PDA

View Full Version : ہندوی کے انگریزی پر لسانیاتی اثرات



مقصود حسنی
10-25-2016, 04:08 PM
ہندوی کے انگریزی پر لسانیاتی اثرات

مختلف علاقوں کے لوگوں کی زبان' میں حیرت انگیز لسانیاتی مماثلتوں کا پایا جانا' اتفاقیہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے پس منظر میں' کسی سطع پر کوئی ناکوئی واقعہ' معاملہ' حادثہ' بات یا کچھ ناکچھ ضرور وقوع میں آیا ہوتا ہے' چاہے اس کی حیثیت معمولی ہی کیوں نہ رہی ہو' اس کا اثر ضرور مرتب ہوا ہوتا ہے۔

ایک دیسی یا بدیسی شخص' بازار میں کچھ خریدنے' کسی سے ملنے یا کسی اور کام سے آتا ہے۔ وہ اپنے اس ٹھہراؤ کے مختصر دورانیے میں' کوئی اصطلاح' کوئی ضرب المثل' کوئی محاورہ یا کوئی لفظ چھوڑ جاتا ہے۔ اس کا بولا' ایک شخص استعمال میں لاتا ہے' پھر دوسرا' ان کی دیکھا دیکھی میں وہ مہارت میں آ جاتا ہے۔ اب یہ لازم نہیں کہ وہ اصل تلفظ' اصل معنوں یا پھر اصل استعمال کے مطابق' استعمال میں آ جائے۔ وہ اپنی اصل سے کہیں دور' بل کہ بہت دور جا سکتا ہے۔ معنوی اعتبار سے اصل سے برعکس استعمال میں آ سکتا ہے۔ کئی معنی اور استعمال سامنے آ سکتے ہیں اور پھر اس کے غیر ہونے کا گمان تک نہیں گزرتا۔

یونانیوں کا سیاسی' علمی' ادبی اور ثقافتی حوالہ سے' دنیا بھر میں ٹہکا تھا۔ آتے وقتوں کی عظیم سیاسی' عسکری اور مکار قوت' برطانیہ ان کی دسترس سے باہر نہ تھی۔ اسی طرح برصغیر بھی یونانیوں کے زیر اثر رہا۔ یونان کا لٹیرا اعظم' برصغیر پر بھی حملہ ہوا۔ یہاں پٹ گیا۔ زخمی ہوا اور یہاں سے دم دبا کر بھاگ گیا۔ ایک یونانی قبیلہ یہاں رک گیا۔ کیلاش میں ان کا پڑاؤ ٹھہرا۔ یہ یونانی کئی ولائیتوں پر حکومت کرتے رہے۔ اس یونانی عسکری قبیلے کی نسل' آج بھی' یہاں بہت ساری اپنی یونانی روایات کے ساتھ موجود ہے۔

رومن برٹن: بریطانیہ' بریٹن' برطانیہ۔ آئی لینڈ کا علاقہ تھا' جو کہ رومن ایمپائر کی حکومت میں تھا۔ برصغیر رومن شہنشاہت سے باہر نہ تھا۔ برصغیر میں ان کے ہونے کے بہت سے اثار انٹرنیٹ پر تلاشے جا سکتے ہیں۔ انگریزی کا رسم الخط آج بھی رومن ہے۔ اس رسم الخط میں لکھی اردو کو رومن اردو کا نام دیا جاتا ہے۔

برطانیہ والے 1857 سے بہت پہلے' برصغیر میں وارد ہو گیے تھے' تاہم 1857 سے 1947 تک برصغیر ان کا رہا۔ محسن آزادی ہٹلر کی عنایت اور مہربانی سے' برطانیہ کے ہاتھ' پاؤں اور کمر کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور سونے کی چڑیا' اس کی دسترس میں نہ رہی۔ اس کے بعد امریکہ کی گڈی چڑھی اور آج تک چڑھی ہوئی ہے۔ گویا دونوں یونیوں کے زیر تسلط تھے' اس کے بعد رومیوں کے رہے۔ اس کے بعد برصغیر پر برطانیہ کا کھرا کھوٹا سکا چلا اور اب حضرت امریکہ بہادر کی خداوندی کا دور دورہ ہے۔

