PDA

View Full Version : نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں



تانیہ
12-21-2010, 11:51 PM
نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے

وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے

جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی

ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے

وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا

اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے

اب شہر میں اُس کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جانِ غزل ہی نہیں

ایوانِ غزل میں لفظوں کے گلدان سجاؤں کس کے لیے

مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا

ان خالی کمروں میں ناصر اب شمع جلاؤں کس کے لیے
شاعر ناصر کاظمی

راجہ صاحب
09-10-2011, 02:26 PM
:s
گریٹ

محمدمعروف
09-10-2011, 10:26 PM
زبردست غزل ہے اس پر ایک شعر یاد آیا
چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فراز
دنیا جو عرض حال سے بے آبرو کرے

لاجواب
09-11-2011, 12:13 AM
میری پسند کی غزل ہے

زبردست

این اے ناصر
09-11-2011, 07:30 PM
بہت دردوبھری شاعری ہے. تھینکس فارشئیرنگ.

عبادت
09-12-2011, 01:20 AM
اسلام علیکم


ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہ ا
جانا کہاں بیبیاں نوں کم کی اے شاپینگ
کر آو عیدی کافی جمع ہوئی ہو گی
کر لو خرچ فیر سکون رہے گا نہ ہوں گے
نہ نیے کپڑے یاد آئیں گے ھاھاھاھاھاھا:P

مجھے بھی یہ غزل بہت پسند ہے
بہت پیاری غزل ہے ناصر کاظمی صاحب کی

تھنکس تانیہ جی شیئرنگ کا:rose: