PDA

View Full Version : پاکستان کا مطلب کیا اور اصغر سودائی صاحب



بےباک
08-11-2016, 09:36 AM
http://www.pakistanconnections.com/uploads/daytoday/pic/Asghar-p1.jpg
پروفیسر اصغر سودائی

نامور اردو شاعر اور ماہر تعلیم پروفیسر اصغر سودائی کا اصل نام محمد اصغر تھا اور وہ 17 ستمبر 1926ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے والد کا نام محمد دین اپل جبکہ والدہ کا نام اللہ رکھی تھا ۔۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں سرگرم حصہ لیا اور 1945 میں مشہور نعرہ ’’پاکستان کا مطلب کیا، لاالٰہ الا اللہ‘‘ تخلیق کیا۔17 مئی 2008ء کو نامور اردو شاعر اور ماہر تعلیم پروفیسر اصغر سودائی سیالکوٹ میں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہیں۔
پروفیسر اصغر سودائی نے مرے کالج سیالکوٹ اور اسلامیہ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی ۔یہ وہی درسگاہ ہے جہاں سےحضرت علامہ محمد اقبال اور فیض احمد ٍفیض جیسی قد آور شخصیات نے اپنی علمی پیاس بجھائی۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اقتصادیات کا امتحان پاس کیا۔بعد میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج سیالکوٹ سے بطور لیکچرار وابستہ ہوگئے۔ 1965ء میں وہ اس کالج کے پرنسپل بنے۔1966ء میں انہوں نے سیالکوٹ میں علامہ اقبال کالج قائم کیا اور اس کے پرنسپل بھی رہے تھے۔ 1984ء سے 1986ء تک وہ ڈیرہ غازی خان کے ڈائریکٹر ایجوکیشن کے منصب پر فائز رہے۔پروفیسر اصغر سودائی کے شعری مجموعوں میں " شہ دو سراؐ " اور " چلن صبا " کی طرح کے نام شامل ہیں۔
تعلیم حاصل کرنے کے بعد شعبۂ تعلیم کو اپنا پیشہ بنایا اور علامہ اقبال کالج سیالکوٹ کے پرنسپل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ۔ لوگ اُنہیں “تحریک پاکستان کا چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا” بھی کہتے تھے ۔



پروفیسر سودائی نے 1944 میں اپنی طالب علمی کے دور میں تحریک پاکستان کے دوران ایک نظم کہی تھی، ”ترانۂ پاکستان” اور یہ بے مثال مصرع اسی نظم کا ہے۔
آپ سے ایک بار پوچھا گیا تھا کہ یہ مصرع کیسے آپ کے ذہن میں آیا تو آپ نے فرمایا کہ:” جب لوگ پوچھتے تھے کہ، مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن پاکستان کا مطلب کیا ہے ؟؟؟“تو میرے ذہن میں آیا کہ سب کو بتانا چاہیئے کہ:”پاکستان کا مطلب کیا ہے؟؟؟“
یہ نعرہ ہندوستان کے طول و عرض میں اتنا مقبول ہوا کہ تحریک پاکستان اور یہ نعرہ لازم و ملزوم ہو گئے اور اسی لیے قائد اعظم نے کہا تھا کہ: ”تحریکِ پاکستان میں پچیس فیصد حصہ اصغر سودائی کا ہے۔“


شاعر، ماہر تعلیم، قومی کارکن اصغر سودائی سیالکوٹ کے رہنے والے تھے ۔ مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن سیالکوٹ کے روح رواں تھے۔ وہ اس فیڈریشن کے آرگنائزر رہے۔ ان کی کوششوں سے فیڈریشن ایک موثر جماعت بن کر ابھری اور یہ اس کی سرگرمیوں کا نتیجہ تھا کہ 1946ءکے انتخابات میں مسلم لیگ نے ضلع سیالکوٹ کی تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ دوران تعلیم اسلامیہ کالج لاہور میں بھی اصغر سودائی نے پاکستان کے لئے نمایاں کام کیا۔ اسلامیہ کالج ان دنوں تحریک پاکستان کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ اسلامیہ کالج کے جلسوں میں اصغر سودائی اپنے ولولہ انگیز کلام سے لوگوں کے دلوں کو گرماتے۔ انہیں حضرت قائد اعظم سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔ تحریک پاکستان کے زمانہ عروج میں جب نیشنل کانگریس اور ان کے حواری نیشنلسٹ مسلمان تضحیک کے انداز میں پوچھا کرتے تھے کہ پاکستان کیا ہے؟ تو آپ نے اس سوال کا جواب 1944ءمیں جبکہ آپ ایف اے کے طالب علم تھے، ”ترانہ پاکستان“ کی صورت میں دیا جس کو تمام اسلامیاں ہند نے خیبر سے لیکر راس کماری یعنی سمندر کے اندر جزیروں تک حرزجاں بنا لیا۔ اس ترانے کا ایک مشہور بند یہ ہے!
چھوڑ تعلق داری چھوڑ اٹھ محمود بتوں کو توڑ
جاگ اللہ سے رشتہ جوڑ غیر اللہ کا نام مٹا
پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اِلہَ اِلا اللّٰہ

