PDA

View Full Version : یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتے



حبیب صادق
10-21-2019, 02:39 AM
یہ تجھ سے آشنا دنیا سے بیگانے کہاں جاتے

ترے کوچے سے اُٹھتے بھی تو دیوانے کہاں جاتے

قفس میں بھی مجھے صیاد کے ہاتھوں سے ملتے ہیں

مری تقدیر کے لکھے ہوئے دانے کہاں جاتے

نہ چھوڑا ضبط نے دامن نہیں تو تیرے سودائی

ہجومِ غم سے گھبرا کر خدا جانے کہاں جاتے

میں اپنے آنسوئوں کو کیسے دامن میں چھپا لیتا

جو پلکوں تک چلے آئے وہ افسانے کہاں جاتے

تمھارے نام سے منسوب ہو جاتے ہیں دیوانے

یہ اپنے ہوش میں ہوتے تو پہچانے کہاں جاتے

نہیں تھا مستحق مخمورؔ رندوں کے سوا کوئی

نہ ہوتے ہم تو پھر لبریز پیمانے کہاں جاتے

مخمور دہلوی

Maria
10-25-2019, 11:59 PM
بہت عمدہ