PDA

View Full Version : پانامہ لیکس ۔ کیسے محاسبہ ہو



بےباک
05-04-2016, 07:11 AM
15 ٹی او آرز پر اتفاق: کمشن وزیراعظم، ان کے خاندان کے خلاف تحقیقات3 ماہ میں مکمل کرے: اپوزیشن (http://www.nawaiwaqt.com.pk/front-page/04-May-2016/473227)



اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ سپیشل رپورٹ+ نوائے وقت رپورٹ) اپوزیشن کی جماعتیں وزیراعظم محمد نوازشریف سے استعفے کے مطالبہ پر متفق نہیں ہوسکیں تاہم پانامہ پیپرز لیکس پر عدالتی کمشن کیلئے متفقہ طور پر 15 نکاتی ٹی او آر تیار کرلئے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی دو جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی نے وزیراعظم سے استعفے کے مطالبے سے اختلاف کیا جبکہ جماعت اسلامی نے اپنے ٹی او آر میں وزیراعظم کا استعفیٰ شامل نہیں کیا، اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اختلاف رائے کے پیش نظر وزیراعظم سے استعفے کے مطالبہ کو اعلامیہ سے خارج کر دیا گیا۔ اپوزیشن کی 9 جماعتوں پر مشتمل کمیٹی کا اجلاس اعتزاز احسن کی رہائش گاہ پر ہوا جو 4گھنٹے تک جاری رہا۔ اجلاس کے اختتام کے بعد اعتزاز احسن نے صحافیوں کو اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر شیری رحمان، قمر زمان کائرہ، افراسیاب خٹک بھی موجود تھے۔ اجلاس میں تحریک انصاف، جماعت اسلامی، (ق) لیگ، قومی وطن پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، عوامی مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ ٹی او آرز میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں بااختیار کمشن سب سے پہلے وزیراعظم اور ان کے خاندان سے تفتیش کرکے 3 ماہ میں انکوائری مکمل کرے۔ وزیراعظم اور انکے اہل خانہ کو اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو غلط ثابت کرنا ہوگا۔ وزیراعظم اور انکے اہل خانہ خود کو تحقیقات کیلئے کمشن کے سامنے پیش کریں۔ نوازشریف 1985ء سے 2016ء تک پراپرٹیز کی تفصیلات فراہم کریں۔ وزیراعظم اور انکے اہل خانہ کے ذرائع آمدن کیا تھے،کن بینک اکائونٹس میں رقم رکھی گئی،کیا اس آمدن پر انکم ٹیکس ادا نہیں کیا جانا تھا؟ بیرون ملک خریدی گئی جائیدادوں کیلئے رقم کن بینک اکائونٹس سے کس تاریخ پر ادا کی گئی؟ کمشن کو آف شور اکائونٹس میں بھیجی گئی رقم کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے۔ کیا وزیراعظم اور انکے اہل خانہ دسمبر 2000 ء کے بعد اسٹیٹ گیسٹ تھے؟ خصوصی کمشن عالمی فرانزک آڈٹ کیلئے ماہرین کی کمیٹی بھی مقرر کرسکے گا۔ ماہرین کی کمیٹی آف شور کمپنیوں کیلئے رقم کی مکمل چھان بین کریگی۔ نیب اور ایف آئی اے سمیت تمام وفاقی اور صوبائی ادارے کمشن کی معاونت کے پابند ہوں گے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ ٹی او آرز متفقہ طور پر تیار کئے ہیں تاہم یہ بتانے میں حرج نہیں کہ وزیراعظم کے استعفیٰ پر اپوزیشن میں اختلاف نہیں لیکن اتفاق رائے بھی نہیں ہے۔ پانامہ لیکس کے معاملے پر سب سے پہلے وزیراعظم اور ان کے خاندان کا احتساب، تفتیش اور تحقیق ہونی چاہئے، پانامہ پیپرز کی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس کی سربراہی میں کمشن بنایا جائے۔ ٹی او آرز میڈیا کو جاری کئے جائیں گے، پچھلے اجلاس میں ہم حکومت کے ٹی او آرز کو ناقابل قبول قرار دے چکے ہیں، اتفاق کیا گیا ہے کہ احتساب کا عمل شروع ہو اور اس عمل میں سب سے پہلے وزیراعظم اور ان کے خاندان کا احتساب، تفتیش اور تحقیق ہو، ان کے بعد پانامہ پیپرز میں جتنے بھی نام آئے ہیں، ان سب کی بھی تفتیش ہو، پانامہ لیکس کی تفتیش اور تحقیق بین الاقوامی اداروں کے ذریعے بیرون ملک اثاثوں، جائیدادوں، ٹیکس اور دیگر کی تحقیقات ہونی چاہئیں، چیف جسٹس کی سربراہی میں پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے