PDA

View Full Version : نوبیل انعام کے سکینڈلز



حبیب صادق
10-13-2019, 02:12 AM
نوبیل انعام کے سکینڈلز
http://dunya.com.pk/news/special_feature/specialFeature_img/23670_81727218.jpg
ایمی ٹکانن
نوبیل انعام پہلی مرتبہ 1901ء میں دیا گیا اور تب سے دنیا کے اعلیٰ ترین انعامات میں سے ایک ہے۔ تمام تر شہرت کے باوجودیہ سکینڈلز سے محفوظ نہیں رہا۔ اسے سبکی کا سامنا ہوا اور جیتنے والوں پر انگلیاں بھی اٹھیں۔ ذیل میں کچھ ایسی ہی اہم داستانیں بیان کی جا رہی ہیں۔ ’’موت کا سوداگر‘‘:نوبیل انعام پر تنازع اس کے بانی الفریڈ برنہارڈ نوبیل سے شروع ہوتا ہے۔ ڈائنامائٹ اور اور دیگر دھماکا خیز اشیاء کے موجد ہونے کی بناء پر اس کی شہرت اچھی نہیں تھی۔ دراصل ایک فرانسیسی اخبار نے ابہام کی وجہ سے قبل از مرگ یہ شہ جما دی ’’موت کا سوداگر مر گیا‘‘۔ پھر لکھا گیا کہ الفریڈ نوبیل ماضی کی نسبت لوگوں کو تیزی سے مارنے کے طریقے تلاش کر کے امیر بنا‘‘۔ غالباً قبل از وقت اعلانِ وفات نے اسے اپنے نام پر انعام کی تخلیق کی تحریک دی۔ 5 فیصد:2014ء تک 864 افراد اور 25 تنظیموں کو نوبیل انعام دیے جا چکے تھے۔ جیتنے والوں میں صرف 47 عورتیں تھیں، جس کی وجہ سے بعض لوگوں نے دعویٰ کیا کہ انعام کا تعین کرنے والی کمیٹیاں عورتوں کو نظرانداز کرتی ہیں۔ اس کی حوالے سے ایک مبینہ سبکی کا تعلق جوسلین بیل برنل سے ہے جس نے 1967ء میں پلسارز (pulsars) دریافت کیے اور بعد ازاں اپنے ایک مشیر انٹونی ہیوش کے ساتھ تحقیقی مقالہ لکھا۔ البتہ صرف ہیوش اور ایک اور ساتھی مارٹن ریل کو 1974ء میں پلسارز کی دریافت پر فزکس کا نوبیل انعام دے دیا گیا۔ امن انعام : شاید سب سے زیادہ متنازع امن کا نوبیل انعام ہے۔ اسے پانے والے بہت سے افراد کو امن مخالف رویے کے سبب تنقید کا سامنا رہا۔ بطور مذاق: کون ہے؟ ایڈولف ہٹلر۔ ایڈولف ہٹلر کون؟ ایڈولف ہٹلر جسے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ اس منظرنامے پر آپ کو ہنسی تو نہیں آئی؟ شائدنہیں آئی ہوگی۔ درحقیقت اس انعام کی فہرست میں ہٹلر کا نام 1939ء میںشامل کیا گیا تھا۔ ایک سویڈش قانون ساز نے یہ نام بطور مذاق شامل کیا، لیکن یہ کسی کو مذاق لگا نہیں۔ اس کے بجائے اس پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور نامزدگی کو فوراً واپس لے لیا گیا۔ البتہ 1945ء اور 1948ء میں سوویت یونین کے رہنما جوزف سٹالن کا نام سنجیدگی سے شامل کیا گیا تھا۔ شکریہ، مگر نہیں چاہیے:بیشتر افراد نوبیل انعام کو اپنے لیے بہت بڑا اعزاز سمجھتے ہیں، لیکن اسے جیتنے والوں میں سے2 نے اسے لینے سے رضاکارانہ طور پر انکار کیا۔ یاں پال سارترنے 1964ء میں ادب کا انعام نہ لیا۔ 1974ء میں لی ڈوک تھو نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کیا کہ ’’ابھی امن قائم نہیں ہوا۔‘‘ اسے ہنری کسنجر کے ساتھ جنگ ویت نام کے خاتمے کے لیے کام کرنے پر امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ (ترجمہ و تلخیص: رضوان عطا) بشکریہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا