PDA

View Full Version : تہی اپنا یہ بے بخشش خزانہ کیوں نہیں کرتا



حبیب صادق
11-02-2019, 04:22 AM
تہی اپنا یہ بے بخشش خزانہ کیوں نہیں کرتا


تو اُس کے نام نقدِ جاں روانہ کیوں نہیں کرتا

تجھے اے گوشہ گیرِ ذات! جو تجھ سے رہائی دے


کوئی اقدام ایسا باغیانہ کیوں نہیں کرتا

ہمیں کیا ہوتا، ہم آئے یہاں تیرے بُلانے پر

تو پھر ہم سے سلوکِ دوستانہ کیوں نہیں کرتا

سلگتے جسم سے شاید پرِ شعلہ نکل آئے

ہوا کے راستے میں تو ٹھکانہ کیوں نہیں کرتا

رہیں گے کب تلک ہونے نہ ہونے کے تذبذب میں

ہمارا فیصلہ وُہ منصفانہ کیوں نہیں کرتا

نظر آتا ہے لیکن دیکھنے میں ہے زیاں اپنا

تو ایسے میں تغافل کا بہانہ کیوں نہیں کرتا

آفتاب اقبال شمیم