اسم کی ترکیب کے لیے' انگریزی یں لاحقہ موجود نہیں۔ یہ خالص برصغیر سے متعلق ہے۔ مثلا دیوارکا' پریمیکا' انومیکا' کامولیکا وغیرہ گویا امریکا' برصغیر کا لفظ ہے۔ مثلا امبڑیکا. اگر کسی شخص کا نام ہے' تو اس کا برصغیر سے کوئی ناکوئی رشتہ' ضرور رہا ہو گا۔ امریکہ میں بھی انگریزی زبان استعمال میں آتی ہے۔

صاف ظاہر ہے' ان علاقوں کے لوگ یہاں آئے۔ ان علاقوں سے' جس حوالہ سے بھی سہی' یہاں سے لوگ گیے۔ مزے کی بات یہ کہ آج بھی لاکھوں کی تعداد میں مغرب کے مختلف علاقوں میں برصغیر کے لوگ' عارضی اور مستقل اقامت رکھتے ہیں۔ یہ کہنا کہ برصغیر والے ہی متاثر ہوئے' سراسر زیادتی کے مترادف ہو گا۔ حاکم ہو کہ محکوم' ایک ولایت میں اقامت رکھنے کے سبب' ایک دوسرے سے متاثر ہوتے ہیں۔ ہندوی' جوآل ہند کی زبان ہے' نے دنیا کی تمام زبانوں کو' لسانی' فکری اور اسلوبی حوالہ سے متاثر کیا. اسی طرح یہ بھی اپنی بےپناہ لچک پذیری کے باعث' ان سے متاثر ہوئی۔ مختلف زبانوں کے الفاظ' اس کے ذخیرہءاستعمال میں داخل ہیں۔

متاثر کرنے کی' کئی صورتیں اور سطحیں ہوسکتی ہیں۔
1
کلچر زیادہ تر خواتین کے زیر اثر رہا ہے۔
زیورات' لباس' بناؤ سنگار کے اطوار' ناز و نخرہ وغیرہ کے چلن' ایک دوسرے کے اختیار کرتی ہیں۔
نشت و برخواست کے اصول اختیار کرتی ہیں۔
گفت گو میں' ایک دوسرے کی طرز اختیار کرتی ہیں۔
گھر میں سامان کی درآمد اور اس کے رکھنے اور سجانے کے طور' اپناتی ہیں۔
کچن اور اس سے متعلقہ امور میں' نقالی کرتی ہیں۔
اشیائے اور اطوار پکوان اپناتی ہیں۔
فقط یہ امور ہی انجام نہیں پاتے' بل کہ ان کے حوالہ سے اسما' صفات' سابقے' لاحقے' اسلوب بھی اس گھر میں منتقل ہوتے ہیں۔
2
کم زوروں کی ہنرمندی اور ہنرمندوں پر ڈاکے پڑتے ہیں
ان کے وسائل قدرت پر قبضہ جمایا جاتا ہے
ان کے علمی و ادبی ورثے کو غارت کرنے کے ساتھ اس کی بڑی بےدردی سے لوٹ مار کی جاتی ہے۔
ان تینوں امور کے حوالہ سے ان کی زبان میں بہت کچھ بدیسی داخل ہو جاتا ہے۔
3
اس کے علاوہ معاشرتوں کے انسلاک سے
بہت سے معاشرتی اطوار
انسانی رویے
رسم و رواج
مذہبی اور نظریاتی اصول
سیاسی' معاشی اور ارضیاتی طور طریقے اور خصوصی و عمومی چلن
ایک دوسرے کے ہاں منتقل ہوتے ہیں اور صدیوں کا سفر کرتے ہیں۔ آتے وقتوں میں کچھ کے کچھ ہو جاتے ہیں' لیکن باقی رہتے ہیں۔ بعض کی' ہزاروں سال بعد بھی' بازگشت باقی رہتی ہے۔ یہ امور زبان سے بالا بالا نہیں ہوتے۔ ان سب کا زبان سے اٹوٹ رشتہ استوار ہوتا ہے۔

