خدائے واحد کی عبادت کر -
شداد نے جواب دیا " سائیں !!! دولت ، طاقت اور عزت تو پہلے ہی موجود ہے ... خدا کی عبادت کر کے کیا کروں گا ؟؟؟
اسے بتایا گیا کہ دنیاوی حکومت ،دولت اور جاہ وجلال ایک فانی چیز ہے جبکہ اللہ کی اطاعت میں اُخروی نجات اور جنت کا حصول ہے جو دنیا کی ہر دولت سے بہتر اور زیادہ قیمتی ہے۔
بھوکی ننگی عوام گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہی تھی...."ملک شدّاد قدم بڑھاؤ....قوم تمھارے ساتھ ہے"
شداد نے پوچھا، یہ جنّت کیا ہوتی ہے؟؟
پیغمبر نے اس کے سامنے جنت کی جملہ صفات کا نقشہ کھینچا - دودھ اور شہد کی نہریں ، بے جوڑ موتی کے محل ، حوروغلمان کا تذکرہ، ہمیشہ کی پاکیزہ زندگی شداد نے کہا ”مجھے اس جنّت کی ضرورت نہیں ایسی جنّت تو میں خود دنیا ہی میں بنا سکتا ہوں۔“
وہ واقعی سنجیدہ تھا- اس نے دنیا بھر سے ڈیزائنرز ، آرکیٹیکچر اور انجینئرز اکٹھے کرنے شروع کردیے تاکہ ایک میگا پراجیکٹ کی بنیاد رکھی جا سکے-
پیغمبر ع صالحین کی جماعت کو اپنےساتھ لیکر ارم بستی سے دور چلے گئے۔
آج اس میگا پروجیکٹ کا افتتاح تھا
ایک سرخ رنگ کا فیتہ جنّت کے دروازے پر بندھا ہوا تھا-ایک خادم بابِ بہشت پر ایک نقرئی تھال لے کر کھڑا تھا جس میں خالص سونے کی بنی ہوئی ایک قینچی رکھی تھی
بھوکی ننگی عوام گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگا رہی تھی....
"ملک شدّاد قدم بڑھاؤ....قوم تمھارے ساتھ ہے"
شداد نے وزراء و امراء کی طرف دیکھ کر کہا " یہ جنّت تمھاری ہے...تم ہو پاسباں اس کے"
پھر وہ عوام سے مخاطب ہوا " کام ...کام ...اور صرف کام"
پرزور تالیوں کی گونج میں اس نے باغ ارم کا فیتہ کاٹا-
اس نے ابھی دائیاں پاؤں جنت میں دھرا ہی تھا کہ اچانک اس سینے میں بائیں جانب زور کا درد اٹھّا اور وہ چکرانے لگا-پچھلے کئی ہفتوں سے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اس کی تیزی سے بند ہوتی شریانوں پر متفکر تھی-
ہارٹ اٹیک....ایمرجنسی.....
