PDA

View Full Version : انتہا پسندی روکيے



Shanzeh
05-09-2017, 11:17 PM
شانزے خان – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

انتہاپسندی_روکيۓ#

انتہا پسند سوچ کی تشہير کے ذريعے نوجوانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنا ہميشہ سے داعش جيسی دہشت گردی تنظيموں کا طريقہ واردات رہا ہے۔ حاليہ عرصے ميں مختلف سوشل ميڈيا پليٹ فارمز کی مقبوليت اور خاص طور پر نوجوانوں کی ان ميں بے پناہ دلچسپی نے اس مسلۓ کو پيچيدہ کر ديا ہے کيونکہ نوجوان عمومی طور پر ہيجان پر مبنی تشہيری مواد سے زيادہ اثر ليتے ہيں۔

عراق اور شام ميں ايسی بے شمار کہانياں اور رپورٹس سامنے آئ ہيں جن سے يہ حقیقت آشکار ہوئ کہ داعش نے اپنی صفوں ميں بھرتی کے ليے دانستہ بچوں اور نوجوانوں کو ٹارگٹ کيا۔

ان بچوں کو ايک منظم طریقے سے بے گناہ انسانوں کو ہلاک کرنے کی ترغيب دی جاتی ہے اور ان کے اکثر شکار مسلمان ہی ہوتے ہيں۔

سات سالہ بچے کا روح فرسا انکشاف:

”داعش کے شدت پسند مجھے اور دیگر بچوں کو لڑائی کی تربیت دیتے اورسکھاتے تھے کہ خنجر سے لوگوں کے سرکیسے قلم کرتے ہیں ۔“

http://www.dailymail.co.uk/news/article-4399000/Yazidi-boy-reveals-horrors-held-captive-ISIS.html?ito=social-twitter_mailonline


https://s1.postimg.org/4k2j3pg7j/7_yr_old_isis_child.jpg



ايک اور رپورٹ ميں داعش کے ٹريننگ کیمپ سے بازياب ہونے والے بچوں کی المناک داستانيں



https://s13.postimg.org/hdf9207xj/Better_future.jpg


يہ بچے ايک بہتر زندگی اور شاندار مستقبل کے مستحق ہيں



https://www.youtube.com/watch?v=Dt1VR3UJydw


اب جبکہ داعش پاکستان اور خطے ميں اپنے پنجے جمانے کی کوشش کر رہی ہے، وقت کی اہم ضرورت يہی ہے کہ اجتماعی سطح پر داعش کی خونی اور پرتشدد سوچ کو مسترد کر کے اس کے خلاف کاوشوں کو تيز کيا جاۓ۔

حاليہ دنوں ميں ايک پاکستانی طالبہ نورين لغاری کی کہانی جو انتہا پسندی پر مبنی مواد سے مرعوب ہو کر اپنا سب کچھ داؤ پر لگانے کے ليے آمادہ ہو گئ، جہاں سب کے ليے اجتماعی طور پر ايک لمحہ فکريہ ہے وہيں اس حقيقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ عالمی سطح پر معاشروں کو پہلے سے زيادہ ہوشيار اور باشعور رہنے کی ضرورت ہے تا کہ اس سوچ کو مسترد کر کے اسے پنپنے سے روکا جا سکے جو صرف تبائ و بربادی کا پيش خيمہ ہی ثابت ہوتی ہے۔


https://s2.postimg.org/p73qd6p0p/Noureen_Laghari_1.jpg



https://www.youtube.com/watch?v=SI6bzyneaGU


اس بارے ميں کوئ ابہام نہيں رہنا چاہيے۔ آئ ايس آئ ايس اور اس تنظيم کی جاری بربريت کے خلاف اپنے موقف ميں ہم تنہا ہرگز نہيں ہيں۔

