PDA

View Full Version : جگر مرادآبادی...کلاسیکل شاعری کا بڑا نام



حبیب صادق
12-25-2019, 03:55 AM
جگر مرادآبادی...کلاسیکل شاعری کا بڑا نام
http://www.oururdu.com/forums/index.php?attachments/upload_2019-12-25_3-52-40-jpeg.42937/&temp_hash=315484308b4b1fd0a8d9984eaac01b19
فرید احمد
جگر مرادآبادی اپنے عہد کے ایک عظیم و نامور شاعر تھے، اصل نام علی سکندر اور تخلص جگر مراد آبادی تھا، اتر پردیش کے شہر مرادآباد میں 16پریل 1898ء میں پیدا ہوئے،اورآپ کی وفات 9ستمبر 1960ء کوگونڈا میں ہوئی،جگر صاحب کے متعلق حق ہے کہ یہ کہا جائے غالب و مومن کے بعد وہ روایتی غزل گوئی جس کی بنیاد فارسی تغزل، نزاکت خیال اور معاملہ بندی پر پڑی تھی، وہ حسرت و جگر پر ختم ہوگئی، اور ان میں سب سے آخر جگر ہی رہ گئے تھے، جو ادبی حلقوں کے ملک الشعرائی کا حق رکھتے تھے، اور لکھنوء تو ان کے نام سے بخوبی واقف تھا، بلکہ ان کے نام کا شور و غوغا تھا، ان کی شاعری و خوش نوائی کی دھوم مچی ہوئی تھی، اسی لئے تو شوکت تھانوی کا یہ بلیغ اور معنی خیز جملہ مشہور ہے ’’ ایک دنیا کی دنیا جگر کی مریض تھی‘‘۔ لیکن افسوس کہ ایسے بھلے آدمی کو مے نوشی کی لت کہاں سے پڑ گئی تھی، یہ کہنا مشکل ہے۔ ان سب کے درمیان ان کے دل نے پاسبانی نہ چھوڑی، یہ غالبا ان کے شریف النسب اور فطرت اصلی کی خوبی تھی، اور یہ کہ وہ جوانی میں حضرت اصغر گونڈوی کی تحریک سے قاضی عبد الغنی منگلوری سے بیعت ہوگئے تھے، جن کا سلسلہ حضرت مہاجر امداد اللہ مکیؒ سے جا ملتا تھا، اس تعلق نے اثر کئے بغیر نہ چھوڑا، بالاآخر اس نے جگر صاحب کو بزم خرافات سے نکال کر اہل دل کی صف میں بٹھا دیا اور اس چیز کو جس کے متعلق کسی کہنے والے نے کہا ہے، ہمیشہ کیلئے چھڑا دیا: اے ذوق دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگا، چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی جگر صاحب کی ایک بہت بڑی خاصیت یہ تھی کہ ان کی تلخ نوائی اورآشفتہ بیانی بھی گوارا کر لی جاتی تھی، جس وقت بے اطمینانی و مایوسی کا صاف اظہار اور آزادی کے چشمہ رواں کے سراب ہونے کا اعلان جرم سمجھا جاتا تھا، اس وقت نہ صرف آپ اپنی بات کہہ جاتے تھے؛ بلکہ آپ تو داد بھی وصول کر لیا کرتے تھے، ذرا ان اشعار کو دیکھئے! چمن چمن ہی نہیں جس کے گوشہ گوشہ میں کہیں بہار نہ آئے کہیں بہار آئے یہ میکدہ کی، یہ ساقی گری کی ہے توہین کوئی ہو جام بکف کوئی شرمسارآئے خلوص و ہمت اہل چمن پہ ہے موقوف کہ شاخ خشک بھی پھر سے برگ و بار آئے دراصل یہ بھی سمجھنے کی چیز ہے کہ اگر ایک شاعر ان حدود سے تجاوز کرے، اور اشارے و کنایہ کا پردہ اٹھا کر صاف صاف کہنے لگے تو پھر وہ شاعر نہیں؛ بلکہ محتسب اور سیاسی رہنما بن جاتا ہے، اس لئے اس سے زیادہ صراحت اور بلندآہنگی، ایک شاعر کو زیب نہیں دیتی اور جگر صاحب ادب وشاعری کے اندر حدود و اداب سے خوب واقف تھے۔ حضرت جگر مرادآبادی کی انہی سوزشوں کو علما نے خوب سراہا ہے، بالخصوص اس سلسلہ میں سیدی ابوحسن علی ندوی رحمہ اللہ کا ذکر ناگزیر ہے جو کہ آپ کیلئے سند عالی کی حیثیت رکھتا ہے،مفکر اسلام حضرت مولانا سیدی ابوالحسن علی ندوی ؒ جگر مرادآبادی مرحوم سے بڑا گہرا جذباتی تعلق رکھتے تھے، بلکہ دونوں صاحبان کے دل کی تپش یکساں تھی، جگر صاحب جب بھی لکھنو ٔ تشریف لاتے، تو وہ خود مولانا کے پاس حاضر ہوتے اور اپنے منتخب اشعار سناتے، مولانا اپنی پسندیدہ نظم و غزل کا مطالبہ بھی کرتے تھے جسے وہ بنا کسی ناز بردار کئے پیش کرتے تھے، کہتے ہیں کہ ایک شاعر کو اپنا ہر کلام ایسا ہی عزیز ہوتا ہے؛ جیسے باپ کو اپنی اولاد، جس میں ایک دوسرے کو ترجیح دینا تعلق اور جذبہ فطری کی توہین ہے، لیکن جگر صاحب کا معاملہ حضرت مولانا کے ساتھ بہت مخلصانہ تھا، اس سلسلہ میں وہ غایت درجہ ایثار اور بے نفس ثابت ہوئے تھے، حضرت مولانا اور جگر صاحب کے درمیان خط و کتابت بھی ہوئی، اور کئی مواقع پر ہوئی جن کا مطالعہ یہ بتلاتا ہے کہ یہ دونوں گہرے دوست تھے۔ جب ان کا انتقال ہوا تو اگرچہ جگر صاحب کی شہرت تھی اور خاص طور پر اودھ میں دھوم دھام تھی تب بھی صرف چارلوگ لکھنؤ سے گونڈہ نماز جنازہ میں شرکت کیلئے پہنچے تھے جن میں حضرت مولانا بھی شریک تھے۔ یہ تعلق ہی کی بات ہے کہ حضرت مولانا نے جگر صاحب کے اشعار کو تحریر و تقریر میں خوب استعمال کیا ہے، آپ مرحوم ’’آتش گل‘‘ کے یہ دو شعر بہت پسند کیا کر تے تھے، آتا ہے جو بزم جاناں میں پندار خودی کی توڑ کے آ اے ہوش و خرد کے دیوانے، یاں ہوش و خرد کا کام نہیں دوسرا شعر یہ ہے، پینے کو تو سب پیتے ہیں جگر میخانہ فطرت میں لیکن محروم نگاہ ساقی ہے، وہ رند جو دور ائے شام نہیں مولانا کی دوسری پسندیدہ غزل چھوٹی بحر میں ہے لیکن اس میں غضب کی شوخی اور روانی ہے، کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشن لاکھ بلائیں ایک نشیمن یہ دو شعر تو ضرور سنیے! کامل رہبر قاتل رہزن دل سا دوست نہ دل سا دشمن عشق ہے پیارے کھیل نہیں عشق کارے شیشہ و آہن