PDA

View Full Version : سعودی عرب میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب حملہ



بےباک
07-06-2016, 03:35 AM
سعودی عرب کے شہر مدینہ میں مسجد نبوی کے باہر ایک چوکی پر خودکش بم دھماکے میں کم از کم چار افراد شہید گئے تھے۔افطاری کا وقت تھا اور جنت البقیع کے قریب والے پارکنگ ایریا میں یہ دھماکہ ہوا ۔ زخمیوں کو فوری طور پر ھسپتال پہنچایا گیا ،
اللہ تعالی امت مسلمہ پر رحمت فرمائے ، آمین
مدینہ مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس شہرہے ۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک بھی ہے ۔
خاص طور پر حج کے موقع پر اور ماہ رمضان میں بہت بڑی تعداد میں مسلمان عبادت کے لیے مسجد نبوی جاتے ہیں۔ الحمد للہ ایک بڑے حادثے سے بچ گئے ، اور بروقت کاروائی سے ھڑبونگ بالکل نہیں ھوئی ،
اس کے بعد رات کو رمضان کےتیسویں روزے کی نماز اورتراویح مکمل سکون سے ادا کی گئی،
مدینہ میں دھماکے سے کچھ دیر قبل ملک کے مشرقی شہر قطیف میں شیعہ مسلک کی مسجد کے بھی باہر بھی ایک دھماکا ہوا، یہ حملہ بھی خودکش بمبار کی کارروائی بتائی جاتی ہے تاہم مسجد میں موجود تمام افراد محفوظ رہے۔
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ مدینہ میں خودکش دھماکے کے بعد اب دہشت گردی کے خلاف متفقہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
’’اب تو میرا خیال ہے کہ بڑا واضح پیغام ہے پوری دنیا کے لیے کہ اب حرمین شریفین ان دہشت گردوں کا نشانہ ہے تو اب بھی اگر مسلم قیادت سر جوڑ کر نہیں بیٹھے گی اور یہ طے نہیں کرے گی کہ ان دہشت گردوں کا مقابلہ کیسے کرنا ہے تو پھر کب بیٹھی گی۔۔۔۔ایک واضح موقف اختیار کر کے عملی اقدامات اٹھانے چاہیئں اب لفظی نہیں عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔‘‘
مولانا راغب حسین نعیمی کہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں مذہبی رہنماؤں کو بھی دہشت گردی کے خلاف یکجہتی میں کردار ادا کرنا ہو گا۔
’’جہاں بھی دہشت گرد موجود ہیں تمام امت مسلمہ کی اب ذمہ داری بن جاتی ہے کہ وہ مشترکہ کارروائی کر کے ان تمام دہشت گردوں کا خاتمہ کریں۔۔۔ وقت کی یہ ضرورت ہے مسلمان علماء ایک جگہ پر جمع ہوں ایک نظریے کی بات کریں۔‘‘
وزیراعظم نواز شریف نے ایک بیان میں سعودی عرب میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت اور عوام اس مشکل گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ مختلف براعظموں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں بین الاقوامی برداری کے باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے ہر واقعہ کے خلاف کھڑا ہے۔
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی پیر کی شب ٹیلی فون پر سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان سے رابطہ کیا اور بم حملوں کی پرزور مذمت کی۔
http://gdb.voanews.com/18A6FB86-0026-4DAC-AF76-F7B8734B53AA_w987_s_s.jpg
http://gdb.voanews.com/2D60BDB8-E7BD-4D29-83CE-15ECDAA2BCC7_w987_s_s.jpg