بااختیار کمشن تشکیل دیا جائے جو تین ماہ کے اندر وزیراعظم کے اثاثوں کے متعلق فیصلہ کرے جبکہ باقی لوگوں کا فیصلہ ایک سال میں کیا جائے گا، تمام انکوائریاں عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔ کمشن عالمی تحقیقاتی ٹیم بنا سکے گا تمام ریکارڈ حاصل کریگا‘ کمشن ایف بی آر سے ٹیکس کے بارے میں تفصیلات حاصل کر سکے گا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کمشن سے تعاون کریں گی‘ کمشن کے ذمہ دار ٹھہرانے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے گی‘ کمشن کی کارر وائی کھلے عام ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں نے اتفاق کیا ہے کہ پانامہ پیپرز میںشامل تمام افراد کا احتساب ہو مگر احتساب کا عمل سب سے پہلے وزیراعظم اور انکے خاندان سے ہو جس میں ان کی مکمل تحقیق اور تفتیش ہو جو بین الاقوامی ہو جس میں ان کے تمام بیرون ملک اثاثوں کی تحقیق ہوگی وہ اثاثے کس طرح اور کس سال میں بنے۔ انہوں نے کتنا انکم ٹیکس دیا کس سال میں انکی املاک خریدی گئیں کونسے فنڈز سے وہ املاک خریدی گئیں کونسے ذرائع سے خریدی گئیں ان میں ان کے بچوں ان کی بیگم اور انکے اپنے اثاثے شامل ہوں گے۔ دوسرا یہ ہے کہ ایک خصوصی قانون پانامہ پیپرز انکوائری اینڈ ٹرائل ایکٹ2016ء بنایا جائے گا اس ایکٹ کے تحت چیف جسٹس کی سربراہی میں کمشن بنایا جائے جو 3 ماہ کے اندر وزیراعظم کے اثاثوں کے بارے میں فیصلہ کرے گا اور باقی لوگوں کے فیصلے ایک سال میں کریگا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنما حامد خان نے کہا کہ تحریک انصاف کا بھی یہی مطالبہ اور موقف ہے کہ وزیراعظم کو مستعفی ہونا چاہئے اور چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک آزاد کمشن تشکیل دیا جائے۔ اس موقع پر قومی وطن پارٹی کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ ہم اس وقت وزیراعظم سے استعفیٰ نہیں مانگتے، ہمارا یہ موقف ہے کہ جب وزیراعظم کے خلاف الزام ثابت ہو جائیں تو وہ استعفیٰ دیں، پیپلز پارٹی کے رہنماء قمر زمان کائرہ نے کہا کہ قومی وطن پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے موقف ہے کہ وزیراعظم کو استعفیٰ دینا چاہئے، لیکن ابھی استعفے کا وقت نہیں، الزام ثابت ہونے پر استعفیٰ دیا جانا چاہئے۔ ٹی وی کے مطابق ٹی او آر میں لکھا گیا ہے کہ کمشن پانامہ لیکس کی تحقیقات پر توجہ مرکوز رکھے۔ علاوہ ازیں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ آف شور کمپنیوں میں سرمایہ رکھنے اور پانامہ پیپرز کے انکشافات کے بعد وزیراعظم وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔ ایک بیان میں خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اگر حکومت کا سربراہ ٹیکس سے بچنے کیلئے اپنا پیسہ بیرون ملک آف شور کمپنیوں میں رکھتا ہے تو پھر عام شہری سے کس طرح ٹیکس مانگا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کے اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ پر متفق ہیں۔ خورشید شاہ نے مطالبہ کیا ہے کہ اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ وزیراعظم سمیت سب کا احتساب کرے اور عوام کے سامنے سارے حقائق لائے تاکہ لوگ فیصلہ کر سکیں کہ کون دیانتدار ہے اور کون ملک کو لوٹ رہا ہے۔


