PDA

View Full Version : دسترس سے اپنی،باہر ہو گئے



حبیب صادق
10-25-2019, 02:47 AM
دسترس سے اپنی،باہر ہو گئے

جب سے ہم اُن کو میسر ہو گئے

ہم جو کہلائے طُلوعِ ماہتاب

ڈوبتے سُورج کا منظر ہو گئے

شہرِ خوباں کا یہی دستورہے

مُڑ کے دیکھا اور پتھر ہو گئے

بے وطن کہلائے اپنے دیس میں

اپنے گھر میں رہ کے بے گھر ہو گئے

سُکھ تری میراث تھے،تجھ کو ملے

دُکھ ہمارے تھے،مقدر ہو گئے

وہ سر اب اُترا رگ وپے میں کہ ہم

خود فریبی میں سمندر ہو گئے

تیری خود غرضی سے خود کو سوچ کر

آج ہم تیرے برابر ہو گئے

پروین شاکر

Maria
10-25-2019, 11:57 PM
خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