بےباک
07-09-2016, 07:12 AM
ریاض ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی وزارت داخلہ نے سوموار کے روز مسجد نبوی کے قریب خودکش حملے میں جام شہادت نوش کرنے والے چار سیکیورٹی اہلکاروں کی تصاویر جاری کی ہیں۔شہید ہونے والوں میں سپاہی عبدالرحمن بن ناجی سليم الجهنی، سپاہی محمد بن معتاد هلال المولد، سپاہی عبدالمجيد بن عبدالله عوده الحربی اور سپاہی هانی بن سالم سليم الصبحی شامل تھے۔ پیغمبر اسلام کے پسندیدہ شہر میں دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی کی دنیا بھر سے مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ڈیوٹی پر موجود چاروں فوجیوں کو ایک شخص پر شک گزرا جو نمازیوں کی گاڑیوں کے لئے مخصوص پارکنگ کی کھلی جگہ سے گزر کر مسجد نبوی شریف کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سیکیورٹی اہلکاروں کے روکنے پر اس نے کمر کے گرد باندھی ہوئی دھماکا خیز بلٹ کو اڑا لیا۔
http://vid.alarabiya.net/images/2016/07/08/150b36d6-d634-4557-91f9-57b272be6d27/150b36d6-d634-4557-91f9-57b272be6d27_4x3_690x515.jpg

http://vid.alarabiya.net/images/2016/07/08/d43d381a-3f16-48cc-b682-544ba4899fc7/d43d381a-3f16-48cc-b682-544ba4899fc7_4x3_690x515.jpg
http://vid.alarabiya.net/images/2016/07/08/96205b85-08bc-4dc2-8c4a-84e9c2987af6/96205b85-08bc-4dc2-8c4a-84e9c2987af6_4x3_690x515.jpg


http://vid.alarabiya.net/images/2016/07/08/71b73d8e-3101-4866-b8c7-95600e569bc3/71b73d8e-3101-4866-b8c7-95600e569bc3_4x3_690x515.jpg

بےباک
07-09-2016, 07:13 AM
العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کو نشانہ بنانے کی شرمناک کوشش کے مرتکب حملہ آور کی شناخت جاری کر دی ہے۔ اس حملے میں چار سیکیورٹی اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔وزارت کے مطابق سوموار کو کیا جانے والا حملہ 26 سالہ سعودی شہری نائر مسلم حماد النجدی نے کیا۔ سعودی خبر رساں ایجنسی 'ایس پی اے' کی جانب سے جاری کردہ وزارت داخلہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ نائر نشے کا عادی تھا۔وزارت داخلہ نے اسی روز مشرقی شہر قطیف میں ہونے والے خودکش حملے کے ذمہ داروں کے نام بھی جاری کئے۔ ان میں 23 سالہ عبدالرحمن صالح محمد العِمِر شامل تھا۔ عبدالرحمن پر ماضی میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث زیر حراست قیدیوں کی رہائی کے لئے بلوا کارروائیاں منظم کرنے کا الزام تھا۔ دوسرے دو حملہ آور بیس سالہ إبراهيم صالح محمد العِمِر اور بیس سالہ عبدالكريم إبراهيم محمد الحسِنِي تھے۔http://vid.alarabiya.net/images/2016/07/08/0fb9363a-d0ac-452a-8f0c-5a82fb815a4f/0fb9363a-d0ac-452a-8f0c-5a82fb815a4f_4x3_690x515.jpg
مدینہ حملے کا بمبار

http://vid.alarabiya.net/images/2016/07/08/e9ed5bef-aee0-42cd-ac6f-e7f03151220b/e9ed5bef-aee0-42cd-ac6f-e7f03151220b_4x3_690x515.jpg
قطیف حملوں کا مجرم عبدالرحمن صالح محمد العِمِر

http://vid.alarabiya.net/images/2016/07/08/c2efa740-a750-4672-ae48-05cee9e1908b/c2efa740-a750-4672-ae48-05cee9e1908b_4x3_690x515.jpg
إبراهيم صالح محمد العِمِر

http://vid.alarabiya.net/images/2016/07/08/a0badf19-11e5-49c5-a927-95cfb84bbea8/a0badf19-11e5-49c5-a927-95cfb84bbea8_4x3_690x515.jpg
عبدالكريم ابراهيم محمد الحسِنِی