اشیائے خوردنی اور اشیائے استعمال مثلا کپڑے' برتن وغیرہ
اشیائے حرب اور حربی ضوابط
طرز تعمیر وغیرہ
قبریں بنانے کے انداز
کا تبادلہ ہوتا ہے' ان کے حوالہ سے زبان کو بہت کچھ میسر آتا ہے۔ میں نے یہاں' محض گنتی کے دو چار اموردرج کیے ہیں' ورنہ ایسی بیسیوں چیزیں ہیں' جو وقوع میں آتی ہیں اور ان کا زبانوں پر اثر مرتب ہوتا ہے۔ اس ذیل میں' قرتہ العین حیدر کی تحریروں کا مطالعہ مفید رہے گا۔ انگریزی بھی' برصغیر کی زبان ہندوی سے' متاثر ہوتی آئی ہے جس کے لیے' ان کی شاعری کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

بعض اردو اور انگریزی کی ضمیروں میں' صوتی مماثلت موجود ہے۔ مثلا
Of fortune’s favoured sons, not me.
نظم: Wish
شاعر: Matthew Arnold
To die: and the quick leaf tore me
me
کے لیے اردو میں مجھے مستعمل ہے۔ پوٹھوہار میں ضمیر می آج بھی بول چال میں ہے۔
........
My feeble faith still clings to Thee,
نظم: My God! O Let Me Call Thee Mine!
شاعر: Anne Bronte
my
انگریزی میں عام استعمال کی ضمیر اردو میں اس ضمیر کے میرا مستعمل ہے۔
........
you can keep your head when all about you
نظم: If
شاعر: Rudyard Kipling
اردو میں تو عام بول چال میں موجود ہے۔
........
بہت سے الفاظ آوازوں کے تبادل یا کسی اور صورت میں انگریزی میں مستعمل ہیں۔ مثلا
اردو میں دن انگریزی میں ڈان
مور more
اور الف کی آواز میم یعنی m
میں بدلی ہے۔ m
کو حشوی قرار دیا جا سکتا ہے۔

Once more before my dying eyes
Wish: Matthew Arnold

ودوا اپنی اص میں ود اور وا کا مرکب ہے۔ بےوا مستعمل صورت بیوہ۔
بے نہی کا سابقہ ہے
بہت سے لفظ اس طور سے لکھے جاتے ہیں۔ مثلا
بیچارہ بجائے بےچارہ
بیدل بجائے بےدل
بیہوش بجائے بےہوش
بیکار بجائے بےکار
بیوہ بےوا بمعنی جس کا ور نہ رہا ہو ر کی آواز گر گئی ہے. ودوا بےوا کے لیے بولا جاتا ہے۔
انگریزی میں وڈو۔ وڈ او
widow
وڈ آؤٹ اس کے' یعنی ور' او ۔ ور
...............
کئی ایک لفظ انگریزی کی صوتیات کے پیش نظر' معمولی سی تبدیلی کے ساتھ' انگریزی میں داخل ہو گئے ہیں۔
no
انگریزی میں نفی کے لیے استعمال ہوتا ہے اردو میں نہ جب کہ انگریزی میں نو
نو' باطور نہی کا سابقہ
نوسر نوٹنکی
نو. سر. باز
باطور سابقہ نا ناکافی نازیبا ناچیز
نہ باطور سابقہ نہ جاؤ' نہ چھیڑو' نہ کرو' نہ مارو

ان بولتے لفظوں کو‘ ہم سن نہ سکے
آنکھوں سے‘ چن نہ سکے
کس منہ سے: مقصود حسنی

نہ کڑا نہ کھارا
چل' محمد کے در پر چل: مقصود حسنی
I have no wit, no words, no tears;
A Better Resurrection: Christina Rossetti
No motion has she now, no force;
A Slumber Did My Spirit Seal: William Wordsworth
Thou hast no reason why ! Thou canst have none ;
Human Life: Samuel Taylor Coleridge
............
رشتوں کے حوالہ سے بھی انگریزی میں کچھ الفاظ داخل ہوئے ہیں۔ مثلا
پنجابی میں بھرا
فارسی میں برادر
اردو میں بھی برادر مستعمل ہے

