PDA

View Full Version : شب قدر



روشن خیال
06-30-2016, 12:54 AM
از صباملک


شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا مہربان ہے




القدر


رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں،


(سورة البقرہ ۔2 ۔185)






بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے، شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس (رات) میں فرشتے اور روح الامین (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں، یہ (رات) طلوعِ فجر تک (سراسر) سلامتی ہے،




( القدر5۔97 )






ماہ رمضان ایئندہ ماہ و سال تقویٰ کا درس ہے اور سابقہ گناہوں سے نجات ہے پس جس نے رمضان میں قیام کیا اسنے اپنے اپ کو گناہوں سے پا ک کر لیا ۔ بیشک ماہ رمضان میں ستاہیسویں قدر والی رات ہے ہماری مغفرت کا باعث ہے جس نےشب قدرکو پالیا گویا وہ گناہوں سے مبرا ہو گیا




شب قدر کی فضلیت :


لیلة القدر کو اخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔


( البخاری )




حضرت زوبن جیش ؓ کا قول جو پورا سال عبادت کرے گا وہ اس شب قدر کو پالے گا حضرت ابی بن کعب ؓ نے سن کر یہ فرمایا کہ اخری راتوں میں ستاہیسویں رات ہے لیکن اپ نے اسکا ذکر اس لیے کر دیا تاکہ لوگ فقط ان راتوں میں نہ جاگیں بالکہ پورا سال عبادت کریں اور اسکے بعد حلف اٹھا کر کہ وہ رات ستاہیسویں ہی ہے اور نبی اکرم ؐ نے جو اسکی علامت بتائی وہ اسی رات میں پائی جاتی ہے ۔




رمضان المبارک کے آخری عشرئے میں شب قدر فضلیت ، قدر و منزلت اور خیر وبرکات کی حامل ہے رب العزت نے اس رات کو ہزار مہینوں سے افصل قرار دیا ہزار ماہ کی تعداد کا اگر تعیین کیا جاے تو اس رات کی عبادت کا ثواب تراسی برس چاہ ماہ ہوتا ہے ۔ رب العزت بڑی وسعت والا ہے ۔




نبی اکرم ؐ نے فرمایا : یہ مقدس رات میری امت کو عنایت فرمائی سابقہ امتوں میں یہ شرف کسی کو نہی ملا


( در منشور )




سابقہ امتوں کا عابد وہ ہوتا ہے جو ہزار ماہ کی عبادت کرتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں اللہ تعالٰی نے نبی علیہ السلام کی امت کو یہ شب قدر عطا فرمائی جس کی عبادت اسی سال سے بہتر قراد دی گئ ۔


اس رات کی فضلیت عطاکرنے کا سبب نبی اکرم ؐکی امت پر شفقت اور غم خواری ہے ۔




جب نبی اکرم ؐ کو سابقہ امتوں کے لوگوں کی عمروں کے بارے اگاہ فرمایا تو اپ ﷺ نے ان کے مقابلے میں اپنی امت کے لوگوں کی عمروں کو کم دیکھتے ہوئے یہ خیال فرمایا کہ میری امت کے لوگ اتنی کم عمر میں سابقہ امتوں کے برابر کیسے عمل کر سکیں گے ؟۔


( موطا ابو مالک )




شب قدر کیسے عطا ہوئی ؟




اللہ تعالٰی نے نبی اکرم ؐکو اس معاملہ پریشان دیکھا تو اپ کو لیلةالقدر عطافرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے




حضرت ابن عباس ؓ روایت ہے نبی اکرم ؐ کے خدمت میں بنی اسرائیل کے ایک ایسے شخض کا تذکرہ بیان کیا جس نے ہزار ماہ اللہ کی راہ میں جہاد کیا تھا ۔


آپ ﷺ نے اس پر تعجب فرمایا اور اپنی امت کے لیے آرزو کرتے ہوئے دعا فرمائی ،" اے میرے رب میرے امت کے لوگوں کی عمریں کم ہونے کی وجہ سے نیک اعمال بھی کم ہونگے" ، تو اس پر اللہ تعالٰی نے شب قدر عنایت فرمائی ۔