شاید ہی کوئی پاکستانی ایسا ہو گا جس نے ” پاکستان کا مطلب کیا ۔ لا الہ الا اللہ“ نہ سُنا ہو ۔ ویسے چند لوگوں کو اس سے کچھ چِڑ بھی ہے کہ اُن کے خیال کے مطابق پاکستان شاید موج میلہ کرنے کیلئے بنایا گیا تھا جہاں دین اسلام کا عمل دخل نہ ہو ۔ خیر مجھے اس سے بحث نہیں ہے لیکن اتنا واضح کر دوں کہ یہ جُملہ سامنے آتے ہی جنگل کی آگ سے بھی زیادہ تیزی سے ہندوستان کے طول و عرض میں پھیل گیا تھا اور ہر مسلمان عورت مرد لڑکی اور لڑکے کی زبان پر رواں ہو گیا تھا کیونکہ تمام مسلمان پاکستان کا مطلب یہی لیتے تھے
آج صرف یہ تاریخی حقیقت ایک بار پھر آشکار کرنا ہے کہ یہ نعرہ جس نے ہندوستان کے مسلمانوں کے اندر ایک نئی روح پھونک دی تھی اور جو پاکستان بننے پر مُنتج ہوا ۔ معرضِ وجود میں کیسے آیا تھا ؟
پروفیسر اصغر سودائی نے 1944ء میں اپنی طالب علمی کے دور میں تحریک پاکستان کے دوران ایک نظم کہی تھی ”ترانۂ پاکستان”۔ یہ بے مثال طرح مصرع اسی نظم کا ہے ۔ یہ نعرہ ہندوستان کے طول و عرض میں اتنا مقبول ہوا کہ پاکستان تحریک اور یہ نعرہ لازم و ملزوم ہو گئے ۔ اسی لئے قائد اعظم نے کہا تھا کہ تحریکِ پاکستان میں 25 فیصد حصہ اصغر سودائی کا ہے ۔



ترانۂ پاکستان
شَب ظُلمت میں گزاری ہے ۔ اُٹھ وقتِ بیداری ہے
جنگِ شجاعت جاری ہے ۔ ۔ ۔ آتش و آہن سے لڑ جا
پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ
ہادی و رہبر سرورِ دیں ۔ ۔ ۔ صاحبِ علم و عزم و یقیں
قرآن کی مانند حسیں ۔ ۔ ۔ احمد مُرسل صلی علی
پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ
چھوڑ تعلق داری چھوڑ ۔ اُٹھ محمود بُتوں کو توڑ
جاگ اللہ سے رشتہ جوڑ ۔ ۔ ۔ غیر اللہ کا نام مٹا
پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الااللہ
جُرأت کی تصویر ہے تو ۔ ہمت عالمگیر ہے تو
دنیا کی تقدیر ہے تو ۔ ۔ ۔ ۔ آپ اپنی تقدیر بنا
پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ
نغموں کا اعجاز یہی ۔ ۔ ۔ دل کا سوز و ساز یہی
وقت کی ہے آواز یہی ۔ ۔ ۔ وقت کی یہ آواز سنا
پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ
پنجابی ہو یا افغان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ مل جانا شرط ایمان
ایک ہی جسم ہے ایک ہی جان ۔ ایک رسول اور ایک خدا
پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ
تجھ میں ہے خالد کا لہو ۔ تجھ میں ہے طارق کی نمُو
شیر کے بیٹے شیر ہے تُو ۔ ۔ شیر بن اور میدان میں آ
پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ
مذہب ہو ۔ تہذیب کہ فن ۔ تیرا جُداگانہ ہے چلن
اپنا وطن ہے اپنا وطن ۔ ۔ ۔ غیر کی باتوں میں مت آ
پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ
اے اصغر اللہ کرے ۔ ۔ ننھی کلی پروان چڑھے
پھول بنے خوشبو مہکے ۔ وقتِ دعا ہے ہاتھ اٹھا
پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