انگریزی میں
brother
اصل لفظ برا۔ بھرا ہی ہے جب کہ در باطور لاحقہ داخل ہوا ہے۔ ایک پہلے ہے تب ہی دوسرا برا یا بھرا ہے۔ دونوں کا برابر کا رشتہ ہے۔ انگریزی میں واؤ الف کا تبادل ہے۔ یہ رویہ طور میواتی اور راجھستانی میں موجود ہے۔ برا سے برو بامعنی بھائی۔
در کا لاحقہ
father, mother
میں بھی موجود ہے
در' باطور سابقہ اور لاحقہ اردو میں بھی رواج رکھتا ہے. مثلا
درگزر' درحقیقت' درکنار
چادر چا در
His brother doctor of the soul,
Wish: Matthew Arnold
فارسی میں' ماں کے لیے مادر مستعمل ہے۔ اردو میں مادر پدر آزاد عام بول چال میں ہے۔ اصل لفظ ما ہی ہے۔ ں حشوی ہے. یہ ہی صورت فارسی کے ساتھ ہے۔ انگریزی میں
mother
بولتے ہیں۔ اس میں اصل لفظ مو ہی ہے' فارسی کی طرح در الحاقی یعنی خارجی ہے۔

ہر برتن کی زبان پہ
اس کی مرحوم ماں کا نوحہ
باپ کی بےحسی اور
جنسی تسکین کا بین تھا
نوحہ: مقصود حسنی
............
مرکبات حسن شعر میں داخل ہیں۔ یہ شخصی اور مجموعی رویوں کے عکاس اور شاعر کی اختراعی فکر کےغماز ہوتے ہیں۔ یہ ہی نہیں' زبان کی وسعت بیانی کی بھی گواہی دیتے ہیں۔ اردو اس ذیل میں کمال کی شکتی رکھتی ہے۔ انگریزی میں بھی مرکبات ملتے ہیں۔ اس ذیل میں اردو کے پائے کے مرکبات کی حامل ناسہی' لیکن اس کا دامن اس کمال زبان سے تہی نہیں۔ اردو اور انگریزی سے چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔

موسم گل ابھی محو کلام تھا کہ
..........
پریت پرندہ
..........
اس کی بینائی کا دیا بجھ گیا
.........
پھر اک درویش مینار آگہی پر چڑھا
......
یتیمی کا ذوق لٹیا ڈبو دیتا ہے
من کے موسم دبوچ لیتا ہے

حیرت تو یہ ہے: مقصود حسنی

greedy heirs, ceremonious air, hideous show, poor sinner, undiscovered mystery, death’s winnowing wings, dying eyes, dew of morn, generous sun, silent moves, ruddy eyes, tears of gold, clouds of gloom, golden wings, trembling soul, make dreams, worth of distance, Shadows of the world, golden Galaxy, happy hours, sun in flight,

Wish: Matthew Arnold
From bands of greedy heirs be free;
The ceremonious air of gloom –
All which makes death a hideous show!
پوشیدہ نمائش
Of the poor sinner bound for death,
مفلس گناہ گار بےچارہ گناہ گار
That undiscovered mystery
Which one who feels death’s winnowing wings
Once more before my dying eyes
ڈوبتی آنکھیں
Bathed in the sacred dew of morn
تاسف کی بوندیں
But lit for all its generous sun,
Where lambs have nibbled, silent moves
They look in every thoughtless nest,
فکر سے عاری گھروندا
Seeking to drive their thirst away,
ہانکتی پیاس
And there the lion’s ruddy eyes
مغرور نگاہیں
Shall flow with tears of gold,
Night: William Blake
Sometimes there are clouds of gloom
Still buoyant are her
Life: Charlotte Bronte
My trembling soul would fain be Thine
لرزتی روح
My God! O Let Me Call Thee Mine!
Anne Bronte
If you can dream – and not make dreams your master;
خواب بننا
With sixty seconds’ worth of distance run -
If: Rudyard Kipling
Shadows of the world appear.
Hung in the golden Galaxy.
The Lady Of Shalott: Alfred Tennyson
Now stand you on the top of happy hours,
مسرور لمحے
But wherefore do not you a mightier way
Shakespeare
And then, O what a glorious sight
Address To A Haggis: Robert Burns
Wild men who caught and sang the sun in flight,

