PDA

View Full Version : صدمے یوں غیر پر نہیں آتے



حبیب صادق
10-21-2019, 02:52 AM
صدمے یوں غیر پر نہیں آتے

تمھیں جور اس قدر نہیں آتے

پھر تسلی کی کون سی صورت

خواب میں بھی نظر نہیں آتے

آتے ہیں جب کہ نااُمید ہوں ہم

کبھی وہ وعدے پر نہیں آتے

روز کے انتظار نے مارا

صاف کہہ دو اگر نہیں آتے

اور تم کس کے گھر نہیں جاتے

ایک میرے ہی گھر نہیں آتے

سچ ہے حیلے مجھی کو آتے ہیں

اور تمھیں کس قدر نہیں آتے

ان کو میں کس طرح بھلائوں نظامؔ

یاد کس بات پر نہیں آتے


نظام رام پوری

Maria
10-25-2019, 11:55 PM
لاجواب