PDA

View Full Version : نور بابا , تحریر : ممتاز مفتی



حبیب صادق
10-23-2019, 02:33 AM
نور بابا , تحریر : ممتاز مفتی

نور بابا سے میرا تعارف اشفاق احمد نے کرایا تھا۔ اشفاق احمد قال کا پروانہ ہے۔ بولنا اس کے لئے زندگی ہے اور خاموشی موت۔ اس لئے وہ بابوں کی ڈھونڈ میں لگا رہتا ہے۔


اسے کسی منزل کی طلب نہیں ہے۔ لیکن نئی نئی باتیں سننے اور بابائوں سے گفتگو کرنے کا شوق اسے ڈیروں اور درگاہوں پر لے جاتا ہے۔


پتہ نہیں وہ کس طرح نور بابا کے دربار میںجا پہنچا ۔نوربابا کا ڈیرہ لاہور چھائونی میں کیولری روڈ پر تھا، جو تین چارکنال زمین پر مشتمل تھا


ایک طرف مریضوں کی چارپائیاں بچھی ہوئی تھیں جو ان ڈور مریضوں کا اوپن ایئر وارڈ تھا۔ قریب ہی ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جوادویات کا سٹور روم تھا۔ سٹور سے ملحق ایک قطار میں چار ایک چولہے اور ایک تندور تھا جہاں پانچ چھ سفید ریش بوڑھے بیشتروقت کھانے پکانے میں مصروف رہتے تھے۔ چولہوں کے قریب دو ہال کمرے تھے جو مہمان خانے کے طور پر استعمال ہوتے تھے اور ان کے ملحق ایک وسیع تھڑا تھا۔ جہاں پانچ وقت با جماعت نماز ادا کی جاتی تھی۔


نور بابا کے دوکام تھے۔ ڈیرے پرکوئی شخص کسی وقت آتا تو اسے کھانا پیش کیا جاتا، جو گوشت روٹی پر مشتمل ہوتا۔ نور بابا کا دوسرا کام مریضوں کو دوا دینا تھا۔ کئی ایک مریض مہینوں ڈیرے پر پڑے رہتے تھے۔


نور بابا دن میں دو بار اوپن ایئر وارڈ کا رائونڈ کرتا تھا۔ ہر مریض کو دیکھتا اور دوا تجویز کرتا۔ صاحب حیثیت مریض کو اجازت تھی کہ وہ دوا کی قیمت ادا کردے۔ عام مریضوں کا علاج مفت ہوتا تھا۔


نوربابا ایک بھاری بھر کم باریش بوڑھا تھا، جو ہر وقت ایک لمبا چوغہ پہنے مہمانوں کو کھانا کھلانے میں مصروف رہتا تھا۔


وہ ایک خوش گفتار بابا تھا۔ گفتگو میں وہ ایسے بندھے ٹکے جملے استعمال کیا کرتا تھا کہ سن کر حیرت ہوتی تھی۔ یہ فقرے پر مغز ہونے کے علاوہ بندش میں سجے سجائے محسوس ہوتے تھے۔ بابا کے ان جملوں کی بڑی دھوم تھی۔ اشفاق احمد ان جملوں کا دیوانہ تھا۔ گمان غالب ہے کہ اس کا بابا سے تعلق ان جملوں کی وجہ سے تھا۔


ایک دن علاقے کا تھانیدار بابا کے ڈیرے پر آ گیا۔ بابا نے حسب دستور گوشت روٹی پیش کی۔


تھانے دار بولا، ہمیں گوشت روٹی پر نہ ٹرخائو۔


تو پھر آپ کی کیا خدمت کریں، بابا نے پوچھا۔


تھانیدار مونچھ مروڑ کر بولا، ہم اپنا حصہ لینے آئے ہیں۔


کیسا حصہ، بابا نے پوچھا۔


تم نے جو یہ پیری مریدی کا دھندا چلا رکھا ہے اس میں ہمارا حصہ بھی ہونا چاہیے۔ بابا نے کہا، تھانیدار جی اس ڈیرے پر تو گوشت روٹی اور دوا دارو کے سوا کچھ نہیں ہے۔


تھانیدار بولا، اچھا یوں ہی سہی لیکن کھانا کھانے سے پہلے میں پینے کا عادی ہوں۔ وائٹ ہارس کی ایک بوتل منگوادو۔


بابا نے کہا، پتر میں تو ان پڑھ ہوں تو کاغد پر نام لکھ دے۔


تھانیدار نے پرچی پر نام لکھ دیا۔


بابا وہ پرچی لے کر شراب کی دکان پر چلا گیا۔


لوگ حیران تھے کہ یہ بابا کو کیا ہوا کہ شراب کی بوتل اٹھائے جا رہے ہیں۔


بابا نے بوتل کو چھپایا نہیں تھا بلکہ اعلانیہ بغل کے نیچے دبا رکھا تھا۔


پھر یہ معمول بن گیا۔ رات کو بلاناغہ تھانیدار آتا اور بوتل کا مطالبہ کرتا۔ بابا خود بازار جا کر بوتل خریدتا اور ڈیرے پر پہنچ کر تھانیدار کو پیش کردیتا۔ تھانیدار مہمان خانے میں بیٹھ کر شراب پیتا اور پھرگوشت روٹی کھاکر گھر چلا جاتا۔


اس پر ڈیرے پر آنے والے لوگوں نے احتجاج کیا۔ کہنے لگے، آپ تھانیدار کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ اس میں ڈیرے کی بدنامی ہے۔ گھبرائو نہیں پتر، بابا جواب دیتا، سہج پکے سو میٹھا ہو۔


پھر ایک روز تھانیدار کو بوتل پیش کرتے ہوئے بابا نے کہا، پتر آج جی بھر کے پی لے۔


کیوں کل کیا ہوگا، تھانیدار نے پوچھا۔


کل تو بوتل کا محتاج نہ رہے گا، بابا نے جواب دیا۔


تھانیدار اس پر قہقہہ مارکر ہنسا۔


اس رات تھانیدار نے اتنی پی کہ غٹ ہو کر ڈیرے کے مہمان خانے میں ہی پڑا رہا۔


اگلے روز وہ ڈیرے کی مسجد میں جا کر یوں بیٹھ گیا جیسے پتھرکا بنا ہو۔ یہ کیفیت ہفتوں طاری رہی۔ گھر چھوٹ گیا، نوکری چھوٹ گئی، بالآخر وہ اس مسجد کا امام بن گیا۔


اس پر لوگ حیرت زدہ ہوگئے۔ وہ بابا سے پوچھتے، بابا جی یہ آپ نے کیا کردیا۔


بابا جواب دیتا، پتر میں نے تو کچھ نہیں کیا۔ میںکرنے والا کون ہوں۔ کرنے والا تو وہی ہے۔جو چاہے کردے اور پتر نشہ تو ایک سواری ہے۔ سواری اہم نہیں۔ یہ اہم ہے کہ سواری کا رخ کدھر کو ہے اور پتر وہ جب چاہے رخ بدل دے۔ جسے چاہے جاننے کی پگڈنڈی پر چڑھا دے، جسے چاہے ماننے کی سڑک پرڈال دے۔