PDA

View Full Version : برطانیہ پر شدید ضرب



حبیب صادق
11-14-2019, 01:31 AM
برطانیہ پر شدید ضرب
http://www.oururdu.com/forums/index.php?attachments/upload_2019-11-14_1-28-14-jpeg.42391/&temp_hash=c114f926f8ce019c5dd03adc375c40d3
لوئس ایل سنائیڈر
دوسری عالمی جنگ کے دوران پرل ہاربر پر حملے کے دوسرے دن امریکا میں بھرتی کے مرکز رضا کاروں سے اَٹ گئے۔ امریکیوں میں سے ڈیموکریٹوں اور ریپبلکنز، مداخلت کے حامیوں اور علیحدگی پسندوں، سرمایہ داروں اور مزدوروں نے اختلافات ختم کر کے قومی اتحاد کا ایسا مظاہرہ کیا جس کی کوئی مثال پہلے موجود نہ تھی۔ پرل ہاربر کے حملے کے متعلق کم سے کم یہ کہا جا سکتا ہے کہ جمہوریہ امریکا کے لیے یہ تباہی خیز واقعہ تھا لیکن جاپانیوں کی امید کے برعکس اس سے امریکا کی ضرب لگانے کی قوت ختم نہیں ہوئی تھی۔ بحری بیڑے کا اہم حصہ اس تباہی سے محفوظ رہ گیا تھا۔ ایک سال کے اندر اندر تمام ڈوبے ہوئے اور ضرر رسیدہ جہازوں کی مرمت کر لی گئی۔ پرل ہاربر سے چار روز بعد جرمنی اور اٹلی نے امریکا کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔ پرل ہاربر پر جاپانیوں نے جو ضرب لگائی تھی، وہ مشرق بعید میں ضربوں کے سلسلے کی طرف ایک کڑی تھی۔ جاپانیوں کا جارحانہ اقدام ابھرنے والے راکٹ کے دھوئیں کی طرح ہر سمت میں دور دور تک پہنچ گیا۔ پرل ہاربر پر حملے کے تقریباً ساتھ ہی جاپان کی بحری اور فضائی قوت نے کوٹا بھارو (برطانوی ملایا)، سنگورا (تھائی لینڈ)، سنگاپور (ہانگ کانگ)، کوام، مڈوے، ویک آئی لینڈ اور فلپائن پر بھی ضربیں لگائیں۔ فوج، بحری بیڑے اور فضائی قوت کے اشتراک سے دور دور تک اقدامات کی یہ ایک غیر معمولی نمائش تھی۔ اس کی تہہ میں وہ تدبیریں کارفرما تھیں جو پہلے سے تیار کر رکھی تھیں۔ فتوحات سے جو نئے اڈے مل گئے، ان سے کام لے کر جاپانیوں نے دشمن کے خلاف ایک ہنگامہ برپا کر دیا۔ وہ عموماً زبردست قوت کے ساتھ لڑائی کے اہم مقامات پر نمودار ہوتے۔ پانچویں کالم کی غداری فتح کا راستہ ہموار کر دیتی اور ہر علاقے میں ایسے لوگ پہلے سے موجود تھے۔ جاپانی فوجیوں کو داخلے اور پھیلاؤ کے حیلے معلوم تھے۔ وہ حوالگی کی بجائے موت کو ترجیح دیتے۔ چاول کے معمولی سے راشن پر زندگی بسر کر لیتے اور ضرورت پیش آتی تو خود جہاں ہوتے، وہاں سے رسد لے کر گزارہ کرتے رہتے۔ ان پر ایسی تصویریں بنا دی گئی تھیں کہ دور سے یا اوپر سے درختوں کے پتے معلوم ہوتے۔ عموماً جانوروں کی آوازیں نکالتے۔ یہی ان کے سگنل تھے۔ جنگل میں گھس جاتے تو کوئی ان کا سراغ نہ لگا سکتا۔ برطانیہ اور امریکا دونوں نے ابتدا میں جاپانیوں کی جنگی صلاحیتوں کا ناقص اندازہ کیا۔ وہ چین میں جاپانیوں کی ظاہری ناکامیوں سے غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے۔ انگریزوں اور امریکیوں کو جنگل میں لڑنے کی کوئی تربیت نہیں ملی تھی۔ ابتدا میں انہیں بڑی تکلیفیں پیش آئیں لیکن جلد انہوں نے سب کچھ سیکھ لیا اور آگے چل کر معلوم ہوا کہ جاپانیوں کی کارروائیوں میں کوئی جدت پیدا نہ ہو سکی۔ وہ ہمیشہ ایک ہی نمونے کو دہراتے رہے۔ غالباً ان کی ابتدائی کامیابیوں کا راز یہ تھا کہ وہ جسمانی تکلیفیں برداشت کرنے کے زیادہ اہل تھے۔ جاپانیوں نے فتوحات کے لیے جو نقشہ بنایا تھا، اس کا ایک ایک پہلو آشکارا ہو گیا۔ ہوائی اور فلپائن کے درمیان مختلف جزیرے واقع تھے جو جنگی اعتبار سے بڑے اہم تھے مثلاً مڈوے، ویک اور گوام۔ یہ سب امریکا کے قبضے میں تھے۔ ان کا فاصلہ بالترتیب ایک ہزار تین سو چار میل، ایک ہزار ایک سو 85 اور ایک ہزار پانچ سو آٹھ میل تھا۔ ان میں سے گوام پہلا جزیرہ تھا جو جاپانیوں کے قبضے میں آیا اور مشرقی جانب یہی قدم گاہ بنا۔ یہ چھوٹا سا جزیرہ ٹوکیو سے ایک ہزار میل سے زائد فاصلے پر جنوب میں تھا۔ اس سے چند میل کے فاصلے پر میریانا تھا، جو جاپانیوں کی حکمداری میں دے دیا گیا تھا۔ گوام کو امریکا نے فوجی اعتبار سے مستحکم نہیں کیا تھا۔ سات دسمبر کو جاپانیوں نے اس پر بم برسائے۔ تین روز بعد فوج اس پر حملہ آور ہوئی۔ وہاں صرف پانچ سو 55 امریکی فوجی موجود تھے۔ نہ ان کے پاس ساحلی حفاظت کے لیے توپیں تھیں اور نہ طیارہ شکن توپیں، ان کے لیے حوالگی کے سوا چارہ نہ رہا۔ جزیرہ ویک میں سخت مقابلہ ہوا۔ یہاں میجر جیمز ڈیویرو نے اپنے بحری سپاہیوں کے ساتھ جاپانیوں کا پہلا حملہ ناکام بنا دیا۔ وہ کچھ مدت تک ٹھہرے رہے، آخر پسپا ہو گئے۔ گوام اور ویک کے سقوط سے ہوائی اور فلپائن کے درمیان نقل و حمل کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور مڈوے کے مغرب میں وسطی بحرالکاہل کے اندر امریکا کا کوئی مرکز نہ رہا اور مڈوے سان فرانسسکو سے تین ہزار سات سو میل تھا۔ امید تھی کہ سنگاپور کے مرکز کا برطانوی بیڑا جنوبی و مغربی بحرالکاہل کی جنگ میں فوری مدد پہنچائے گا۔ مشرق بعید میں جنگ چھڑنے سے چند مہینے پیشتر برطانیہ سے دو بڑے جنگی جہاز بھیج دیے گئے تھے کیونکہ وہاں فتنے کا اندیشہ تھا۔ اس میں ایک 35 ہزار ٹن کا جنگی جہاز یعنی ’’پرنس آف ویلز‘‘ تھا، جسے بحری ماہرین ناقابل غرقابی قرار دے چکے تھے۔ دوسرا 32 ہزار ٹن کا جنگی جہاز ریپلس تھا۔ ان دونوں کی ساخت میں تازہ ترین اصول پیش نظر رکھے گئے تھے اور ان پر منتخب بحری فوج متعین کی گئی تھی۔ ’’پرنس آف ویلز‘‘ ان جہازوں میں سے تھا، جس نے جرمن جہاز بسمارک کو ڈبونے میں خاص مدد دی تھی۔ آٹھ دسمبر 1941ء کو خبر ملی کہ جاپانی ملایا میں اتر آئے ہیں۔ نائب امیر البحر ٹام فلپس نے جو مشرق بعید کے برطانوی بیڑے کا کماندار تھا اور ایک بہادر، مگر ناتجربہ کار افسر تھا، ’’پرنس آف ویلز‘‘ اور ریپلس کو روانگی کا حکم دے دیا۔ چار تباہ کن جہاز ان کے ساتھ تھے۔ قصد یہ تھا کہ جاپانی وسائل نقل و حمل کو فوجیں اتارنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا جائے مگر یہ حکم فیصلے کی شدید غلطی ثابت ہوا۔ بیڑے کو فضائی حفاظت کے بغیر دشمن کے پانیوں میں لے جانا بحری تدابیرکے بنیادی اصول کی صریح خلاف ورزی تھی۔ اصول یہ تھا کہ کسی بڑے جنگی جہاز کو خاصی فضائی حفاظت کے بغیر ایسی جگہ نہ لے جاؤ جہاں دشمن کی فضائی قوت قریب ہو۔ برطانوی بیڑا شمالی جانب روانہ ہوا۔ وہ ساحل ملایا سے صرف 50 میل اور سنگاپور سے صرف ڈیڑھ سو میل تھا۔ دیکھ بھال کرنے والے جاپانی جہازوں نے اس کا سراغ لگا لیا۔ اس کے بعد جو ڈرامہ ہوا، اسے ایک جاپانی نامہ نگار نے یوں بیان کیا: ’’ہمارے طیارے ان سمندروں کی دیکھ بھال کے لیے پرواز کرتے رہے جو جزائر انمبا کے مشرقی ساحل سے آگے ہیں۔ افق پر دھوئیں کے سیاہ بادل دیکھے گئے۔ خوب دیکھ بھال کے بعد واضح ہو گیا کہ یہ دھواں دشمن کے بیڑے کا ہے جس میں ’’پرنس آف ویلز‘‘ اور ریپلس شامل تھے۔ لاسلکی کے ذریعے سے ہمارے بمبار جہازوں کو خبر بھیج دی گئی اور بتا دیا گیا کہ دشمن کا بیڑا کہاں ہے۔ یہ پیغام ملتے ہی جاپانی بمبار طیارے ایک بڑی قطار میں اڑے۔ ان کے ساتھ تارپیڈو بھی تھے۔ انہوں نے موسم کی خرابی کا کچھ خیال نہ کیا۔ برطانوی بیڑا دیکھ لیا۔ بیڑے کو بھی غالباً ہماری کوشش کا پتا چل گیا تھا اور اس نے دھوئیں کے تاریک بادلوں میں 30 بحری میل کی رفتار سے خم کھا کر چلنا شروع کیا۔ شفق پھول رہی تھی اور ہمارے لیے بیڑے کا سراغ لگانا مشکل ہو گیا تھا، لہٰذا ہم ناقابلِ اظہار افسوس کے ساتھ اپنے مرکزوں کی طرف جانے پر مجبور ہو گئے۔‘‘ دوسری صبح کو جاپانی بمبار پھر اڑے۔ وہ 10 ہزار فٹ کی بلندی پر ایک قطار میں تھے اور سورج کی روشنی میں چمک رہے تھے۔ سوا 11بجے سے سوا گھنٹے تک جاپانی پائلٹوں نے انتہائی ہوشیاری اور عزم کے ساتھ حملہ جاری رکھا۔ بڑے بڑے بم بھی گرائے اور تارپیڈو بھی چھوڑے۔ بڑے بم براہ راست دو مرتبہ جہازوں پر گرے۔ پھر نو نو طیاروں کی تین قطاروں نے پے درپے تارپیڈو چھوڑے، جو برطانوی جہازوں کے بازوؤں میں لگے۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ کتوں کا ایک غول ہرن کے دو زخمی بچوں کو بہت بری طرح پھاڑ رہا ہے۔ ’’پرنس آف ویلز‘‘ اور ریپلس میں سے کسی میں بھی دھماکہ نہ ہوا۔ دونوں میں براہ راست تارپیڈو لگے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں جہازوں کے تین ہزار آدمیوں میں سے دو ہزار بچ رہے۔ یہ حادثہ اور پرل ہاربر کے برابر درد ناک تھا۔ جنگ سے پیشتر ماہرین نے بڑے جنگی جہازوں کی قدروقیمت کو محل نظر قرار دیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ فضائی دور میں یہ جہاز جلد تباہ ہو سکتے ہیں۔ اب اس بارے میں شبہات اور زیادہ بڑھ گئے۔ دو بڑے ڈریڈناٹوں کے ڈوبنے سے یہ رائے بدلنی پڑی کہ جاپان پر جلد اور بآسانی فتح حاصل کی جا سکے گی۔ سنگاپور بچنے کی کوئی صورت نہ تھی۔ چرچل نے دارالعوام کے سنجیدہ ارکان کے روبرو تقریر کرتے ہوئے کہا: مجھے پوری زندگی میں ایسی کوئی بحری ضرب یاد نہیں جو اتنی شدید اور اس درجہ المناک ہو، جیسا گزشتہ دو شنبہ کو ’’پرنس آف ویلز‘‘ اور ریپلس کی غرقابی ہے۔ یہ دو وسیع اور طاقتور جہاز جاپانی خطرے کے مقابلے کے لیے … جو گزشتہ چند مہینوں میں ہمارے خلاف نمایاں ہوا… ہمارے منصوبے میں اہم حیثیت رکھتے تھے… مسلسل فضائی حملوں نے یہ مقصد حاصل کر لیا۔ دونوں جہاز ڈوب گئے۔ حملہ آوروں میں سے صرف سات ہوائی جہاز برباد کیے جا سکے۔ جنوبی بحرالکاہل کے اس واقعے نے مشرق بعید کا پورا نقشہ بدل دیا۔ یہ بھاری ضرب تھی اگرچہ ناقابل تلافی نہ تھی اور اس نے اتحادیوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