PDA

View Full Version : قدیم لکھنؤ کی عمارتیں اور باغات



حبیب صادق
12-17-2019, 02:47 AM
قدیم لکھنؤ کی عمارتیں اور باغات
http://www.oururdu.com/forums/index.php?attachments/upload_2019-12-17_2-45-56-jpeg.42837/&temp_hash=cf42f4b7f648fc39bbe7413800103f1a
مرزا جعفر حسین
قدیم لکھنؤ کو باغوں اور مرغزاروں کا شہر کہا جاتا تھا۔ فرمانروایانِ اودھ کو خوشنما باغات لگانے اور بلند و بالا، حسین و جمیل، مستحکم و استوار عمارتیں بنوانے کا بہت شوق تھا۔ آصف الدولہ نے لکھنؤ آتے ہی اپنے عالیشان محل موسومہ ’’دولت خانہ‘‘ میں اقامت فرمائی تھی۔یہ محل مچھی بھون قلعہ کے نزدیک تیار کرایا گیا تھا۔ مچھی بھون کا قلعہ مسمار ہو گیا لیکن ’’دولت خانہ‘‘ درودیوارِ شکستہ کی شکل میں موجود ہے اور شیش محل کے نام سے موسوم ہے۔ اس محل کی عظمتِ پارینہ کے نشانات بیسویں صدی کی دوسری دہائی تک واضح تھے۔ نوابانِ شیش محل کے مورثِ اعلیٰ نواب حکیم مہدی کو غازی الدین حیدر کے دربار میں تقرب حاصل تھا۔ ان کا محل چار باغ میں اس مقام پر تھا جہاں ریلوے اسٹیشن قائم ہوا۔ اس اسٹیشن کی تعمیر کے لیے حکیم مہدی کی املاک حاصل کی گئی تھیں اور بالعوض شیش محل دیا گیا تھا۔ یہ محل دولت خانۂ آصفی کا ایک حصہ تھا۔ آصف الدولہ کو سیروشکار کا شوق تھا۔ اس ذوق کی آسودگی کے لیے انہوں نے ببیا پور میں ایک محل بنوایا تھا اور چنہٹ میں ایک کوٹھی موسومہ نزہت بخش تعمیر کرائی تھی۔ بیسویں صدی کے اوائل تک ان عمارتوں کے آثار موجود تھے۔ امتدادِ زمانہ سے ان پر کیا گزری، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ اس جلیل القدر حکمران کی ممتاززمانہ یادگاریں بڑا امام باڑہ اور رومی دروازہ اب تک موجود ہیں۔ آصف الدولہ اپنے اسی امام باڑے میں مدفون ہیں۔ آصف الدولہ کے زمانے کا ایک باغ موسومہ عیش باغ بھی تھا جس کی تعریفیں راقم نے اپنے بزرگوں سے سنی تھیں لیکن وہاں ایک بڑا محلہ آباد ہو گیا۔ اسی زمانے کی یادگاریں لامارٹیز کی عمارتیں بھی ہیں جن میں مارٹن صاحب کی کوٹھی عجائبات میں شمار کی جاتی تھی۔ آصف الدولہ کو یہ عمارت اتنی پسند آئی تھی کہ انہوں نے فی الفور خریداری کا ارادہ کر لیا تھا لیکن قیمت کے سلسلے میں ہنوز گفتگو جاری تھی کہ نواب کا انتقال ہو گیا۔ مارٹن کی یادگار لامارٹیز کالج انگریزوں کے زمانے میں اپنے شباب پر تھا اور بڑی شہرت کا مالک تھا۔ سعادت علی خاں نے اپنے دورِ اقتدار میں غالباً تعداد کے اعتبار سے بہت زیادہ عمارات بنوائی تھیں۔ خود اپنی اقامت کے لیے فرحت بخش اور حیات بخش کوٹھیاں تعمیر کرائی تھیں۔ لال بارہ اپنے دربار کے لیے تعمیر کرائی تھی اور ٹیڑھی کوٹھی انگریز ریذیڈنٹ کی سکونت کے لیے بنوائی تھی۔ غدر (1857ء)کے بعد یہ عمارات بھی انگریزی حکومت کے قبضے میں آ گئی تھیں۔ ان عمارات کے علاوہ سعادت علی خاں نے دریا پار دل آرام کوٹھی، دل کشا کوٹھی تعمیر کرائی تھی اور موتی محل کی اصل عمارت بھی انہیں کی حیات میں مکمل ہو چکی تھی۔ دل آرام کوٹھی اور دل کشا کوٹھی کے نمایاں آثار چند دہائیاں قبل تک موجود تھے۔ موتی محل کی تکمیل غازی الدین حیدر نے کر دی تھی۔ متذکرہ بالا عمارات کے علاوہ کوٹھی نور بخش اور خورشید منزل بھی سعادت علی خاں ہی کی طرف منسوب تھیں اور چار باغ بھی انہیں کا لگوایا ہوا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہاں ایک دوسرے سے متصل چار باغ تھے۔ اسی لیے یہ نام دیا گیا۔ اودھ کے حکمرانوں کو اپنے گھوڑوں کے لیے بھی عالیشان عمارات بنوانے کا ذوق تھا۔ سعادت علی خاں نے چوپڑ اصطبل بنوایا تھا جو بڑی شہرت کا مالک تھا۔ واجد علی شاہ کے دور میں سلاخوں والا اصطبل مشہور تھا۔ غدر کے بعد اسی اصطبل میں دیوانی کچہری قائم ہوئی تھی۔ اس عمارت کا کوئی نشان باقی نہیں ہے۔ سعادت علی خاں نے اپنے مقبرہ کا کوئی انتظام اپنی زندگی میں نہیں کیا تھا۔ وفات کے بعد وہ اسی علاقے میں مدفون ہوئے جہاں ان کی بیگم کا مزار ہے۔ یہ عمارت ان کے جانشین غازی الدین حیدر نے بنوائی تھی۔ یہ پہلے حکمران تھے جنہوں نے دلی کی سلطنت سے خودمختاری کا اعلان کر دیا تھا۔ ان کی بہترین اور ممتازِ زمانہ تعمیر شاہ نجف ہے جو حضرت علیؓ کے مزارِ مبارک کی اصل شبیہہ ہے۔ بادشاہ اور ان کی بیگم اسی عمارت میں مدفون ہیں۔ غازی الدین حیدر کے بعد نصیرالدین حیدر سریر آرائے سلطنت ہوئے تھے، انہوں نے حضرت گنج کے علاقے کی بنیاد ڈالی تھی اور خود اپنے لیے ایک کربلا ڈالی گنج پار بنوائی تھی جہاں وہ مدفون ہیں۔ آخری تین تاجدار محمد علی شاہ، امجد علی شاہ اور واجد علی شاہ تھے۔ محمد علی شاہ کی تعمیر کردہ امام بارگاہ جو چھوٹا امام باڑہ کے نام سے موسوم ہے اور جہاں وہ خود مدفون ہیں انتہائی خوبصورت اور سجی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنی حیات میں اس امام بارگاہ کی فلاح کا مکمل انتظام کر دیا تھا البتہ محلِ وقوع میں نظارگی کا جو حسن و جمال بادشاہ نے اس میں پیدا کرنا چاہا تھا وہ پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا اور ان کا انتقال ہو گیا۔ اس کے ایک جانب عالیشان اوربہت خوبصورت مسجد ہے۔ بادشاہ نے دوسری جانب ست کھنڈا تعمیر کرانے کا ارادہ کیا تھا۔ ایک کے اوپر دوسری منزل اور ساتویں منزل کے اوپر عالیشان قبہ بن جاتا تو امام بارگاہ کا حسن دوبالا ہو جاتا لیکن چند منزلوں سے زیادہ عمارت نہیں بن سکی۔ امجد علی شاہ کی زیادہ تر توجہ حضرت گنج کے علاقے پر مبذول رہی۔ وہاں کی پرانی عالیشان عمارتیں انہیں کی مہربانی کا نتیجہ تھیں اور سبطین آباد کا عظیم المرتبت علاقہ انہیں کی بدولت معرضِ وجود میں آیا تھا۔یہاں ان کی ابدی خواب گاہ ہے جس کا احترام کرتے ہوئے ان کے بعد ان کے جانشین واجد علی شاہ نے یہ تمام عمارات بنوائی تھیں لیکن بعدازاں سبطین آباد کی حالتِ زار کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ اچھا ہوا واجد علی شاہ اس سرزمین پر دفن نہیں ہوئے۔ اس آخری تاجدار نے چھتر منزل اور قیصر باغ کی عمارات اپنی مایہ ناز یادگاریں چھوڑی تھیں۔ ایک کو چھوٹی چھتر منزل کہا جاتا ہے اور غفلت و جہالت کی بدولت منہدم ہو گئی۔ اصلی چھتر منزل انگریزوں کے دور میں یونائٹیڈ سروس کلب کے استعمال میں آتی تھی۔ قیصر باغ کی عمارتیں اودھ کے تعلقداروں کو تقسیم کر دی گئی تھیں۔ وسط قیصر باغ میں سفید بارہ دری ہے جس کا نام بادشاہ نے ’’قصرعزار‘‘ رکھا تھا۔ یہاں تعلقدارانِ اودھ کی انجمن کا دفتر ہے اور بڑی حد تک اچھی حالت میں ہے لیکن میں نے اپنے بزرگوں سے سنا تھا کہ وہ چھوٹی سنگِ مرمر کی سفید بارہ دری جو بنارسی باغ میں نصب ہے ابتداً قیصر باغ ہی میں تھی اور جو چاروں پتھروں والے پریوں کے مجسمے وہاں ہیں وہ بھی اسی بارہ دری کے چاروں جانب نصب تھے۔ واجد علی شاہ بیشتر راتوں کو موسمِ گرما میں اسی چھوٹی بارہ دری میں آرام فرما لیتے تھے۔ سلطنت کے خاتمے کے بعد راتوں کو بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو جاتے تھے اور آنے والے زاروقطار روتے تھے لہٰذا انگریزی حکومت نے اس بارہ دری کو بنارسی باغ منتقل کر دیا جہاں شہریوں کا پہنچنا دشوار ہو گیا تھا۔ شاہانِ اودھ سے متعلق مندرجہ بالا تاریخی پسِ منظر یہ واضح کرتا ہے کہ آصف الدولہ کے بعد ان کے جانشینوں نے وسط لکھنؤ کے علاقوں کو ترقی دینے کی کوشش کی تھی۔ شہر کے باغات اور مرغزار انہیں ناموں تک ختم نہیں ہوتے جو متذکرہ بالا پیش کیے گئے ہیں۔ بیسویں صدی کے وسط تک عالم باغ، صفدر باغ، سندرباغ، بندریا باغ، ڈالی باغ، بنارسی باغ، سکندر باغ، کمپنی باغ اور دیگر چند باغات کا تفریح گاہوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس زمانے میں روسا، شرفا، عوام اور تمام شہری علاوہ تاجروں اور دکانداروں کے شام کو ہوا خوری کے لیے نکلتے تھے۔ ہر محلے میں یا اس کے قریب کوئی بڑا باغ یا مرغزار تھا۔