PDA

View Full Version : کیچڑ کا کنول



مقصود حسنی
10-25-2016, 03:59 PM
کیچڑ کا کنول
منظوم افسانہ

آلودہ‘ میلا سا چیتھڑا
شاید حاجت سے بچا ہوگا
آدم زادے کا پراہین‘
عییب نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟!
گلاب سے چہرے پر
بلور ایسی‘ دیکھتی آنکھیں
حیرت خوف غم غصہ اورافسوس
جانے کیا کچھ تھا ان میں
سماج کی بےحسی پہ
ان ٹھہری مگر دیکھتی آنکھوں میں
دو بوند‘ لہو سی
صدیوں کے ظلم کی داستان
لیے ہوئے تھیں
اتنی حدت اتنی اتنی تپش کہ
پتھر بھی پگھل کر پانی ہو
ترسی ترسی باہیں
میرے بوبی کی باہیں ایسی ہی تھیں کہ
جب وہ بچہ تھا
تب محبتوں کا حصار تھا
اور اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خفت ندامت کا حصار
مرے گرد ہے
لمحہ بہ لمحہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دائرہ تنگ ہو رہا ہے
مجھے فنکار سے نسبت ہے
فنکار‘ سب کا درد
سینے کی وسعتوں میں سمو لیتا ہے
اور میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘
ساکت وجامد
مٹی کے بت کی طرح
خاموش تماشائی تھا
اس نے پکارا آواز دی
احتجاج بھی کیا
کچھ نہ میں کر سکا
جیسے وہ آدم زادہ نہ ہو‘
ہمالہ سے گرا
کوئ پتھر ہو
اس نے کہا:
“فنکار۔۔۔۔۔۔۔!
مجھے اپنی باہوں میں سما لو
ازل سے پیاسا ہوں"
گھبرا کر تھوڑا سا
)پستیوں کی جانب)
پیچھے سرکا
کوئی مصیبت کوئی وبال
تہمت یا بدنامی سر نہ آئے
چیخا “فنکار کا سینہ
کب سے تنگ ہوا ہے؟!
میری باہیں غیر جنس کی باہیں ہیں؟
ان کا تم پر کوئی حق نہیں؟؟؟
وہ کہتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں سنتا رہا
کیا جواب تھا میرے پاس
کاش!
میرے شعور کی آنکھیں بند ہو جاتیں
یوں جیسے ممتا کی سماج کی
آنکھیں بند تھیں
سوچتا ہوں‘ مجرم کون ہے
گناہ کس نے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔‘
ماں یا سماج نے
وہ تو اپنے گھروں میں
آسودہ سانسوں کے ساتھ
گرم کافی پی رہے ہوں گے
یا میں نے جو
شب کی بھیانک تنہائ میں
ندامت سے
سگریٹ کے دھوئیں میں
تحلیل ہو رہا ہوں
گٹرکے قریب پڑا‘ وہ کنول
مجھ سے میرے ضمیر سے
انصاف طلب کر رہا ہے
کہ تم‘ خدائے عزوجل کی تخلق کا
یہ حشر کرتے ہو
مجھے حرامی کہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
بتاؤ‘ حامی کون ہے؟
ضمیر کس کا مردہ ہے؟
مجرم کون ہے؟
میں یا تم؟؟؟
میری بستی کے باسیو!
کہ تمہیں عظیم مخلوق ہونے کا دعوی ہے
کیا جواب دوں اسے؟
اس کا ننھا سا معصوم چہرا
احتجاج سے لبریزآنکھیں
پنکھڑی سے ہونٹوں پر
تھرکتی بےصدا سسکیاں
مجھے پاگل کر دیں گی
پاگل
ہاں پاگل