فضاء ایمبولینس کے سائرن سے گونج اٹھی- شداد کو عدن کے سب سے بڑے ھسپتال لے جایا گیا لیکن وہ تو کب کا مر چکا تھا-
اسی رات ریت کا طوفان آیا- اتنی شدید ہوا چلی کہ لوگوں کے پاؤں تک اکھڑ گئے-سات دن مسلسل یہ طوفان جاری رہا -
شدّاد کے ساتھ ساتھ اس کی بےحس قوم بھی غرق ہو گئی-
کئی سال بعد عراق اور دیگر ریاستوں کے کچھ وفود باغ ارم دیکھنے کی جستجو میں عدن پہنچے تو وہاں سوائے ریت کے ٹیلوں کے کچھ نہ تھا-
عدن کے لوگ اب بھی آدھی رات کو صحرا میں پراسرار روشنی دیکھتے ہیں- بہت سوں کا خیال ہے کہ یہ اسی سونے کی چمک ہے جس سے کبھی باغ ارم کو سجایا گیا تھا

بشکریہ ۔۔ جناب محمد اسفند یار صاحب ( اردو بلاگر )
ایک مزاحیہ تحریر جس کا مرکزی خیال شداد کی جنت سے لیا گیا ہے
http://asfandnama.blogspot.com/2015/08/janat1.html

بےباک
05-03-2016, 04:14 PM
٭٭شدادبن عاد٭٭
---------------
نام: شداد بن عاد
والد کا نام: عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوحؑ۔
اکثر مورخین حضرات نے شداد لعین کا ذکر بھی حضرت ہودؑ کے ساتھ کیا ہے چونکہ وہ بھی قوم عاد سے تھا۔ اور قوم عاد ہی کی طرف حضرت ہودؑ کو بھیجا گیا تھا۔ جیسا کہ طبقات ناصری میں ہے۔ کہ شداد ایک سرکش آدمی تھا جس کا نسب یہ ہے۔ شداد بن عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوحؑ ۔حقیقت یہ ہے کہ عاد کے دو بیٹے تھے۔ ایک کانام شدید اور دوسرے کا نام شداد تھا۔ اور یہ دونوں ہفت اقلیم کے بادشاہ تھے۔ ان دونوں کا مسکن شام تھا۔ شدادکا باپ بھی بادشاہ تھا۔ جس وقت عاد نے وفات پائی تو مملکت دونوں بھائیوں کی میراث ٹھہری شدید تو تقریباً سات سو برس تک بادشاہی کر کے مر گیا۔ اس کے بعدشداد ملعون پوری دنیا کا مالک بن بیٹھا۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ دو سو ستر بادشاہ اس کے زیر دست اور فرمانبردار تھے۔ اور اسے مال و خراج دیتے تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ شداد کے زیر حکم ہزار ملک اور ایک ہزار بڑے شہر تھے۔ شداد کو دین سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جہاں تک اس کی بادشاہی کا تعلق تھا اسی کا حکم چلتا تھا۔ اور شب و روز اس کو حکومت ہی سے کام تھااور وہ اسی خوشی میں خوش رہتا تھا۔ اس کے ماننے والے اگرچہ کفر و شرک میں مبتلا تھے۔
٭شداد کا دو شخصوں کے درمیان فیصلہ کرنا٭
--------------------------
دو شخص شداد کی عدالت میں ایک عجیب مقدمہ لے کر آئے اور اپنے اپنے عجیب حال سنائے۔ ایک شخص بولا کہ میں نے اس سے ایک قطعہ زمین کا لیا ہے اور پوری قیمت دیکر قبضہ کیا ہے میں نے اس کی زمین میں خزانہ پایا ہے وہ اس کو دیتا ہوں اور یہ کہتا ہے کہ میں نے تو زمین کو بیچا ہے اب میں اس خزانہ کو ہر گز نہیں لیتا۔ جبکہ میں نے تو زمین خریدی ہے نہ کہ خزانہ۔ دوسرا بولا میں نے زمین کی پوری قیمت لے کر اسے دیا ہے لہذا اب خزانہ اس کا ہے۔ جب حاکم وقت نے پوچھا کہ تمہارے دونوں کی کچھ اولاد بھی ہے وہ بولے کہ ایک کی بیٹی ہے اور ایک کا بیٹا حکم دیا کہ دونوں کا آپس میں نکاح کر کےیہ مال ان کو دے دو۔
