PDA

View Full Version : واشنگ مشین



تانیہ
12-21-2010, 11:54 PM
سردار جی لندن کے مشہور کافی ہاؤس میں گئے اور کافی کا آرڈر دینے کے لیے ویٹر کو بلایا۔

“ سر ! آپ بلیک کافی پسند کریں گے یا۔۔۔۔۔ “ ویٹر نے پوچھا

“ اچھا یہ بتاؤ “ سردار نے ویٹر کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا

“ تمہارے پاس اور کون کون سے رنگ دستیاب ہیں
گھر سیٹ کرنے کے لئے سب سے پہلے انہوں نے ٹی وی خریدنے کی سوچی اور ایک بڑے سٹور کے اندر گئے ، پہلے تو اِن کا منہ حیرت سے کھل گیا کیونکہ وہاں تو سوئی سے لیکر جہاز تک مل سکتا تھا پھر وہ ایک کاؤنٹر پر گئے اور سیلز مین سے پوچھا۔
’’یہ ٹی وی کتنے کا ہے ؟‘‘۔
’’ہم سکھوں کو ٹی وی نہیں بیچتے ‘‘ ۔ سیلز مین نے ٹکا سا جواب دیا۔
سردار جی کو زور کا جھٹکا زور سے ہی لگ گیا اور انہوں نے واہِ گرو کی قسم کھائی کہ یہی ٹی وی خریدوں گا۔
دوسرے دن سردار جی بھیس بدل کر گئے ، اور سیلزمین سے کہا ۔یہ ٹی وی کتنے کا ہے ؟۔
ہم سکھوں کو ٹی وی نہیں بیچتے ۔ سیلزمین نے پھر وہی جواب دیا ۔ سردار جی بہت حیران ہوئے کہ سیلزمین نے انہیں کیسے پہچان لیا ہے ۔ ساتھ ہی وہ زیادہ غصہ اور ضد میں آگئے ۔
تیسرے دن سردار جی اپنی داڑھی کٹوا کر کلین شیو بنا کر پگڑی اُتار کر اپنا حلیہ قطعی تبدیل کردیا اور جا پہنچے اسی سٹور پر اور سیلزمین سے پوچھا ۔یہ ٹی وی کتنے کا ہے ؟‘‘۔
ہم سکھوں کو ٹی وی نہیں بیچتے ۔ سیلزمین نے اطمینان سے پھر وہی جواب دیا۔سردار جی کو تو آگ ہی لگ گئی ۔
چوتھے دن وہ عورت کا روپ دھار کر آگئے اور برقعہ بھی اوڑھ لیا ۔ اور سیلزمین سے وہی سوال کیا ۔ یہ ٹی وی کتنے کا ہے ‘‘؟۔
ہم سکھوں کو ٹی وی نہیں بیچتے ‘‘سیلزمین کا جواب پھر وہی تھا ۔
اب سردار جی نے ہمت ہار دی اور انتہائی عاجزی سے سیلزمین سے مخاطب ہوئے ۔
بھائی ایک بات تو بتاؤ۔۔۔میں اتنے حلیے بدل بدل کر آتا رہا ہوں اور تم ہر دفعہ پہچان لیتے ہو آخر کیسے ؟۔
سیلزمین نے اطمینان سے جواب دیا۔ چونکہ چار دن سے جسے آپ ٹی وی کہہ رہے ہیں وہ دراصل واشنگ مشین ہے ۔