PDA

View Full Version : سونف خوش ذائقہ اور ضامن صحت



حبیب صادق
10-13-2019, 01:49 AM
سونف خوش ذائقہ اور ضامن صحت

http://dunya.com.pk/news/special_feature/specialFeature_img/23669_40890929.jpg
صغیرہ بانو شیریں
سونف ایک ایسی چیز ہے جو تقریباً ہر گھر کے باورچی خانے میں موجود رہتی ہے۔ پہلے زمانے میں لوگوں کے گھروں میں پاندان ہوا کرتے تھے جس کے مختلف خانوں میں ملٹھی، سونف، لونگ، الائچی، ناریل وغیرہ فوری طبی امداد کے لیے رکھے جاتے تھے۔ یوں تو یہ سبھی چیزیں کام آتی ہی رہتیں لیکن سونف کا استعمال زیادہ ہوتا اور اس کا خانہ جلدی خالی ہو جاتا۔ سونف کا بیج زمین میں ڈال دیں تو اس کا پودا نکل آتا ہے جو تقریباً ایک گز لمبا ہوتا ہے۔ باریک باریک اور نرم و نازک پتوں والے اس پودے کے اوپری حصے میں الٹی چھتری کی طرح سونف کا گچھا لگتا ہے اور ننھے منے نازک پھول سونف کے دانوں میں بدل جاتے ہیں۔ کچی سونف کی خوشبو دور سے آتی ہے۔ سونف کی دو قسمیں ہیں جن میں سے ایک بستانی اور دوسری جنگلی ہے۔ بستانی سونف خود اگائی جاتی ہے جبکہ دوسری خود رو ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں زیادہ تر بستانی سونف استعمال کی جاتی ہے۔ پاکستان، انڈیا اور یورپ کے وسطی و جنوبی حصے کے علاوہ جاپان، ہانگ کانگ، ملایا اور مالٹا میں بھی بکثرت پیدا ہوتی ہے۔ بظاہر عام معلوم ہونے والی اس چیز کے متعدد استعمالات ہیں۔ مثال کے طور پر گرمیوں میں اسے ٹھنڈائی یا سردائی میں ڈالا جاتا ہے۔ اچار میں سونف کے بغیر مزہ نہیں آتا۔ سبزی اور مرغی کے سالن میں اچار مصالحہ ڈالا جاتا ہے جس کی لذت سونف کی وجہ سے دوبالا ہو جاتی ہے۔ گھریلو طور پر اسے چنے کی دال اور چاول میں چینی کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔ جب میٹھی ٹکیاں بنائی جاتی ہیں تو ان میں سونف ڈالی جاتی ہے۔ چورن میں بھی سونف ہوتی ہے۔ بینائی کی تقویت کے لیے سونف استعمال کروائی جاتی ہے اور اس حوالے سے یہ صدیوں سے آزمودہ نسخہ ہے۔ آدھے گھنٹے کے لیے گرم پانی میں 7 میٹھے بادام بھگو دیں۔ ان کا چھلکا اتار کر 6 گرام سونف اور مصری 6 گرام (مصری نہ ملے تو چینی ڈال سکتے ہیں) لیں اور ان تینوں کو باریک پیس لیں۔ آپ رات کا کھانا جلدی کھا لیں اور پھر نیم گرم دودھ کے ساتھ سونف کا یہ سفوف کھائیں۔ 40 دن تک باقاعدگی سے یہ نسخہ استعمال کیا جائے تو حیران کن اثرات سامنے آتے ہیں اور عینک کے شیشے کا نمبر کم ہو سکتا ہے۔ گاجروں کے موسم میں سفوف بنانے کے لیے ہری سونف لے کر اسے صاف کر لیں۔ اس کے بعد اسے شیشے کے کھلے برتن میں ڈالیں اور اس پر تازہ گاجروں کا رس نکال کر انڈیلیں۔ گاجر کے رس کی سطح سونف سے ذرا اوپر ہونی چاہیے۔ اب اسے سائے میں سکھائیں۔ جب یہ سوکھ جائے تو اس پر مزید رس ڈال کر دوبارہ رکھ دیں۔ اسی طرح 7 بار ایسا کرنا ہے۔ آخر میں اسے دھوپ میں گھنٹہ بھر کے لیے رکھیں تاکہ وہ بالکل خشک ہو جائے۔ اسے دھوپ لگانا ضروری ہے ورنہ خراب ہو جائے گا۔ اب سونف جتنی مقدار میں ہو، اس کا چوتھائی حصہ بادام کی گری ملا کر باریک پیس لیں اور صبح کو ایک بڑا چمچ دودھ کے ساتھ کھائیں۔ اس سے حافظہ بھی ٹھیک ہو گا اور نظر بھی تیز ہو گی۔ ایک اور طریقہ یہ ہے کہ ہری سونف پیس کر رکھ لیں اور سردیوں کے موسم میں گاجر کے ایک گلاس جوس کے ساتھ ایک چمچ سونف روزانہ کھائیں۔ اس سے نظر کی کمزوری دور ہو جاتی ہے۔ یہ سب سے آسان اور مفید ٹوٹکہ ہے۔