الخازن )




نبی اکرم ﷺ کی دعا کے احتشام پر جبریل علیہ السلام اپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کی :


اے محمد مصطفی ﷺ آپ کی امت کے لوگ ان سابقہ لوگوں کی اسی سالہ عبادت پر رشک کر رہے ہیں تو آپکے رب نے آپ ﷺ کو اس سے بہتر عطا فرما دیا اور پھر قرات کی، انا انزلنا فی لیلة القدر اس پر رسول خدا ؐ کا چہرہ مبارک فرط مسرت سے چمک اٹھا اور عبادت کی رات کو تراسی سال چار ماہ سے بھی بڑھ کر قرار دیا ۔


( القرطبی)




نبی اکرم ؐ نے فرمایا : یہ مقدس رات میری امت کو عنایت فرمائی سابقہ امتوں میں یہ شرف کسی کو نہی ملا


( در منشور )




حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہےنبی اکرم ؐنے فرمایا جس شخص نے شب قدر میں اجر و ثواب کی امید سے عبادت کی اسکے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں


( متفق علیہ )




حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رمضان المبارک کی آمد پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


یہ جو ماہ تم پر ایا ہے اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو شخص اس رات سےمحروم رہ گیا گویا وہ خیر سے محروم رہ گیا اس رات کی بھلائی سے وہی محروم رہ سکتا ہے جو واقعتاً محروم ہوا۔


( ابن ماجہ )




امام زہری رضی ؒ فرماتے ہیں قدر کا معنی مرتبہ ہے باقی راتوں کے شرف و مرتبہ کے لحاظ سے بلند ہے اسلیے اسے لیلة القدر کہا جاتا ہے ۔


اس رات رب العزت نے قران پاک قابل قدر امت کے لیے صاحب قدر رسول علیہ السلام کی معفرت نازل فرمایا یہی وجہ ہے اس سورت القدر میں لفظ قدر تین مرتبہ ایا ہے ۔


قدر کا معنی تنگی بھی اتا ہے اور اسے قدر والی رات بھی کہتے ہیں اس رات اسمان سے فرشتوں کا نزول کثرت سے ہوتا ہے کہ زمین تنگ پڑ جاتی ہے ۔


(الخازن )




حضرت انس ؓ سے روایت ہے نبی اکرم ؐنے اس رات کی فضلیت بیان فرمائی، "شب قدر کو جبرائیل امین فرشتوں کے جھڑمٹ میں زمین پر اترتے ہیں اور ہر شخص کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں جواللہ کو یاد کرتے ہیں ۔




ارشاد باری تعالٰی


اپنے رب کے حکم سے ملائکہ اور جبرائیل امین اترتے ہیں


( القدر 49۔4 )




امام ابوبکر الوراق " خدر " ، قدر کے معنی سے مستفید فرماتے ہیں


شب قدر کی رات میں عبادت گزار بھی صاحب قدر ہوجاتے ہیں


( القرطی )




حضرت عائشہ رضی الله عنهما سے مروی ِ ہے، " میں نے نبی اکرم رسالت ماب سے عرض کیا کہ شب قدر کا وظیفہ کیا ہونا چاہیے "؟ توآپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ السلام نے فرمایا : " اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند فرماتا ہے پس مجھے بھی معاف کردے" ۔




اے اللہ ہمیں اپنے حبیب علیہ السلام کے وسیلہ سے اس ماہ کی اور لیلة القدر کی فضیلت و رحمت سے مستفید فرما ہمارے لغزشوں کو درگزر کر دے ہمیں تقویٰ طہارت ایمان کی زندگی اور ایمان کی موت عطا کرنا اور اپنی حکمت سے ہمیں ایسا بنا جب تیرے پاس آئیں تو تو ہمیں پسند فرما لے


آمین ثم آمین




وما علینا الا البلاغ


اللہ نگہبان