اسلام آباد (نواز رضا+عترت جعفری) اپوزیشن کی 9 جماعتوں میں سے 3 جماعتوں کی طرف سے پانامہ پیپرز لیکس کی تحقیقات سے قبل وزیراعظم نوازشریف کے استعفے کی مخالفت کے باعث مشترکہ اعلامیہ سے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ خارج کرنا پڑا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے اہم وزرا کے اپوزیشن جماعتوں سے پس پردہ رابطوں اور سابق صدر آصف زرداری سے لندن میں خفیہ رابطے کے نتیجے میں وزیراعظم نواز شریف کے استعفے کے معاملہ کو مؤخر کر دیا گیا۔ اس معاملہ پر پیپلزپارٹی بھی منقسم رہی وفاقی حکومت کا قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ سے براہ راست رابطہ رہا ہے جنہوں نے وزیراعظم سے استعفے کے مطالبہ پر زور نہیں دیا تاہم سینٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزازاحسن نے وزیراعظم کے استعفے کے مطالبہ پر تحریک انصاف کے ساتھ کھڑا ہو کر انہیں سیونگ کی ہے۔ ذرائع کے مطابق منقسم اپوزیشن وفاقی حکومت کے لئے تقویت کا باعث بنی ہے۔ منقسم اپوزیشن حکومتی حکمت عملی کا نتیجہ ہے جس کا حکومت سیاسی فائدہ اٹھائے گی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت، اپوزیشن کے عدالتی کے قیام کے لئے اپوزیشن کے ٹی او آر کو یکسر مسترد نہیں کرے گی۔ اسحاق ڈار کی وطن واپسی پر اپوزیشن جماعتوں سے ٹی او آر پر ’’بیک ڈور چینل‘‘ پر بات چیت کریں گے۔ حکومت اپوزیشن سے ٹی او آر پر مذاکرات شروع کرکے معاملہ کو طوالت دے سکتی ہے حکومت پانامہ پیپرز پر تحقیقاتی کمشن کے لئے اپوزیشن کے تیار کردہ ٹی او آر کو قبول کر لے گی تام اس کے لئے نیا قانون بنانے پر تیار نہیں ہو گی اسی طرح حکومت ٹی او آر میں شب سے پہلے وزیراعظم کے احتساب پر آمادہ نہیں ہو گی بلکہ اسے کمشن کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن کے وزیراعظم کے استعفے پر ایک صفحہ نہ ہونے پر وفاقی حکومت رویہ مزید جارحانہ ہو جائے گا۔ وزیراعظم نوازشریف آج مسلم لیگی رہنمائوں کے اعلی سطح کے اجلاس اپوزیشن کے ٹی او آر پر مشاورت کریں گے اجلاس میں آئندہ حکمت عملی تیار کی جائے گی۔وزیر اعظم محمد نواز شریف نے بنوں سے واپسی کے بعد اپنے قریبی رفقا کار سے پانامہ لیکس کے حوالے سے اپوزیشن کی طرف سے منظر عام پرلائے جانے والے ٹی او آرز کے بارے میں مشاورت کی ، مشاورت کا یہ سلسلہ آج بھی جاری رہیگا۔ اجلاس کے شرکا نے اپوزیشن کی طرف سے تیار کردہ ٹی او آرز کے بارے میں تجزیہ پیش کیا اور اپوزیشن کے بعض نکات کو غیر متعلق قرار دیا گیا۔ شرکاء نے وزیر اعظم کو بتایا کہ اپوزیشن نے 2اہم باتیں اپنے ٹی او آرز سے نکال دی ہیں، ان میں قرضوں کی معافی اور سرکاری منصب پر فائز رہنے والے افراد کی طرف سے کرپشن کے ذریعے بنائے گئے اثاثوں کی تحقیقات کے نکات شامل ہیں جو سرکاری ٹی او آرز کے اندر تھے۔اجلاس میں اپوزیشن سے بات چیت کے آغاز کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔ اپوزیشن سے بات چیت کی حکمت عملی پر آج بھی مشاورت ہو گی اور بات چیت کی راہ نکالی جائیگی۔ دریں اثناء اپوزیشن کے تیار کردہ ٹی او آرز اور وزیر اعظم نواز شریف کے دسمبر 2000ء کے بعد بیرون ملک قیام کا ایشو بھی اٹھایا گیا ہے۔واضح رہے دسمبر 2000 ء میں میاں محمد نواز شریف اور ان کا خاندان جلا وطن تھا اور سعودی عرب میں مقیم تھا۔ ٹی او آرز میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا وزیر اعظم اور انکا خاندان بیرون ملک قیام کے دوران پاکستان کی طرف سے بیرون ملک سٹیٹ گیسٹ تھے؟ کیا اس عرصہ میں وزیر اعظم یا انکے خاندان کو کوئی جائیداد، تحائف یا رقوم ملی تھی جو پاکستان سے تعلق رکھتی تھیں اور کیا یہ سرکاری خزانے میں جمع کرائی گئی۔ مجوزہ کمشن کی یہ رپورٹ پیش کئے جانے کے ایک ہفتے کے اندر شائع کی جائے گی۔ کمشن بین الااقوامی مشترکہ تفتیشی ٹیم بھی بنا سکے گی۔ٹی وی کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت اپوزیشن کا موقف سننے کیلئے تیار ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق اپوزیشن کے متفقہ ٹی او آرز حکومت کو موصول ہو گئے ہیں اور حکومت نے اپوزیشن کے ٹی او آرز کا قانونی و آئینی جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ ٹی او آرز بھی بہتری اور اضافی تجاویز کا خیر مقدم کیا جائیگا۔