بیان کے مطابق ان میں کسی نے بھی سعودی قومی شناختی کارڈ حاصل نہیں کیا تھا۔سعودی وزارت داخلہ کے مطابق تحقیقات کے نتیجے میں 12 پاکستانیوں اور 7 سعودیوں سمیت 19 دوسرے مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جس کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ مدینہ، قطیف اور جدہ کے حملوں میں ملوث ہیں۔بیان کے مطابق مدینہ اور قطیف میں ہونے والے دہشت گرد حملہ آوروں کے جسمانی معائنے میں 'نائٹرو گلائسرین' نامی دھماکا خیز مواد کی موجودگی کے آثار ملے ہیں۔ ایسا ہی مواد جدہ کے سلیمان فقیہ ہسپتال کے پارکنگ ایریا میں ہونے والے دھماکے کی جگہ سے ملا، تاہم حکام مزید ٹیسٹ کر رہے ہیں۔پیر کے روز ہونے والے دھماکے رمضان المبارک کے خاتمے سے ایک دن قبل ہوئے۔ مدینہ میں عسکریت پسندوں کے حملے ایک عدیم النظیر کارروائی تھے۔ اس شہر کو دنیائے اسلام کا دوسرا مقدس ترین شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، جس کی بنیاد اسلام کے آخری پیغمبر نے رکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ بھی اسی شہر کی پرشکوہ مسجد نبوی میں واقع ہے۔

بےباک
07-09-2016, 07:32 AM
ہمارے دل امت مسلمہ کے ساتھ دھڑکتے ہیں ، اور اس دکھ کے موقع پر ہم ان شہداء کے گھر والوں سے ہمدردی رکھتے ہیں
اور ان کے لئے دعا گو ہیں ، اور مجرموں اور ان کے پس پردہ لوگوں کے لئے سخت سے سخت سزا کے طلبگار ہیں ،
جو بندہ بھی فساد کا بیج بوئے اور مساجد کا احترام نہ کرے اس کا دنیا میں اور آخرت میں انجام بہت سخت ہو گا ،

العربیہ ڈاٹ نیٹ پر فیصل جےعباس کیا کہتے ہیں ؟
"
سب سے اہم بات یہ ہے اور شاید یہ بعض لوگوں کی سوچ کے برعکس ہو،داعش نے سعودی مملکت کو اپنا ایک دشمن قرار دے رکھا ہے اور چند ہفتے قبل ہی داعش کے ایک لیڈر نے رمضان المبارک میں دنیا بھر میں اپنے دشمنوں کے خلاف حملوں کی دھمکی دی تھی۔ساحلی شہر جدہ میں امریکی قونصل خانے کے نزدیک پہلے حملے کا مقصد شاید مغرب کو ہدف بنانا تھا لیکن اگر اس کو ناکام نہ بنا دیا گیا ہوتا تو اس سے یقیناً سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تعلقات میں زہر گھل جاتا۔مشرقی صوبے میں دوسرے حملے میں اہل تشیع کی دو مساجد کو ہدف بنایا گیا تھا۔شیعہ فرقہ سعودی عرب میں اقلیت میں ہے۔اس کے ماضی میں حکومت کے ساتھ مسائل رہے ہیں۔تاہم اہل تشیع بھی داعش کے علانیہ دشمن ہیں۔اگر یہ حملہ کامیاب ہوجاتا تو اس سے حملہ آوروں کے دو مقاصد پورے ہوجاتے۔شیعہ مرتے اور اس سے اس اقلیت اور حکومت کے درمیان ایک کشیدگی پیدا ہوجاتی۔دوسرا، اس سے یہ بھی ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی کہ سعودی مملکت کی سکیورٹی فورسز اہل تشیع کا مناسب طریقے سے تحفظ نہیں کررہی ہیں۔"

ان سب تفاصیل کو اس جگہ سے دیکھا جا سکتا ھے ۔ بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
https://urdu.alarabiya.net/