PDA

View Full Version : بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے



تانیہ
12-22-2010, 12:19 AM
بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول، زباں اب تک تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول، کہ جان اب تک تیری ہے
دیکھ کہ آہن گر کی دوکان میں
تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن
کھلنے لگے قفلوں کے دھانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن
بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول، کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول، جو کچھ کہنا ہے کہہ لے
شاعر فیض احمد فیض

این اے ناصر
03-31-2012, 01:42 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