٭پیغمبر کا شداد لعین کو دعوت حق دینا٭
-----------------------
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ہودؑ نے اس کو دعوت اسلام دی ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس وقت کے پیغمبر نے دعوت اسلام دی۔ یہاں میں وضاحت کر دوں کہ طبقات ناصری ، قصص الانبیاء جہانگیر بکڈپو اور تاریخ ابن خلدون میں حضرت ہودؑ کا ذکر ہے جبکہ بعض مستند کتابوں میں اس وقت کے پیغمبر کا ذکر ہے ۔ پیغمبر کا نام نہیں لکھا ۔
اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف پیغمبر بھیجا مگر وہ ایمان نہیں لایا۔ جب پیغمبر نے دعوت اسلام دی تو شداد ملعون نے کہا کہ اگر میں تیرے رب پر ایمان لے آؤں تو مجھے کیا ملے گا۔ حضرت ہود ؑ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ تجھ کو اس کے عوض بہشت جاودانی عنایت کرے گا۔ اور ہمیشہ تجھ پر اپنا فضل و مہربانی مرحمت فرمائے گا۔ حضرت ہودؑ نے اس کو اچھی اچھی باتیں بتائیں جو آخر میں اسکے واسطے نجات کا سبب بن سکتی تھیں۔ مگر اس ملعون نےان بھلی باتوں پر کچھ بھی احساس و خیال نہ کیا مزید کہنے لگا اے ہودؑ تو مجھے بہشت کی طمع دلاتا ہے میں نے بہشت کی صفت سنی ہے میں بھی اس دنیا میں مثل اس بہشت کے بہشت بناؤں گا۔ اور دن رات عیش و عشرت کروں گا۔ مجھے تیرے خدا کی بہشت کی کچھ حاجت نہیں۔
٭٭شداد لعین کا دنیا میں جنت بنانا٭٭
----------------------
اس مکالمہ کے بعد اس ملعون نے اسی وقت ہر ملک کے بادشاہوں وزیروں اور اکابروں کو خطوط لکھے جو اس کے زیر تابع تھے۔اور اس میں لکھا کہ تمہارے ملک میں جس جگہ زمین ہموار اور میدان مسطح نشیب و فراز اس میں نہ ہو اس کی جلد ہم کو اطلاع دو۔ہم اس جگہ پر بہشت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اس کے بعد فوراً ہی اپنے قاصد ہر جگہ بھیجے تاکہ وہاں سے سونا چاندی اور جواہرات لیکر جلد آئیں۔ نیز ان قاصدوں سے یہ بھی کہہ دیا کہ جتنے بھی مشک و عنبر اور مروارید ہاتھ آئیں وہ سب کے سب بہم ساتھ آویں۔
بہت شدید جستجو کے بعد خطہ عرب میں ایک قطعہ زمین جس کی مسافت چالیس فرسنگ کی تھی ملی۔ اس کے بعد فوراً امیر و امراء کو حکم ہوا کہ تین ہزار استاد پیمائش کریں اور ہر ایک استاد کے ساتھ سوسو بہترین کاریگر ہوں۔ حکم مقرر کر دیا گیا اور سارے ملک کا خزانہ وہاں لا کر جمع کریں ۔ سونا ،چاندی ،جواہرات اور خوشبو, مشک, عنبر سب جہاں سے بھی ملیں جمع کریں۔ اور ملک میں بکریوں کی ہڈیوں کو بطور سکہ جاری کیا۔
