PDA

View Full Version : وال سٹریٹ دہشت گردی ایک معمہ جواب تک حاصل نہ ہو سکا



حبیب صادق
10-22-2019, 04:07 AM
وال سٹریٹ دہشت گردی ایک معمہ جواب تک حاصل نہ ہو سکا
http://www.oururdu.com/forums/index.php?attachments/upload_2019-10-22_4-2-43-jpeg.42181/&temp_hash=cce476dfcf880b9816c2eeadc2511d21
طیب رضا عابدی
کیا آپ اس بات پر یقین کریں گے کہ امریکہ کے شہر نیویارک کے ایک علاقے میں دہشت گردوں نے بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک اور 143 بری طرح زخمی ہوئے تھے لیکن یہ پتہ نہ چل سکا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ یقینا یہ ناقابل یقین بات ہے لیکن ایسا 1920میں ہوا تھا اور حیران کن بات یہ ہے کہ ابھی تک امریکی ایجنسیاں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں۔ صرف ایک گروپ پر شک کیا گیا اور بس۔ 16ستمبر 1920 کو نیویارک کی وال سٹریٹ میں حسب معمول بڑی چہل پہل تھی۔ جب ایک عجیب واقعہ رونما ہوا۔ جونہی چرچ کے گھڑیال نے 12بجائے‘ 100پونڈ کا ڈائنامیٹ اس آفس کے سامنے پھٹ گیا۔ بظاہر یوں لگا کہ ا س ڈائنامیٹ کو ایک گھوڑا گاڑی میں چھپایا گیا تھا۔ یہ گھوڑا گاڑی آسے آفس کے سامنے کھڑی تھی۔ ایک امریکی عہدیدار نے بعد میں بتایا کہ اس نے اپنی زندگی میں اتنا زیادہ شور نہیں سنا۔ یہ شور آپ کو چاروں شانے چت گرانے کے لئے کافی تھا۔ اس دن وال سٹریٹ جو بینکرز اور مالی امور کے ماہرین کا گڑھ تصور کیا جاتا تھا‘میدان جنگ میں بدل گیا۔ گلیوں میں ملبے کے ڈھیر لگ گئے۔ جگہ جگہ خون اور کٹی پھٹی نعشیں بکھری ہوئی تھیں۔ دھماکے کے نتیجے میں 30افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ ان میں عورتیں بھی شامل تھیں بعد میں مزید آٹھ افراد زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔ ان کے علاوہ سینکڑوں دیگر افراد شدید زخمی ہوئے۔ اس سے پہلے 1910 میں لاس اینجلز ٹائمز کی عمارت پر بمباری کی گئی تھی لیکن وال سٹریٹ دہشت گردی کے نتیجے میں زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ تحقیقاتی اداروں کے افسروں اور دیگر حلقوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ یہ اٹلی کے انتہا پسندوں کا کیا دھرا ہے۔ اس گروپ نے پچھلے برس کئی ایسی وارداتیں کی تھیں۔ ان کے خیال کے مطابق حملے کا تعلق پہلی جنگ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی بے چینی‘ مزدوروں کی جدوجہد اور امریکہ میں سرمایہ داری کے خلاف شروع ہونے والی تحریک سے ہے۔ دھماکے کے ایک منٹ بعد ہی نیویارک سٹاک ایکسچینج کے صدر ولیم ایچ ریمک نے تجارتی لین دین معطل کر دیا۔ اس کا مقصد افراتفری کو روکنا تھا۔ زخمیوں کو ہسپتال لے جانے کا کام بڑی تیزی سے کیا گیا۔ ایک 17سالہ نوجوان جیمز سوئل نے اپنی کار کے ذریعے 30زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔ پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو طبی امداد دی۔ تحقیقاتی بیورو (BOI) نے فوری طور پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا کہ یہ بم دھماکہ کسی دہشت گردی کاشاخسانہ ہے ۔ تحقیقاتی افسروں کو اس بات نے سخت پریشان کررکھا تھا کہ بہت سے بے گناہ لوگ مارے گئے تھے اور کسی مخصوص ہدف کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ گھوڑا اور گاڑی ٹکڑوں کی شکل میں پڑے ہوئے تھے ۔ ڈرائیور کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ سب کو شک تھا کہ وہ فرار ہوگیا ہے۔ ہلاک ہونیوالوں میں زیادہ تر نوجوان تھے جن میں سٹینوگرافرز، کلرک اور بروکرز شامل تھے ۔ دھماکے سے بیس لاکھ ڈالر کی جائیداد تباہ ہوگئی۔ اس کے علاوہ مورگن بلڈنگ کا اندرونی حصہ بھی تباہ ہوگیا۔ نیویارک سٹاک ایکسچینج کے بورڈ آف گورنرز نے فیصلہ کیا کہ اگلے دن کاروبار ہوگا۔ حکومتی عملے نے پوری رات کام کیاتاکہ اگلے دن کاروباری سرگرمیاں شروع کی جاسکیں۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے انہوں نے وہ شہادتیں ضائع کردیں جن سے پولیس کو اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں مدد ملتی ۔ نیویارک کے اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی نے یہ بات محسوس کی کہ وقت ، جگہ اور دھماکہ کرنے کا طریقہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کام سرمایہ داری نظام کے مخالفین کا ہے جن میں بالشویک ، انتہا پسند ، کمیونسٹ یا پھر جنگجو سوشلسٹ شامل ہیں ۔ تحقیقاتی اداروں نے جلد ہی ان انقلابی گروپوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا جو امریکی مالیاتی اور حکومتی اداروں کی مخالفت میں پیش پیش رہتے تھے ۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ وہ پرتشدد کارروائیوں کے لئے بموں کا استعمال کرتے ہیں ۔ ’’واشنگٹن پوسٹ ‘‘ نے اس واقعے کو جنگی اقدام قرار دیا ۔ اس دھماکے کے بعد پولیس اور تحقیقاتی افسروں نے غیرملکی انقلابی گروپوں کی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے زبردست کوششیں شروع کردیں ۔ مجرموں کو پکڑنے کیلئے عوام کا دبائو بڑھتا جارہا تھا جس کی وجہ سے امریکی محکمہ ء انصاف کے تحقیقاتی بیورو نے اپنا دائرہ کار بڑھا لیا ۔ محکمہ پولیس نیویارک نے بھی خصوصی خفیہ پولیس کے لئے اہلکار بھرتی کرلئے۔ اس کا مقصد نیویارک شہر میں انقلابی عناصر کی سرکوبی کرنا تھا۔ لیکن تحقیقاتی بیورو نے اس وقت کام روک دیا جب دھماکے کا نشانہ بننے والا کوئی آدمی گھوڑا گاڑی کا ڈرائیور ثابت نہ ہوا۔ تحقیقاتی افسروں نے ٹینس چیمپئن ایڈون فشر سے بھی اس واقعے کے بارے میں تفتیش کی ۔ ایڈون فشر نے اپنے دوستوں کو خطوط لکھے تھے جن میں اس نے انہیں متنبہ کیا تھاکہ وہ16 ستمبر سے پہلے یہ جگہ چھوڑ دیں ۔ فشر نے پولیس کو بتایا کہ اسے ’’ہوا کے ذریعے ‘‘یہ اطلاع ملی تھی۔ پولیس کو یہ معلوم ہوا کہ ایڈون فشر کو ایسے خطوط لکھنے کی پرانی عادت ہے ۔یہ بھی معلوم ہوا کہ فشر پاگل خانے میں بھی رہا ہے ۔ تحقیقاتی اداروں نے تین سال تک تحقیقا ت کیں لیکن انہیں کوئی کامیابی نہ مل سکی ۔ آج تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ ان دھماکوں کے پیچھے کون تھا۔ دنیا کا طاقتور ترین ملک بھی مجرموں کو پکڑنے کیلئے کچھ نہ کرسکا۔