PDA

View Full Version : تم دن کے وقت شام کا منظر نہ دیکھنا



حبیب صادق
10-26-2019, 02:59 AM
تم دن کے وقت شام کا منظر نہ دیکھنا


میرا اداسیوں کا بنا گھر نہ دیکھنا

پھر روشنی ہی بعد میں پھیکی دکھائی دے

چہرہ کسی کا ایسا منور نہ دیکھنا

میدانِ تشنگی کی یہ آنکھیں امام ہیں

ہے دیکھنے سے واقعی بہتر نہ دیکھنا

ڈر جاؤ گے خلائے بے معنی کے خوف سے

باہر سے جھانک کر کبھی اندر نہ دیکھنا

اپنی ہی دُھن میں ٹھوکریں کھاتے چلے گئے

تھا وصفِ خاص راہ کا پتھر نہ دیکھنا

آیا کوئی سفیرِ محبت چلا گیا

اب مدتوں ہم ایسا سخن ور نہ دیکھنا

آفتاب اقبال شمیم