اس عفريت کی زد ميں تو ہر وہ ذی روح آيا ہے جس نے ان ظالموں کی محضوص بے رحم سوچ سے اختلاف کيا ہے۔ يہی وجہ ہے کہ عالمی برادری بشمول اہم اسلامی ممالک نے مشترکہ طور پر اسے "ہماری جنگ" قرار ديا ہے۔ ہر وہ معاشرہ جو رواداری اور برداشت کا پرچار چاہتا ہے اور اپنے شہريوں کی دائمی حفاظت کو مقدم سمجھتا ہے وہ اس مشترکہ عالمی کوشش ميں باقاعدہ فريق ہے۔


جو دہشت گرد ان معصوم بچوں کے ذہنوں کی کايا پلٹ رہے ہيں وہ اپنے شکار ميں کسی قسم کا امتياز نہيں برتتے۔ يہ حقيقت بار بار سب پر عياں ہو چکی ہے کہ ان دہشت گردوں کی کاروائيوں کا شکار ہونے والوں ميں اکثريت مسلمانوں اور ان معصوم لوگوں پر مشتمل ہے جو کسی بھی عسکری جدوجہد کا حصہ نہيں ہوتے۔



شانزے خان – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov (http://usinfo.state.gov/)

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/

Shanzeh
05-11-2017, 07:18 PM
شانزے خان – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

حاليہ دنوں ميں داعش کی جانب سے آن لان تشہيری مواد کے ذريعے ميڈيکل اسٹوڈنٹ نورين لغاری کو خود کش حملے کے ليے استعمال کی کوشش کے واقعے کو پاکستانی ميڈيا کے ساتھ ساتھ پاک فوج نے بھی اجاگر کيا ہے۔

اس ميں کوئ شک نہيں ہے کہ يہ واقعہ ان لوگوں کی آنکھيں بھی کھول دے گا جو داعش کے پاکستان ميں اثرات اور اس کی موجودگی سے انکار پر بضد ہيں۔ تاہم يہ نشاندہی بھی ضروری ہے کہ يہ کو‏ئ پہلا واقعہ نہيں ہے جس کے ذريعے داعش کا پاکستان ميں ايجنڈہ بے نقاب ہوا ہے۔ بلکہ حقيقت تو اس سے بھی زيادہ سنگين ہے۔ داعش کے متحرک کارندوں نے بارہا اپنی کاروائيوں سے يہ ثابت کيا ہے کہ وہ پاکستانی نوجوانوں کو ٹارگٹ کر کے معاشرے ميں اسی خون خرابے کو فروغ دينا چاہتے ہيں جس کے ليے وہ دنيا بھر ميں بدنام ہيں۔ اس ضمن ميں ان کے ارادے اور اہداف مخفی نہيں ہيں۔

داعش کی پاکستان ميں کاروائيوں کے حوالے سے ايک تفصيلی جائزہ پيش ہے جس سے پاکستان اور خطے ميں اس گروہ سے لاحق خطرات واضح ہو جاتے ہيں۔

https://www.geo.tv/latest/131484-Timeline-Daesh-in-Pakistan


داعش کی پرتشدد انتہا پسندی پر مبنی سوچ اور اس سے ممکنہ خطرات ايک ايسی تلخ حقيقت ہے جسے نظرانداز نہيں کیا جا سکتا ہے۔

اس خونی سوچ کے تباہ کن اثرات اب پوری دنيا پر عياں ہيں اور عراق اور شام کے بچوں پر ان واقعات کے دوررس منفی اثرات بھی کسی سے پوشيدہ نہيں ہيں۔

ہميں اس سوچ کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنا ہے جو کم سن بچوں کو خودکش حملہ آور بنا کر نا صرف يہ کہ ايک پوری نسل کو برباد کر رہے ہيں بلکہ اس آئين، قومی اقدار اور ان اداروں کو بھی نيست ونابود کرنے کے درپے ہيں جن کی تشکيل ميں جناح اور ان کے ساتھيوں کی کئ دہائيوں کی قربانيوں شامل ہے۔


شانزے خان – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov (http://usinfo.state.gov/)

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/