PDA

View Full Version : ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے



حبیب صادق
10-21-2019, 02:47 AM
ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے

تیری یادوں کو بھی رُسوا نہیں ہونے دیتے

کچھ تو ہم خود بھی نہیں چاہتے شہرت اپنی

اور کچھ لوگ بھی ایسا نہیں ہونے دیتے

عظمتیں اپنے چراغوں کی بچانے کے لیے

ہم کسی گھر میں اُجالا نہیں ہونے دیتے

آج بھی گائوں میں کچھ کچے مکانوں والے

گھر میں ہمسائے کے فاقہ نہیں ہونے دیتے

ذکر کرتے ہیں ترا نام نہیں لیتے ہیں

ہم سمندر کو جزیرہ نہیں ہونے دیتے

مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ

میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے


معراج فیض آبادی

Maria
10-25-2019, 11:56 PM
واہ
کیا کہنے
بہت عمدہ