سب سے پہلے چالیس گز زمین نیچے سے کھود کر سنگ مر مر سے بنیاد بہشت کی رکھو چنانچہ اس کے حکم کے مطابق بنیاد درست کی گئی۔ اور اس کی دیواریں چاندی اور سونے کی اینٹوں سے اٹھائی گئیں۔ چھت اور ستون زبر جد اور زمرد سبز سے بنائے گئے۔ اوراس پوری عمارت کے لیے “کہگل” مشک و زعفران سے تیار کی گئی۔ اور سنگریزوں کے بجائے اس میں لعل اورموتی ڈالے گئے۔ تین سو سال میں یہ عمارت مکمل ہوئی۔ درخت اس میں نصف چاندی کے اور نصف سونے کے بنائے تھے۔ اور پتیاں ان درختوں کی زمرد سبز سے جڑی تھیں۔اور ڈالیاں اس کی یاقوت سرخ سے تھیں ۔ اور میوے انواع و اقسام کے اس درخت پر لگائے تھے۔ اوربجائے خاک کے اسمیں مشک و عنبر و زعفران سے پر کیے تھے۔ اور بجائے پتھر کے اس کے صحن میں موتی اور مونگا ڈالتے تھے۔ اور نہریں اس میں شیر وشراب و شہد کی جاری کی تھیں۔ اور بہشت کے دروازے پر چار میدان بنوائے تھے۔ اور اشجار میوہ دار اس میں لگائے تھے۔اور ہر میدان میں ایک ایک لاکھ کرسیاں سونے چاندی کی بچھی تھیں۔ شداد نے سارے ملک کے خوبصور ت لڑکےاور لڑکیاں دیکھ کر اس میں جمع کیے کہ مانند حور و غلمان کے بہشت میں اس کی خدمت میں رہیں۔ چالیس ہزار خزانے چاندی اور سونے کے بہشت کے خرچ کے واسطے تھے۔ یہاں تک کہ تین سو برس میں اس کا سر انجام ہوا۔اور وکیلوں کو ہر ملک میں بھیجا کہ ورم بھر چاندی کسی ملک میں نہ چھوڑنا۔سب اس بہشت میں لا کر جمع کرو۔اس کا نام اس نے “ارم ذات العماد” رکھا۔
٭٭باغ ارم٭٭
علامہ زمحشری اسی شداد بن عاد کی نسبت تحریر کرتا ہے کہ اس نے صحرائے عدن میں مدینہ ارم بنوایا تھا۔ جس میں سونے چاندی کی اینٹیں اور یاقوت و زبر جد کے دروازے تھے۔ اور اس کا قصہ اس طرح بیان کیا ہے کہ شداد بن عاد سے ایک روز اس کے زمانے کے پیغمبر نے جنت کی تعریف کی کہ اگر تو بت پرستی چھوڑ کر حق پرستی کرے گا تو اس کے عوض اللہ تعالیٰ تجھے جنت دے گا۔ شداد نے کہا میں خود ایسی جنت بنا سکتا ہوں مجھے تیرے اللہ کی جنت کی ضرورت نہیں ہے۔ شداد نے یہ کہہ کر صحرائے عدن میں ارم بنوایا۔
ترجمہ: ” کیا آپ نے ملاحظہ نہ کیا کہ آپ کے پروردگار نے قوم عادکے ساتھ کیا کیا؟ بڑے بڑے ستون والےجو ارم کہلاتے تھے۔ جن کا مثل دنیا بھر میں کوئی پیدا نہیں ہوا۔(القرآن سورۃ الفجر6۔7۔8)۔
٭ایک غریب مسکین یتیم بڑھیا عورت کی بد دعا٭
آخر یہ نوبت پہنچی کہ ایک عورت بڑھیا غریب و مسکین یتیم کہ اس کی بیٹی کے گلو بند میں ایک ورم چاندی تھی۔ ظالموں نے اسے بھی نہ چھوڑا آخر وہ لڑکی رو پیٹ کر کہنے لگی کہ میں غریب فقیرنی ہوں سوائے ایک ورم چاندی کے اور کچھ نہیں ہے لہذا یہ ایک ورم چاندی مجھ کو بخش دو۔ مگر انہوں نے کچھ نہ سنا۔ تب اس غریبہ نے خدا کی درگاہ میں فریاد کی کہ یا الہیٰ تو اس کا انصاف کر اس ظالم کے شر سے مظلوم کو بچا۔ اوراسکے بے انصافی کا تو انصاف کر اور اسے دفع کر۔ آہ و فریاد اس کی خدا وند قدوس کی درگاہ میں قبول ہوئی۔
*شداد کا اپنی جنت دیکھنے جانا*
----------------
دس بر س تک کافر شداد انتظار کرتا رہا کہ اپنی بنائی ہوئی جنت دیکھے ۔ لیکن خدا کو منظور نہ تھا۔ کہ وہ اپنی بنائی ہوئی بہشت میں جاوے۔
