PDA

View Full Version : جگنوؤں سے سیکھیں گے، ہم بھی روشنی کرنا



حبیب صادق
11-02-2019, 04:32 AM
جگنوؤں سے سیکھیں گے، ہم بھی روشنی کرنا


اختیار ظلمت میں کچھ نہ کچھ کمی کرنا

دل صداقتیں مانگے خیر و شر کی دنیا میں


وہم ہے محبت کا سب سے دوستی کرنا

کیوں پسند آیا ہے لا مکاں کی وسعت کو

میرا، چند گلیوں میں سیرِ زندگی کرنا

آ دماغ روشن کر، یہ چراغ روشن کر

ظلمتوں میں اچھا ہے شغلِ مے کشی کرنا

اے امامِ صحرا تُو آج کی گواہی دے

شرطِ آدمیت ہے جبر کی نفی کرنا

موتیے کی خوشبوئیں مل رہی ہیں یادوں میں

اس سمے تو آنکھوں کو چاہئے نمی کرنا

عشق میں مقلد ہیں ہم طریق ”غالب” کے

مہ رُخوں سے سیکھنا ہے ہم نے شاعری کرنا

آفتاب اقبال شمیم

بےباک
11-04-2019, 06:44 AM
موتیے کی خوشبوئیں مل رہی ہیں یادوں میںاس سمے تو آنکھوں کو چاہئے نمی کرنا
عشق میں مقلد ہیں ہم طریق ”غالب” کے
مہ رُخوں سے سیکھنا ہے ہم نے شاعری کرن
بہت اعلی جناب

حبیب صادق
11-11-2019, 12:52 AM
بہت بہت شکریہ