PDA

View Full Version : دنیا کو بدلنے والی وبائیں



حبیب صادق
10-31-2019, 02:01 AM
دنیا کو بدلنے والی وبائیں
http://www.oururdu.com/forums/index.php?attachments/upload_2019-10-31_1-58-18-jpeg.42307/&temp_hash=9e6d44e2f802308cacfa89d327a22886
ڈین جونز
متعدی امراض میں عالمگیر وبائیں سب سے بری صورت حال پیدا کرتی ہیں۔ جب ایک وبا کسی ملک کی سرحدوں کو پار کرتی ہے تو اسے رسمی طور پر عالمگیر وبا قرار دے دیا جاتا ہے۔ متعدی امراض ان دنوں سے انسان کے ساتھ ہیں جب وہ شکار پر گزارا کیا کرتا تھا لیکن 10 ہزار برس قبل زرعی زندگی اپنانے سے ایسی آبادیاں وجود میں آئیں جن میں وباؤں کا امکان بڑھ گیا۔ ملیریا، ٹیوبرکلوسس (ٹی بی)، جذام، انفلوئنزا، چیچک اور دیگر پہلی بار اس دور میں پھیلیں۔انسان جتنا تمدنی ہوتا گیا، شہر تعمیر کرتا اور دوسرے شہروں کے ساتھ تجارتی راستے بناتا، اور ان سے جنگیں کرتا گیا، عالمگیر وباؤں کے امکانات اتنے بڑھتے گئے۔ ذیل میں ان عالمگیر وباؤں کا ذکر ہے جنہوں نے انسانی آبادی کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا اور تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ 430 ق م، ایتھنز: اولین ریکارڈ کے مطابق یہ وبا پیلوپونیسیائی جنگ کے دوران پھیلی۔ یہ جنگ یونان کی دو طاقت ور شہری ریاستوں ایتھنز اور سپارٹا کے مابین ہوئی تھی۔ لیبیا، ایتھوپیا اور مصر پار کرنے کے بعد وبائی مرض ایتھنز کی حدود میں داخل ہوا۔ ان دنوں سپارٹا والوں نے اس کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ اس سے وہاں کی دو تہائی آبادی مر گئی۔ اس مرض کی علامات میں بخار، پیاس، گلے اور زبان پر خون، سرخ جلد اور زخم ہونا شامل تھے۔ شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ ٹائیفائیڈ بخار تھا۔ اس کی وجہ سے ایتھنز والے خاصے کمزور پڑ گئے اور سپارٹا والوں سے انہیں شکست ہوئی۔ 165ء، انتونائی طاعون: انتونائی طاعون (Antonine Plague) غالباً چیچک کا ابتدائی ظہور تھا جس کا سبب ہُن تھے۔ چین سے تعلق رکھنے والے ہُنوں نے جرمنوں میں اس کے جراثیم پھیلائے، جنہوں نے اسے رومیوں تک پہنچایا اور اس کے بعد عسکری مہم سے واپس آنے والی رومی فوج سے یہ پوری سلطنت روم میں پھیل گئے۔ اس کی علامات میں بخار، گلے کی سوزش، اسہال اور مریض کے زیادہ عرصہ زندہ پر سوزش میں پیپ شامل تھے۔ یہ طاعون 180ء تک جاری رہا اور اس نے شہنشاہ مارکوس اوریلیئس کی بھی جان لے لی۔ 250ء، سائپرین طاعون: اس طاعون کا نام اس کے پہلے شکار پر رکھا گیا، سائپرین قرطاجی مسیحی بشپ تھا۔ اس کی علامات میں اسہال، قے، گلے کا زخم، بخار اور ہاتھ اور پاؤں کا گلنا شامل تھے۔ وبا سے بچنے کے لیے شہر کے رہنے والے دیہی علاقوں میں پناہ لینے لگے لیکن اس سے بیماری مزید پھیل گئی۔ شاید اس کا آغاز ایتھوپیا سے ہوا، یہ شمالی افریقہ سے روم میں داخل ہوئی اور پھر مصر سے مزید شمال کی جانب پھیل گئی۔ یہ وبا آئندہ تین صدیوں تک آتی رہی۔ 444ء میں اس نے برطانیہ پر حملہ کیا اور ’’پِکٹس‘‘ اور ’’سکاٹس‘‘ کے خلاف دفاعی کاوشوں کو متاثر کیا، جس کے باعث برطانویوں کو ’’سیکسنز‘‘ سے مدد لینا پڑی، جنہوں نے جلد برطانوی جزیرے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ 541ء، جسٹینین طاعون: یہ طاعون سب سے پہلے مصر میں نمودار ہوا، جسٹینین (Justinian ) طاعون فلسطین کے ذریعے بازنطینی سلطنت میں اور پھر بحیرہ روم کے سارے علاقوں میں پھیل گیا۔ اس نے سلطنت کو بدل کر رکھ دیا، رومی سلطنت کی بحالی کے لیے شہنشاہ جسٹینین کے منصوبوں کو تہ و بالا کر دیا اور معاشی مشکلات بڑھا دیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے پیدا شدہ حالات میں مسیحیت نے تیزی سے فروغ پایا۔ آئندہ دو صدیوں کے دوران اس کے بار بار ظہور سے پانچ کروڑ افراد ہلاک ہوئے یعنی دنیا کی 26 فیصد آبادی کا خاتمہ ہو گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ’’بوبونک طاعون‘‘ (طاعون کی ایک قسم) کا پہلا قابلِ ذکر ظہور تھا۔ گیارہویں صدی، کوڑھ: اگرچہ کوڑھ کا مرض بہت قدیم ہے، لیکن اس نے عہد وسطیٰ کے یورپ میں عالمگیر وبا کی صورت اختیار کی، جس کی وجہ سے کوڑھ کے مریضوں کے لیے خصوصی ہسپتال قائم ہونے لگے، کیونکہ مریضوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تھی۔ یہ بیکٹیریا سے پیدا ہونے والا مرض ہے، جن کی نمو آہستہ آہستہ ہوتی ہے۔ اس سے سوزش اور اعضا کی ہیئت بدل جاتی ہے۔ اس دور میں لوگوں کا خیال تھا کہ یہ کسی گناہ کی سزا ہے۔ اس کے باعث لوگ دوسروں کے اچھا یا برا ہونے کا فیصلہ کرنے اور مریضوں سے بیگانگی کا رویہ اپنانے لگے۔ اب بھی یہ مرض ہر سال لاکھوں افراد کو متاثر کرتا ہے اور اگر اینٹی بائیوٹکس سے اس کا علاج نہ کیا جائے تو موت کا باعث بن سکتا ہے۔ 1350ء، کالی موت: یہ وبا دنیا کی ایک تہائی آبادی کو موت کے منہ میں دھکیلنے کی ذمہ دار ہے۔ یہ ’’بوبونک طاعون‘‘ کا دوسرا ظہور تھی۔ اس کا آغاز شاید ایشیا میں ہوا اور یہ کاروانوں کے ذریعے مغرب کی طرف پھیلی۔ 1347ء میں سسلی پہنچی جہاں اس کے مریض بندرگاہ میسینا میں وارد ہوئے اور پھر یہ یورپ پھیل گئی۔ اس دوران لاشیں اتنی زیادہ ہو گئی تھیں کہ انہیں گلنے سڑنے کے لیے پھینک دیا جاتا تھا۔اس سے انگلستان اور فرانس اتنے بے بس ہوئے کہ انہوں نے دوران جنگ معاہدہ امن کر لیا۔ اس وبا کے باعث پیدا ہونے والے معاشی حالات اور آبادی میں ردوبدل سے برطانوی جاگیرداری نظام انحطاط پذیر ہوا۔ گرین لینڈ میں آبادی کے متاثرہونے سے وائیکنگز کی عسکری استطاعت کم ہو گئی اور وہ مقامی آبادی سے لڑنے کے قابل نہ رہے، نیزشمالی امریکا میں دریافتوں کا شروع ہونے والا ان کا سلسلہ تھم گیا۔ 1492ء، بذریعہ کولمبس: ہسپانویوں کی کیربین آمد کے بعد چیچک، خسرہ اور بوبونک طاعون یورپیوں کے ذریعے مقامی آبادی میں پھیل گئے۔ مقامی لوگوں کو قبل ازیں ان امراض سے واسطہ نہیں پڑا تھا۔ شمالی اور جنوبی امریکا میں ان امراض نے ان کی 90 فیصد آبادی ختم کر دی۔ کرسٹوفر کولمبس کی جزیرہ ہسپانیولا میں آمد پر اس کا رابطہ ’’ٹائینو‘‘ لوگوں سے ہوا جن کی آبادی 60 ہزار تھی۔ 1548ء تک آبادی 500 سے بھی کم رہ گئی۔ دونوں امریکی براعظموں میں بھی موت نے کچھ ایسا ہی رقص کیا۔ افریقی غلاموں کے ذریعے آنے والی چیچک کی وبا نے 1520ء میں ازٹک سلطنت کو برباد کردیا۔ رواں برس ہونے والی ایک تحقیق سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ سولہویں اور سترہویں صدی میں پانچ کروڑ 60 لاکھ مقامی امریکیوں کی ہلاکت سے کرۂ ارض کا موسم بدل گیا کیونکہ کاشت کاری کے رقبوں پر سبزے کی نمو سے فضا سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب ہونے لگی جس سے موسم مجموعی طور پر سرد ہو گیا۔ 1665ء، لندن کا عظیم طاعون: یہ ایک بوبونک طاعون تھا اور اس کے نتیجے میں لندن کی 20 فیصد آبادی ہلاک ہو گئی۔ جوں ہی اموات میں اضافہ ہوا، اجتماعی قبریں بننے لگیں۔ لاکھوں بلیوں اور کتوں کو بیماری کا سبب ہونے کے شبے میں مار دیا گیا۔ یہ بیماری دریائے تھیمز کی بندرگاہوں کے ساتھ پھیلنے لگی۔ بدترین پھیلاؤ 1666ء کے خزاں میں ہوا، یہ وہی وقت تھا جب لندن میں بڑے پیمانے پر آتش زدگی ہوئی تھی۔ 1817ء، ہیضے کی پہلی وبا: ڈیرھ سو برس میں آنے والی ہیضے کی سات وباؤں میں یہ پہلی تھی۔ چھوٹی آنت کی انفیکشن سے ہونے والی یہ بیماری روس میں پیدا ہوئی، جہاں اس سے 10 لاکھ افراد مارے گئے۔ یہ پاخانے سے آلودہ پانی اور خوراک سے مزید پھیلی اور اس کے بیکٹیریا نے برطانوی سپاہیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ اسے ہندوستان لے گئے جہاں ان سے لاکھوں افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ یہ وبا سلطنت برطانیہ میں پھیلی اور اس کی بحریہ سے سپین، افریقہ، انڈونیشیا، چین، جاپان، اٹلی، جرمنی اور امریکا پہنچ گئی، جہاں اس سے ڈیڑھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ 1885ء میں اس کی ویکسین تیار کر لی گئی لیکن وبا جاری رہی۔ 1855ء، طاعون کی تیسری وبا: چین سے شروع ہونے اور ہندوستان اور ہانگ کانگ جانے کے بعد اس بوبونک طاعون نے ایک کروڑ 50 لاکھ افراد کی جان لی۔ ابتدائی طور پر یہ یُنان (چین) میں پسوؤں سے پھیلا، جہاں ان دنوں کان کنی کو عروج حاصل تھا۔ اس طاعون کو ’’پارتھی‘‘ بغاوت اور ’’تائی پنگ‘‘ بغاوت کی ایک وجہ سمجھا جاتا ہے۔ اس سے ہندوستان میں بہت زیادہ اموات ہوئیں۔ وبا کو جواز بنا کر برطانیہ نے جابرانہ پالیسیاں اپنائیں جن کا نتیجہ سرکشی کی صورت میں نکلا۔ یہ وبا 1960ء تک رہی تاہم تب تک اس کی شدت بہت کم ہو چکی تھی۔ 1875ء، فیجی خسرہ: جب فیجی برطانوی سلطنت کا حصہ بنا تو فیجی کی ایک شاہی جماعت نے آسٹریلیا کا دورہ کیا، جس کا اہتمام ملکہ وکٹوریہ نے بطور انعام کیا تھا۔ شاہی جماعت خسرے کی وبا کے دوران پہنچی اور یہ مرض جزیرہ فیجی لے گئی۔ وہاں یہ ان سے ملنے والے قبائلی سرداروں اور پولیس والوں میں منتقل ہو گئی۔ یہ تیزی سے جزیرے میں پھیلی اور اس سے لاشوں کے اتنے ڈھیر لگ گئے کہ انہیں جنگلی جانور نوچنے لگے۔ کئی دیہاتوں کی ساری آبادی ختم ہو گئی۔ کئی دیہاتوں کو آگ لگا دی گئی۔ بعض دفعہ بیمار اس آگ میں جھلس کر مر جاتے۔ فیجی کی ایک تہائی آبادی اس سے ہلاک ہوئی اور کل 40 ہزار افراد مارے گئے۔ 1889ء، روسی فلو: فلوکی یہ پہلی قابل ذکر وبا سائبیریا اور قازقستان سے شروع ہوئی اور ماسکو پہنچی۔ اس کے بعد یہ فن لینڈ اور پھر پولینڈ گئی جہاں یہ یورپ کے دوسرے علاقوں میں پھیل گئی۔ آئندہ برسوں میں اس نے سمندر پار کیا اور شمالی امریکا اور افریقہ میں پھیلی۔ 1890ء کے اختتام تک اس سے تین لاکھ 60 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ 1918ء، ہسپانوی فلو: پرندوں سے ہونے والا یہ فلو دنیا میں پانچ کروڑ اموات کا ذمہ دار ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ہسپانوی فلو چین میں پیدا ہوا اور چینی مزدوروں کے ذریعے یورپ اور کینیڈا پہنچا۔ شمالی امریکا میں یہ فلو 1918ء کے شروع میں کنساس میں نمودار ہوا اور موسم بہار میں یورپ میں ظاہر ہوا۔ وائر سروس کی رپورٹوں سے اس کے 1918ء کے موسم بہار میں میڈرڈ میں پھیلنے کا پتا چلتا ہے جس کے باعث اسے ’’ہسپانوی فلو‘‘ کہا جاتا ہے۔ اکتوبر تک لاکھوں امریکی اس سے مر چکے تھے اور ان کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے کا کام مشکل ہو گیا تھا۔ لیکن 1919ء کے گرما میں اس کا خطرہ ختم ہو گیا۔ اس کی وجہ یا تو قوت مدافعت کا پیدا ہونا یا تمام متاثرہ افراد کا مرنا تھی۔ 1957ء، ایشیائی فلو: اس کی ابتدا ہانگ کانگ سے ہوئی اور یہ پورے چین میں پھیل گیا۔ پھر یہ ریاست ہائے متحدہ امریکا پہنچا۔ انگلینڈ پہنچنے کے بعد چھ ماہ کے عرصے میں اس سے 14 ہزار افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ اس کی دوسری لہر آئی اور ریاست ہائے متحدہ امریکا میں 69 ہزار آٹھ سو ہلاکتیں ہوئیں۔ اسی سال اس کی ویکسین تیار ہوئی اور اس وبا کا خاتمہ ہو گیا۔ 1981ء، ایچ آئی وی: اس کی اولین نشاندہی 1981ء میں ہوئی۔ ایڈز سے فرد کا قوت مدافعت کا نظام تباہ ہو جاتا ہے، جس سے بالآخر موت واقع ہو جاتی ہے کیونکہ انسانی جسم بیماریوں سے لڑنے کے قابل نہیں رہتا۔ جنہیں ایچ آئی وی ہوتا ہے انہیں شروع میں بخار، سردرد اور لمف نوڈ کی بڑھوتری ہو سکتی ہے۔ پھر وہ افراد خون اور بعض رطوبتوں سے اسے منتقل کر سکتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا وائرس 1920ء کی دہائی میں مغربی افریقہ میں چیمپنزی میں پیدا ہوا۔ 1960ء کی دہائی میں یہ مرض ہیٹی اور پھر 1970ء کی دہائی میں سان فرانسسکو پہنچا۔ اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ادویات دستیاب ہیں، البتہ دنیا میں ایڈز کی دریافت سے اب تک تین کروڑ 50 لاکھ افراد اس سے مر چکے ہیں۔ (ترجمہ: رضوان عطا)