PDA

View Full Version : بے دم ہوئے بیمار، دوا کیوں*نہیں*دیتے



تانیہ
12-22-2010, 12:20 AM
بے دم ہوئے بیمار، دوا کیوں*نہیں*دیتے
تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں*نہیں*دیتے
درد شب ہجراں کی جزا کیوں نہیں دیتے
خوں دل وحشی کا صلا کیوں* نہیں* دیتے
مٹ جائے گی مخلوق خدا تو انصاف کرو گے
منصف ہوتو حشر اٹھا کیوں* نہیں* دیتے
ہاں نکتہ ورو لاؤ لب و دل کی گواہی
ہاں نغمہ گرو ساز صدا کیوں* نہں*دیتے
پیمانِ جنوں ہاتھوں کو شرمائے گا کب تک
دل والو، گریباں کا پتا کیوں نہیں* دیتے
بربادی دل جبر نہیں*فیض کسی کا
وہ دشمن جاں*ہے تو بھلا کیوں*نہیں*دیتے
شاعر فیض احمد فیض

این اے ناصر
04-03-2012, 01:35 PM
واہ بہت خوب ۔ شئیرنگ کا شکریہ