PDA

View Full Version : مسلم عہد کی خوبصورت مساجد اور مقبرے



حبیب صادق
10-14-2019, 03:40 AM
مسلم عہد کی خوبصورت مساجد اور مقبرے

http://www.oururdu.com/forums/index.php?attachments/upload_2019-10-14_3-34-7-jpeg.42085/&temp_hash=402b7c0c6955ced2a5a02ca384351f07
محمد مجیب
تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ تہذیبیں جب عروج پر پہنچیں تو ایسی تعمیرات پر بھی توجہ کی گئی جن کا مصرف سماجی ضروریات کو پورا کرنا تھا، جیسا کہ یونانی اور رومی شہروں میں سیاسی جلسوں کے لیے فورم، ڈراموں وغیرہ کے لیے ایمفی تھیٹر، حمام، کئی منزلوں کی رہائشی عمارتیں، مگر اب سے تقریباً ساڑھے تین سو برس پہلے تک عبادت گاہیں اور مقبرے تعمیرات میں سب سے زیادہ حیثیت رکھتے تھے۔ شاہی محل کو بھی شان و شوکت اور کسی قدر تقدس حاصل تھا۔ مگر محل صرف دنیاوی مرتبہ حاصل کر سکا، اس کی تعمیر میں قیمتی سامان اور فن آرائش کا کمال تو دکھایا جا سکا لیکن انسان کی جذباتی اور روحانی قوتیں بروئے کار نہ لائی جا سکیں۔ اس کے برخلاف مقبرہ زندگی، موت اور ابدیت کا نقطۂ اتصال تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے فن تعمیر میں مسجد اور مقبرہ لامحالہ ہماری توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں، اگرچہ محلوں، میناروں، دروازوں اور دوسری تعمیرات میں حسن اور فنی کمال کی کمی نہیں ہے۔ مسلمانوں کے ہاں ابتدائی زمانہ ہی سے مسجدیں بنائی جانے لگیں۔ اس حوالے سے برصغیر کے مسلمانوں کے فنِ تعمیر کی مخصوص قدریں ہیں۔ قطب الدین ایبک خوش مذاق بھی تھا اور اسے عمارتیں بنانے کا شوق بھی تھا۔ اس نے مسجد قوت الاسلام میں بعدازاں ایک مقصورہ بنوایا جس کے بیچ میں ایک 45 فٹ اونچی محراب ہے اور اس محراب کے بازوؤں پر دو چھوٹی چھوٹی محرابیں، بیچ کی محراب میں بہت ہی دلکش تناسب پایا جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے یہاں ایسی ہم آہنگی پیدا ہو گئی ہے جو تصور اور نقشے سے بالاتر ہے اور ہمیں حسن کے انجان عالموں میں پہنچا دیتی ہیں۔ مقصورہ کی سطحی آرائش پھول پتیوں، بیلوں اور آیاتِ قرآنی سے کئی گئی ہے، گویا آدمی تک خدا کا پیغام لپٹنے والی بیلوں اور سرگوشی کرتی ہوئی پتیوں کے ساتھ پہنچ رہا ہے۔ معماروں اور سنگ تراشوں پر جو کیفیت یہاں طاری تھی وہ کہیں اور نظر نہیں آتی۔ قطب الدین نے اجمیر میں ایک مسجد بنوائی جسے اڑھائی دن کا جھونپڑا کہتے ہیں۔ قوت الاسلام کی طرح یہ جلدی میں نہیں بنائی گئی۔ اس کا پیمانہ بہت بڑا ہے اور اس میں سنگ تراشی کے بجائے فن تعمیر کی خاصیتیں پائی جاتی ہیں۔ قطب الدین کے جانشین التتمش نے اجمیر کی مسجد کا مقصورہ بنوایا، بدایوں میں ایک مسجد، عید گاہ اور حوض اور ناگور میں ایک شاندار دروازہ تعمیر کرایا مگر اس کا کارنامہ اس کا اپنا مقبرہ ہے۔ التتمش نے اپنے لڑکے ناصرالدین کا جو مقبرہ بنوایا وہ باہر سے قلعہ معلوم ہوتا ہے، اندر اس میں متانت اور سکون برستا ہے، غالباً پہلے قبر کے اوپر برج تھا اب صرف چبوترہ ہے اور مغرب کی طرف مسجد کا خاکہ سا ہے، عمارت میں غم کی فضا پیدا کرنے میں بھی کامیابی ہوئی ہے۔ علاء الدین کے زمانہ تک کوئی ایسی عمارت نہیں بنی جسے فنی اعتبار سے اہمیت حاصل ہو، پھر بھی سلجوق طرزتعمیر کا اثر پڑ چکا تھا۔ اس کا بہت اچھا ثبوت علائی دروازہ کا حسین طرز ہے، یہ قطب مینار کے قریب مسجد قوت الاسلام کی چہار دیواری کی جنوبی سمت میں ہے اور اس کی تعمیر کے ساتھ مسجد کا صحن نمازیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سبب بہت بڑھا دیا گیا۔ دروازے کو مسجد کے بقیہ حصے سے کوئی خاص نسبت نہیں ہے، اس کی حیثیت ایک چمکتے ہوئے نگینے کی سی ہے۔ علائی دروازہ کی عمارت 60 فٹ اونچی اور چوکور ہے اور اس کے اوپر ایک دبا ہوا گنبد ہے، بیرونی تین سمتوں میں محرابی در ہیں جو ایک وضع کے ہیں، چوتھا اور جس سے مسجد میں داخل ہوتے ہیں بالکل الگ نوعیت کا ہے، بیچ کا حصہ ایک بڑا ہال ہے، بیرونی سمت کی تینوں محرابیں اونچی، پتلی اور متناسب ہیں۔ انہیں باہر کی طرف سنگ مرمر کے ابھرے ہوئے کتبوں کا حاشیہ دیا گیا ہے اور محراب کے شکم میں برچھیوں کی جھالر ہے۔ دیوار کی سطح سنگ مرمر کے مستطیل حاشیوں اور کتبوں سے آراستہ کی گئی ہے، جس کی تکرار بڑی حسین معلوم ہوتی ہے۔ سرخ اور سفید رنگوں کی آمیزش میں بہت توازن ہے اور اگرچہ منبت کاری خاصی پیچیدہ ہے، اس سے نظر کو تھکن کے بجائے تسلی محسوس ہوتی ہے۔ اس میں وہ انفرادیت اور انوکھا پن ہے جو فن کے ایک نئے اور کامیاب تصور میں ہوا کرتا ہے۔ غیاث الدین تغلق کا مقبرہ سنگ سرخ اور سنگ مرمر کی عمارت ہے جو پہاڑی کی سنگین شاخ پر بنائی گئی، اس کی احاطہ بندی تناسب کو مدنظر رکھ کر نہیں بلکہ پہاڑی کی شاخ کی جو شکل تھی، اس کے مطابق کی گئی۔ احاطہ قلعہ کی دیوار معلوم ہوتا ہے اور اس کے داخلے کے دروازے کو ایسا گھونگھٹ دیا گیا ہے، جس سے اندر جانے والوں کو محسوس ہو کہ وہ موت کے منہ میں اپنا سر دے رہا ہے، پھر بھی اس میں سادگی کا خاص حسن ہے۔ مقبرہ خود چوکور ہے اور اس کی پشت نما دیواریں 75 کا زاویہ بناتی ہیں۔ اس کی مخروطی بنیاد پر ایک بڑا سنگ مرمر کا گنبد قائم کیا گیا ہے، مقبرہ کے تین اطراف در ہیں۔ تغلق عہد کی اور عمارتیں ہیں جنہیںدیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ تنوع پیدا کرنے اور نئے طریقوں کو آزمانے کا سلسلہ جاری رہا، کھڑکی، مسجد کی اونچی کرسی اور قلعہ کی سی شکل انہیں ممتاز کرتی ہیں، فیروز شاہ کے محل نے بعد کے محلوں کے لیے نمونے کا کام دیا، خان جہان تلنگانی کے مقبرے میں جدتیں کی گئیں۔ فیروز تغلق کے حوصلے بہت بڑے تھے مگر وسائل کی کمی نے اس کی تعمیرات کو نمایاں خوبیوں سے محروم رکھا، اس کے مرنے کے بعد سلطنت ہی ختم ہو گئی۔ سلطنت دہلی کے زوال کے بعد بنگال، جونپور، مالوہ، گجرات اور دکن میں جو حکومتیں قائم ہوئیں ان میں سے ہر ایک نے تعمیر کا اپنا الگ طرز اختیار کیا۔ ملتان میں شاہ بہا الدینؒ اور شاہ رکن عالمؒ کے مزار پنجاب میں فن تعمیر کے نمونے ہیں ان کا دہلی کے طرز پر اثر پڑا مگر ان کی وجہ سے فن تعمیر کا کوئی سلسلہ قائم نہیں ہوا۔ بنگال میں آب و ہوا، قدرتی ماحول، تعمیر کے مسالے اور قدیم فنی روایات نے مسلمانوں کے فن تعمیر کو ایک خاص سانچے میں ڈھال دیا۔ پانڈوا کی آدینہ مسجد اعلیٰ تخیل اور فنی حوصلہ مندی کا پتا دیتی ہے۔ جونپور کے شرقی خاندان نے فن تعمیر کے بہت نمایاں منصوبے پورے کیے۔ ان میں سے دو، اٹالہ دیوی مسجد، جو 1408ء میں تیار ہوئی اور جامع مسجد جو 1470ء میں بنی، خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اٹالہ دیوی مسجد میں فنی اعتبار سے کئی جدتیں نظر آتی ہیں، اس کے مقصورہ کے مرکزی در کو اس طرح ابھارا گیا ہے گویا ساری عمارت بلندی کی طرف جا رہی ہے۔ مالوہ کی عمارتوں پر دہلی کا طرز بہت اثرانداز ہوا۔ یہاں بھی ہمیں سلامی دار دیواریں،محراب اور لنٹل کی آمیزش اور دبے ہوئے گنبد ملتے ہیں۔ یہاں کی عمارتوں کی کرسی بہت اونچی ہے۔ اس کے علاوہ زمینوں کو آرائش اور زینت اور عمارت کو قدرت کے قریب تر لانے کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔ مالوہ کی آب و ہوا دہلی سے بہت مختلف ہے اور وہاں کی نیچی نیچی پہاڑیاں درختوں اور سبزے سے اس طرح ڈھکی ہوئی ہیں کہ معمار کے دل میں نئے نئے طریقوں سے فن اور قدرت کو ہم آہنگ کرنے کے حوصلے پیدا ہوئے ہوں گے۔ مالوہ کے خاص طرز کی بیشتر عمارتیں مانڈو میں ملتی ہیں، جس کا مقام بہت حسین ہے۔ مانڈو کی جامع مسجد جو پندرہویں صدی کے وسط میںبنی، مولوہ کے پختہ یا کلاسیکی طرز کی پہلی اور شاید سب سے نفیس مثال ہے۔