مرکبات تحریر کے اختصاری معاملے میں' حد درجہ معاون ہوتے ہیں' بعینہ تشبیہات ناصرف اسم کو نمایاں کرتی ہیں' بل کہ اسم کی کائنات میں مماثلتیں بھی تلاشتی ہیں۔ یہ ہی نہیں' اختصاری عمل میں بھی' اپنے حصہ کا کردار ادا کرتی ہیں۔ میر کا یہ معروف ترین شعر ملاحظہ ہو۔

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب سی ہے

اس سے ناصرف لبوں کی نازکی سامنے آئی ہے' بل کہ چند لفظوں میں کئی صفحات پر محیط کام سمیٹ دیا گیا ہے۔ تشبیہات کے معاملہ میں' انگریزی اردو کے قریب تر ہے۔ ماضی بعید اورانگریز کے برصغیری عہد میں' اس زبان نے انگریزی کو متاثر کیا ہو گا۔ اردو اور انگریزی سے چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔

سلوٹ سے پاک سہی
پھر بھی
حنطل سے کڑوا
اترن کا پھل
چل' محمد کے در پر چل: مقصود حسنی

ساون رت میں
آنکھوں کی برکھا کیسے ہوتی ہے
مت پوچھو: مقصود حسنی

My life is like a faded leaf
My life is like a frozen thing,
My life is like a broken bowl,
Can make you live yourself in eyes of men.
But wherefore do not you a mightier way
Shakespeare
........
A Better Resurrection: Christina Rossetti
Blind eyes could blaze like meteors and be gay,
........
Do Not Go Gentle Into That Good Night
Dylan Thomas
The moon like a flower
Night: William Blake
........
And Joy shall overtake us as a flood,
On Time: Milton
........
Blind eyes could blaze like meteors and be gay,
Do Not Go Gentle Into That Good Night
Dylan Thomas
........
Made snow of all the blossoms; at my feet
Like silver moons the pale narcissi lay
Holy Week At Genoa: Oscar Wilde
........
Shall shine like the gold
Night: William Blake
........
Hops like a frog before me.
Brooding Grief: D.H.Lawrence

حسن واختصار' موازنہ' تاریخ اور علوم سے راوبط کی ذیل میں تلمیح کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اردو شاعری میں اس کا عام' برمحل اور بلاتکلف استعمال ملتا ہے۔ مثلا

سنا ہے
یوسف کی قیمت
سوت کی اک انٹی لگی تھی
عصر حاضر کا مرد آزاد
دھویں کے عوض
ضمیر اپنا بیچ دیتا ہے

نظم: سنا ہے' مقصود حسنی

وہ آگ
عزازئیل کی جو سرشت میں تھی
اس آگ کو نمرود نے ہوا دی
اس آگ کا ایندھن
قارون نے پھر خرید کیا
اس آگ کو فرعون پی گیا
اس آگ کو حر نے اگل دیا
یزید مگر نگل گیا
صبح ہی سے: مقصود حسنی

انگریزی میں باکثرت ناسہی' اس سے کام ضرور لیا گیا ہے۔ مثلا
To feel the universe my home;
Wish: Matthew Arnold

In heaven’s high bower,
The angels, most heedful,
Night: William Blake

And flamed upon the brazen greaves
Of bold Sir Lancelot.


The Lady Of Shalott: Alfred Tennyson

Shall I compare thee to a summer’s day?
So are you to my thoughts
That God Forbid
That time of year
Against My Love: Shakespeare

Cast in the fire the perish’d thing;
Melt and remould it, till it be
A royal cup for Him, my King:
O Jesus, drink of me
A Better Resurrection: Christina Rossetti

‘Jesus the son of Mary has been slain,
Holy Week At Genoa: Oscar Wilde

I long for scenes where man hath never trod
A place where woman never smiled or wept
there to abide with my creator God,
خالق
I am: John Clare

If even a soul like Milton’s can know death ;
Human Life: Samuel Taylor Coleridge

Biting my truant pen, beating myself for spite:
"Fool," said my Muse to me, "look in thy heart, and write."
Loving in truth: Phlip Sidney

ضدین پر کائنات استوار ہے۔ یہ شناخت کا کلیدی وسیلہ ہیں۔ اردو شاعری میں' صنعت تضاد کا استعمال ملتا ہے۔ خوبی کی بات یہ کہ ضدین ایک دوسرے سے متعلق ہوتی ہیں۔ مثلا

وہ قیدی نہ تھا
خیر وشر سے بے خبر
معصوم
فرشتوں کی طرح
نظم: نوحہ' مقصود حسنی

ایندھن

دیکھتا اندھا سنتا بہرا
سکنے کی منزل سے دور کھڑا
ظلم دیکھتا ہے
آہیں سنتا ہے
بولتا نہیں کہتا نہیں
جہنم ضرور جائے گا
نظم: نوحہ' مقصود حسنی

اس صنعت کا' انگریزی شاعری میں بھی ملتا ہے اور استعمال کا طریقہ اردو سے قطعی مختلف نہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں

And up and down the people go,
The Lady Of Shalott: Alfred Tennyson

The friends who come, and gape, and go;
Wish: Matthew Arnold

And by his health, sickness
Night: William Blake

A place where woman never smiled or wept
I am: John Clare

ہم صوت الفظ کا استعمال' غنا اور آہنگ کی حصولی میں' بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اردو غزل میں شگفتگی' شائستگی اور وارفتگی اسی کی مرہون منت ہے۔ نظم کے شعرا نے بھی اس صنعت کو بلا تکلف استعمال میں رکھا ہے۔ مثلا

عہد شہاب میں بےحجاب بےکسی بھی عجب قیامت تھی۔ صبح اٹھتے مشقت اٹھاتےعوضوانے کو ہاتھ بڑھاتے بے نقط سنتے۔ سانسیں اکھڑ جاتیں مہر بہ لب جیتے کہ سانسیں باقی تھیں۔ جینا تو تھا ہی لہو تو پینا تھا ہی۔
یہ ہی فیصلہ ہوا تھا: مقصود حسنی

مضمون ایک طرف' یہ ہم صوت الفاظ ہی' اس پہرے کو نثر کا سرمایا رہنے نہیں دیتے۔ انگریزی شاعری میں بھی' یہ صنعت دیکھنے کو ملتی ہے۔ مثلا

Must need read clearer, sure, than he!
Bring none of these; but let me be,
Nor bring, to see me cease to live,
To work or wait elsewhere or here!
Wish: Matthew Arnold

Still strong to bear us well.
Manfully, fearlessly,
The day of trial bear,
For gloriously, victoriously,
Can courage quell despair!
Life: Charlotte Bronte

صنعت تکرار لفظی' جہاں آہنگ کے لیے ناگزیر ہے' وہاں بات میں زور اور وضاحت کا سبب بنتی بھی ہے۔ اردو میں اس صنعت کا استعمال عام ملتا ہے۔ مثلا


وہ قتل ہو گیا
پھر قتل ہوا
ایک بار پھر قتل ہوا
اس کے بعد بھی قتل ہوا
وہ مسلسل قتل ہوتا رہا
جب تک سیٹھوں کی بھوک‘ نہیں مٹ جاتی
جب تک خواہشوں کا‘ جنازہ نہیں اٹھ جا
وہ قتل ہوتا رہے گا
وہ قتل ہوتا رہے گا
جب تک: مقصود حسنی

اب انگریزی شاعری سے چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔
If you can wait and not be tired by waiting,
Or, being lied about, don’t deal in lies,
Or, being hated, don’t give way to hating,
And yet don’t look too good, nor talk too wise;
..................
If you can dream – and not make dreams your master;
If: Rudyard Kipling

If you can bear to hear the truth you’ve spoken
Life: Charlotte Bronte

Four grey walls, and four grey towers,
.........
The knights come riding two and two:
........
The helmet and the helmet-feather
Burned like one burning flame together,
The Lady Of Shalott: Alfred Tennyson

Then, horn for horn, they stretch an strive:
Address To A Haggis: Robert Burns

A little while, a little while,
The weary task is put away,
And I can sing and I can smile,
Alike, while I have holiday.
A Little While: Emily Bronte

نوٹ
انگریزی میں غزل نہیں اسی لیے مثالیں نظم سے لی گئی ہیں۔