ایک روز کمال خواہش کے اپنے تمام ساتھیوں کو لے کر بہشت دیکھنے کے لیے گیا۔ مگر جب وہ بہشت کے نزدیک جا پہنچا اور اس نے اپنے غلاموں کو چاروں میدانوں میں بھیجا اور ایک غلام کو ساتھ لے کر چاہا کہ بہشت میں جائیں وہیں بہشت کے دروازے پر ایک شخص کو کھڑا ہوا دیکھا۔ اس نے پوچھا تو کون ہے اس نے جواب دیا کہ میں ملک الموت ہوں ۔ شداد نے کہا تو یہاں کیوں آیا ہے۔ ملک الموت نے جواب دیا کہ میں یہاں تیری جان قبض کرنے آیا ہوں ۔ شداد نے اس سے کہا کہ تو ذرا مجھے مہلت دے تا کہ میں اپنی بنوائی ہوئی بہشت دیکھوں ۔ ملک الموت نے کہا کہ خدا کا حکم نہیں کہ تو اپنی بنوائی ہوئی بہشت دیکھے۔ کیونکہ تجھ کو دوزخ میں جانا ہے۔ پھر شداد نے کہا چھوڑ میں گھوڑے سے اتروں۔ ملک الموت نے کہا نہیں۔ تب اسی حالت میں اس کا ایک پاؤں گھوڑے کی رکاب میں رہا اور دوسرا پاؤں بہشت کے دروازے پر تھا۔ کہ جان اس کی قبض کر لی گئی ۔ شداد لعین دوزخی ہوا۔ اور ایک فرشتے نے آسمان سے ایک ایسی سخت زور سے آواز کی کہ اس کے سب ساتھی اس کے ساتھ ہلاک ہو گئے۔ اور تمام کے تمام دوزخ میں چلے گئے۔ اور کوئی بھی اس بہشت کو نہ دیکھ سکا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام بہشت کو دنیا کی نظروں سے اوجھل کر دیا۔
٭حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں حضرت عبداللہ بن قلابہ کا اس جنت کو دیکھنا٭
--------------------------------------------------
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں حضرت عبداللہ بن قلابہ اپنے گم شدہ اونٹ کو تلاش کرتے ہوئے صحرائے عدن سے گزر کر اس شہر میں پہنچے۔ اور اس کی تمام زینتوں اور آرائشوں کو دیکھا مگر وہاں کوئی رہنے بسنے والا انسان نہیں ملا۔ یہ تھوڑے سے جواہرات وہاں سے لے کر چلے آئے۔ جب یہ خبر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے عبداللہ بن قلابہ کو بلا کر پورا حال دریافت کیا اور انہوں نے جو کچھ دیکھا تھا سب کچھ بیان کر دیا۔ پھر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے “کعب احبار” کو بلا کر دریافت کیا کہ دنیا مین کوئی ایسا شہر موجود ہے تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں کہ جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔ یہ شہر شداد بن عاد نے بنوایا تھا۔ لیکن یہ سب عذاب الہی سے ہلاک ہوئے۔ اور اس قوم میں سے کوئی ایک آدمی بھی باقی نہیں رہا۔ اور آپ کے زمانے میں ایک مسلمان جس کی آنکھیں نیلی ، قد چھوٹا اور اس کے ابرو پر ایک تل ہو گا اپنے اونٹ کو تلاش کرتے ہوئے اس ویران شہر میں داخل ہوگا۔ اتنے میں عبداللہ بن قلابہ آ گئے۔ تو کعب احبار نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ بخدا وہ شخص جو شداد کی بنائی ہوئی جنت کو دیکھے گا وہ یہی شخص ہے۔ کعب احبار نے فرمایا کہ یہ سچ ہے۔
اس مضمون کا مصدر یہ ہے ،
http://tablighj.blogspot.com/2015/06/blog-post_641.html


نوٹ : دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنا ، یہ شداد کے بجائے کسی اور برگزیدہ ھستی کا ھے